کاروکاری کوئی روایت نہیں بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری

کراچی(رپورٹر ) چیئرپرسن سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا ہے کہ کاروکاری جیسے مکروہ اور غیر انسانی عمل کے خاتمے کے لیے مؤثر قانون سازی، سخت عملدرآمد اور ادارہ جاتی جوابدہی ناگزیر ہے، تاکہ اس جرم میں ملوث عناصر کو کسی بھی صورت سزا سے بچنے کا موقع نہ مل سکے۔ یہ بات انہوں نے کراچی پریس کلب میں منعقدہ ایک اہم اجلاس بعنوان ”کاروکاری: اس رسم کو دفن کریں“ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس کا انعقاد”دخترانِ کراچی“ نے کیا، جو متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کا ایک پلیٹ فارم ہے، جبکہ اس کی صدارت نسرین جلیل نے کی۔ سیشن میں قانون سازوں، قانونی ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے سیشن میں بھرپور شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا، جسے شرکاء نے بے حد سراہا۔ شرکاء نے موضوع سے متعلق ان کی کاوشوں اور مؤقف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ انسانی حقوق، خصوصاً خواتین کے تحفظ کے لیے موثر آواز بلند کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاروکاری کوئی روایت نہیں بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس کے تحت خواتین کو غیرت کے نام پر غیر قانونی طور پر قتل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے ایسے واقعات میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا، جن میں روبینہ چانڈیو کا واقعہ اور گزشتہ چار ماہ کے دوران سندھ میں 34 خواتین کے قتل کی رپورٹس شامل ہیں جو تحفظ اور قانون کے نفاذ میں موجود سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ انہوں نے بلوچستان میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کی جس میں مبینہ طور پر ایک کمسن بچی کو زندہ دفن کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ جاگیردارانہ اور مردانہ بالادستی پر مبنی نظام کی عکاسی کرتا ہے جبکہ بااثر عناصر کے دباؤ کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی نہایت تشویشناک ہے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی سیاسی یا سماجی دباؤ کے بغیر مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے اور خواتین کے وقار، تحفظ اور بنیادی حقوق کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ دخترانِ کراچی جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے اس غیر انسانی رسم کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں