اوتھل (این این آئی) حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے تحت دینی مدارس کے خلاف کریک ڈاؤن اور تالہ بندی کے خلاف 6 مئی بروز بدھ کو مجوزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کو کامیاب بنانے کے لیے جمعیت علماء اسلام مدنی یونٹ حلقہ اوادان اور اوتھل سٹی کے یونٹس، منتظمین مدارس اور جمعیت سے وابستہ تاجر رہنماؤں کا ایک اہم مشترکہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس کی صدارت مدنی یونٹ کے امیر و ضلعی جنرل سیکریٹری جمعیت علماء اسلام ضلع لسبیلہ مولانا عبد الحمید عارف نے کی۔اجلاس میں حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا گیا کہ دینی مدارس کے خلاف جاری کردہ تمام نوٹسز فوری طور پر واپس لیے جائیں، اور 1860ء کے سوسائٹی ایکٹ، جو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہو چکا ہے، کو بلوچستان اسمبلی میں پیش کر کے منظور کیا جائے۔ بصورت دیگر 6 مئی بروز بدھ کو پورے صوبے میں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ 6 مئی کو ضلع لسبیلہ کے صدر مقام اوتھل میں بھی مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔احتجاجی ریلی صبح 8 بجے لاکھڑا موڑ سے شروع ہو کر مین قومی شاہراہ اور بازاروں کا گشت کرے گی اور کراچی بس اسٹاپ پر پہنچ کر جلسے کی شکل اختیار کرے گی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ اس احتجاجی تحریک کو تمام مکاتبِ فکر کے علماء، وکلاء برادری، ٹیچر ایسوسی ایشن، سول سوسائٹی اور تاجر برادری کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ دیوبندی اور بریلوی مکاتبِ فکر سمیت مختلف مسالک کے علماء پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو انجمن تاجران کے رہنماؤں سے ملاقات کر کے شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حکمت عملی طے کرے گی۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پورے شہر میں دکانوں پر پمفلٹس تقسیم کیے جائیں گے اور لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اعلانات کر کے شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کو کامیاب بنانے کی اپیل کی جائے گی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ مدارس ہماری ریڈ لائن ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدارس قوم کا مشترکہ اثاثہ ہیں اور عوام مدارس کی خودمختاری اور ان کے دینی نصاب میں کسی بھی سرکاری مداخلت کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔انہوں نے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے اپیل کی کہ وہ 6 مئی کی شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے میں بھرپور شرکت کریں اور دینی اداروں سے اپنی وابستگی اور محبت کا عملی اظہار کرتے ہوئے اس احتجاج کو کامیاب بنائیں۔

