اداریہ
موجودہ عالمی جنگی فضا میں امریکہ کا کردار نہایت اہم اور
بحث طلب بن چکا ہے۔ ایک جانب وہ خود کو عالمی امن کا ضامن اور جمہوریت کا علمبردار قرار دیتا ہے، تو دوسری جانب اس کی پالیسیاں اور اقدامات کئی خطوں میں کشیدگی کو بڑھانے کا سبب بھی بنے ہیں۔ یہی تضاد عالمی سیاست میں امریکہ کی ساکھ اور نیت پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔
امریکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی معاملات میں براہِ راست یا بالواسطہ مداخلت کرتا رہا ہے۔ چاہے وہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں ہوں، افغانستان میں طویل فوجی موجودگی، یا یوکرین تنازع میں اس کی حمایت—ہر جگہ امریکہ نے اپنے اسٹریٹجک مفادات کو مقدم رکھا۔ ناقدین کے مطابق، ان پالیسیوں نے بعض اوقات امن کے بجائے عدم استحکام کو جنم دیا ہے۔
تاہم، یہ پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ امریکہ عالمی معیشت، دفاعی اتحادوں اور انسانی امداد میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ نیٹو جیسے اتحاد اس کی قیادت میں کام کرتے ہیں، اور کئی ممالک اپنی سلامتی کے لیے امریکہ پر انحصار کرتے ہیں۔ اس تناظر میں امریکہ کا کردار مکمل طور پر منفی یا مثبت قرار دینا حقیقت کا سادہ جائزہ ہوگا۔
اصل مسئلہ امریکہ کی پالیسیوں میں توازن اور شفافیت کا ہے۔ اگر وہ واقعی عالمی امن کا خواہاں ہے تو اسے طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتکاری، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور دیگر ممالک کی خودمختاری کے احترام کو ترجیح دینا ہوگی۔
دنیا ایک نازک دور سے گزر رہی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ بڑے تصادم کو جنم دے سکتا ہے۔ ایسے میں امریکہ سمیت تمام بڑی طاقتوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دنیا کو جنگ کے بجائے امن کی طرف لے جائیں۔ بصورت دیگر، عالمی عدم استحکام کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے، جس کے اثرات سے کوئی بھی ملک محفوظ نہیں رہے گا

