شیرمیسور،ٹیپو سلطان ایک شہادت، ایک نظریہ، اور ہماری اجتماعی غفلت

تحریر:کیپٹن (ر)محمد رقیب خان

(یوم شہادت کی مناسبت سے خصوصی تحریر)
چار مئی برصغیر کی تاریخ کا وہ المناک مگر عظیم دن ہے جب ایک ایسا مردِ مجاہد اس دنیا سے رخصت ہوا جس نے غلامی کے اندھیروں میں آزادی کی شمع روشن رکھی۔ ٹیپو سلطان کی شہادت محض ایک بادشاہ کا خاتمہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے نظریے کا اعلانِ دوام تھا جو آج بھی زندہ ہے،وہ نظریہ جس کی بنیاد عزت، خودداری اور مزاحمت پر ہے۔1799یعنی 227سال پہلے یہ دن برصغیر کی تاریخ کا وہ دن ہے جب ایک ایسا سورج غروب ہوا جس کی روشنی آج بھی غیرت، آزادی اور مزاحمت کے افق پر چمک رہی ہے۔ ٹیپو سلطان کی شہادت محض ایک حکمران کی موت نہیں تھی، بلکہ ایک فکر، ایک نظریہ اور ایک جرات مند مزاج کی علامت تھی جو غلامی کے ہر تصور کو للکارتی ہے۔یہ وہ عہد تھا جب برصغیر میں اقتدار کی کشمکش اپنے عروج پر تھی اور انگریز اپنی چالاکیوں، سازشوں اور مقامی غداروں کی مدد سے اپنی جڑیں مضبوط کر رہے تھے۔ ایسے میں ایک مردِ مجاہد سینہ تان کر کھڑا ہوا اور اس نے اعلان کیا کہ“شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔”یہ الفاظ صرف ایک جملہ نہیں، بلکہ ایک مکمل نظریہ حیات تھے،ایسا نظریہ جو عزت کو بقا پر ترجیح دیتا ہے۔

میسور کی سرزمین پر لڑی جانے والی سرنگاپٹنم کی جنگ، دراصل صرف ایک فوجی معرکہ نہیں تھا بلکہ یہ غیرت اور غلامی کے درمیان فیصلہ کن ٹکراؤ تھا۔ جب قلعہ ٹوٹ رہا تھا، جب در و دیوار لرز رہے تھے، تب بھی شیرِ میسور نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا۔ وہ زخمی ہوا، لہولہان ہوا، مگر جھکا نہیں۔ اس کے ہاتھ سے تلوار چھوڑی جا سکتی تھی، مگر اس کی روح سے آزادی کا جذبہ نہیں نکالا جا سکا۔جب قلعہ سرنگاپٹنم کی فصیلیں ٹوٹ رہی تھیں، جب ہر طرف بارود اور آگ کا راج تھا، تب بھی ٹیپو سلطان نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا۔ وہ چاہتا تو جان بچا سکتا تھا، معاہدہ کر سکتا تھا، مگر اس نے وہ راستہ چنا جو تاریخ میں امر ہونے کا راستہ تھا۔ زخمی جسم، لہولہان لباس، مگر ہاتھ میں تلوار اور دل میں آزادی کا عزم،یہی وہ منظر تھا جس نے دشمن کو بھی لرزا دیا۔اور پھر وہ لمحہ آیا جب شیرِ میسور زمین پر گر پڑا، مگر اس کا وقار نہیں گرا۔ اس کی شہادت کے بعد جو منظر سامنے آیا، وہ تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا۔ رات کی تاریکی میں انگریز سپاہی میدانِ جنگ میں اس عظیم مجاہد کی لاش تلاش کر رہے تھے۔ ہر چہرہ خوف اور حیرت کا آئینہ دار تھا، جیسے ابھی بھی وہ کسی لمحے اٹھ کر دھاڑ مارے گا۔ جب آخرکار اس کی نعش وفادار سپاہیوں کے ڈھیر تلے ملی، تو وہ منظر کسی عام سپاہی کا نہیں بلکہ ایک عہد کے خاتمے کا تھا۔
مورخین نے لکھاہے کہ جب دشمن کمانڈر اس کے قریب پہنچا تو اس نے اس کی تلوار سے اسے پہچانا—وہ تلوار جو آخری لمحے تک اس کے ہاتھ سے جدا نہ ہو سکی۔ یہ محض ایک ہتھیار نہیں تھا، بلکہ اس کے عزم، غیرت اور مزاحمت کی علامت تھی۔ دشمن نے بھی اس کی بہادری کو تسلیم کیا اور اسے فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کرنے کا حکم دیا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں فاتح بھی سر جھکانے پر مجبور ہو گیا۔مگر اس تمام منظر میں ایک اور حقیقت بھی تھی،وہ تلخ حقیقت جس کا تعلق اندرونی غداری سے تھا۔ میر صادق، غلام علی اور دیگر عناصر کی سازشوں نے دشمن کے لیے راستہ ہموار کیا۔ وہ لوگ جو سلطان کے دسترخوان پر پلتے تھے، اسی کے خلاف صف آراء ہو گئے۔ جب میدان میں خون بہہ رہا تھا، تب یہ غدار فتح کے جام اٹھا رہے تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بیرونی دشمن سے زیادہ خطرناک اندرونی غدار ہوتے ہیں، اور میسور کی شکست اس کی واضح مثال ہے۔
ٹیپو سلطان کی تدفین کا منظر بھی کسی داستان سے کم نہیں تھا۔ جیسے ہی قبر کھودی جانے لگی، آسمان سیاہ بادلوں سے ڈھک گیا، بجلیاں کوندنے لگیں اور بارش اس شدت سے برسنے لگی جیسے فضا بھی اس عظیم سانحے پر نوحہ کناں ہو۔ لاکھوں لوگ، بلا تفریق مذہب و ملت، اپنے محبوب حکمران کو آخری الوداع کہنے کے لیے امڈ آئے۔ یہ وہ محبت تھی جو کسی جبر سے نہیں بلکہ عدل، بہادری اور خلوص سے حاصل ہوتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب اس عظیم مجاہد کی نعش ملی تو وہ اپنے وفادار سپاہیوں کے درمیان اسی شان سے پڑی تھی جیسے کوئی چراغ اپنے گرد جلنے والے پروانوں کے درمیان۔ دشمن بھی اس کی بہادری کا معترف ہوا اور اسے فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا۔ مگر اس منظر کا سب سے تلخ پہلو وہ داخلی غداری تھی جس نے ایک مضبوط قلعے کو اندر سے کھوکھلا کر دیا۔ یہ وہ سبق ہے جسے ہم نے شاید آج تک پوری طرح نہیں سیکھا۔
آج کا المیہ یہ ہے کہ ہم ٹیپو سلطان کے قوال”شیرکی ایک دن کی زندگی گیدڑکی سو سالہ زندگی سے بہترہے“ تو دہراتے ہیں، مگر اس کے نظرئیے کو اپنانے سے گریز کرتے ہیں۔ ہم آزادی، خودداری اور وقار کی بات تو کرتے ہیں، مگر عملی طور پر مفادات، مصلحتوں اور وقتی فائدوں کے اسیر بن چکے ہیں۔ جمہوری سیاسی غلامی کا یہ دور ایک نیا چہرہ ضرور رکھتا ہے، مگر اس کی روح وہی پرانی غلامی ہے جس کے خلاف ٹیپو سلطان نے تلوار اٹھائی تھی۔
دو قومی نظریہ، جس نے ایک علیحدہ وطن کی بنیاد رکھی، آج فکری سطح پر کمزور پڑتا دکھائی دیتا ہے۔ ہم نے اسے نصابی کتابوں اور تقریروں تک محدود کر دیا ہے، جبکہ عملی زندگی میں اس کی جھلک کم ہی نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم ایک فکری انتشار کا شکار ہیں۔ہمارے رہنماء نما راہزن جانتے ہیں کہ قومیں صرف جغرافیہ سے نہیں بنتیں، بلکہ نظریات، قربانیوں اور کردار سے بنتی ہیں۔ اور جب تک ہم ان اصولوں کو نہیں اپنائیں گے، تب تک ہم حقیقی معنوں میں آزاد نہیں ہو سکتے۔یہی وجہ ہے وہ مسلمہ دوقومی نظریہ پر اپنے مکرو فریب کے افکار کو اُجاگرکرنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔قائد اعظم کے متوازی،اپنے قائد ین کونمایاں رکھتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں وہ جرات، وہ استقامت اور وہ غیرت کم ہوتی جا رہی ہے کہ ہم زبانی کلامی جمع خرچ میں کافی مہارت رکھتے ہیں،مگردوقومی نظریہ سے کب سے دست کش ہوچکے ہیں،مطلب صاف واضع ہے،کہ شکست وہ نہیں جو میدان میں ہوتی ہے، بلکہ اصل شکست وہ ہے جو نظریات سے دستبرداری کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ اگر کوئی قوم اپنی فکری بنیادوں سے ہٹ جائے تو وہ زندہ ہوتے ہوئے بھی مردہ ہو جاتی ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ ہم ٹیپو سلطان کو محض ایک تاریخی کردار کے طور پر نہ دیکھیں، بلکہ اس کے پیغام کو اپنی اجتماعی سوچ اور قومی پالیسی کا حصہ بنائیں۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم گیدڑ کی طویل مگر ذلت آمیز زندگی چاہتے ہیں یا شیر کی مختصر مگر باوقار حیات۔
آج کا سیاستدان انتخابی مہم میں عوام کے سامنے بڑے بڑے دعوے کرتا ہے، جذباتی نعرے لگاتا ہے، اور خود کو قوم کا نجات دہندہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر اقتدار ملتے ہی وہی شخص عوام سے دور اور مفادات کے قریب ہو جاتا ہے۔ یہ تضاد ہمارے سیاسی نظام کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ ہم نے قیادت کے معیار کو کردار کے بجائے زبان کی چمک اور وعدوں کی خوبصورتی سے ناپنا شروع کر دیا ہے۔اس کے برعکس ٹیپو سلطان کا طرزِ حکمرانی دیکھیں۔ انہوں نے اپنی ریاست کو مضبوط کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، فوج کو منظم کیا، اور بیرونی دشمن کے خلاف مسلسل مزاحمت کی۔ وہ میدانِ جنگ میں اپنے سپاہیوں کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے، نہ کہ محفوظ محلات میں بیٹھ کر فیصلے کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی قیادت میں وفاداری بھی تھی اور قربانی کا جذبہ بھی۔

قوموں کی تاریخ صرف واقعات کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ کرداروں کا آئینہ بھی ہوتی ہے۔ کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جو صدیوں تک راستہ دکھاتے ہیں، اور کچھ ایسے جو وقتی شور تو پیدا کرتے ہیں مگر تاریخ کے اندھیروں میں گم ہو جاتے ہیں۔ آج جب ہم اپنے سیاسی، جمہوری اور سماجی حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک طرف ٹیپو سلطان جیسے کردار کھڑے نظر آتے ہیں اور دوسری طرف ہمارے عہد کے وہ“رہنما”جو الفاظ کے تاجر اور مفادات کے اسیر دکھائی دیتے ہیں۔
ٹیپو سلطان کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان کے خاندانی پس منظر اور ابتدائی زندگی پر بھی نظر ڈالیں۔ 22 نومبر 1750 کو دیوانہ ہالی (موجودہ کرناٹک) میں پیدا ہونے والے فتح علی، جنہیں دنیا ٹیپو سلطان کے نام سے جانتی ہے، ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جہاں جہاد، حکمت عملی اور ریاستی ذمہ داری کا شعور بچپن سے ہی رچا بسا تھا۔ ان کے والد حیدر علی جنوبی ہند کے ایک طاقتور اور باصلاحیت حکمران تھے جنہوں نے اپنی عسکری بصیرت اور سیاسی حکمت عملی سے انگریزوں کے بڑھتے ہوئے تسلط کو کئی دہائیوں تک روکے رکھا۔ ٹیپو سلطان نے اپنے والد کی سرپرستی میں جنگی حکمت عملی، سفارت کاری، اور جدید ٹیکنالوجی—خصوصاً راکٹ سازی—میں مہارت حاصل کی۔ یہی وہ بنیاد تھی جس نے انہیں ایک غیر معمولی سپہ سالار اور مدبر حکمران بنایا۔
یہ بات تاریخ کا حصہ ہے کہ میسور کی ریاست نے تقریباً پچاس سال تک انگریزوں کے سامنے بند باندھ رکھا۔ مگر طاقتور دشمن کے ساتھ ساتھ اندرونی کمزوریاں، درباری سازشیں اور غداری وہ زہر ثابت ہوئیں جنہوں نے اس مضبوط قلعے کو اندر سے کھوکھلا کر دیا۔ سرنگاپٹنم کی جنگ اس طویل جدوجہد کا آخری باب تھی، جہاں ایک طرف سامراجی طاقت اپنی پوری قوت کے ساتھ میدان میں تھی اور دوسری طرف ایک تنہا مگر باوقار سپاہی اپنی آخری سانس تک لڑ رہا تھا۔
سرنگاپٹنم کی جنگ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب ایک سچا لیڈر میدان میں ہوتا ہے تو وہ آخری سانس تک لڑتا ہے۔ ٹیپو سلطان نے ہتھیار ڈالنے کے بجائے شہادت کو ترجیح دی، کیونکہ ان کے نزدیک عزت کی زندگی غلامی کی طویل زندگی سے بہتر تھی۔ آج اگر ہم اپنے سیاسی لیڈروں کو دیکھیں تو کتنے ہیں جو اصولوں کی خاطر اقتدار چھوڑنے کو تیار ہوں؟یہ سوال تلخ ضرور ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ ہم نے قیادت کے معیار کو خود ہی گرا دیا ہے۔ ہم نے ان لوگوں کو لیڈر مان لیا ہے جو ہمیں خواب تو دکھاتے ہیں مگر حقیقت میں کچھ نہیں دیتے۔ ہم نے ان چہروں کو اپنا نمائندہ بنا لیا ہے جو مشکل وقت میں سب سے پہلے غائب ہو جاتے ہیں۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ اس تضاد سے بھری پڑی ہے۔ کبھی مارشل لا، کبھی کمزور جمہوریت، کبھی مفاہمت کی سیاست اور کبھی تصادم کی پالیسی،ان سب کے درمیان عوام ہمیشہ پس منظر میں رہی۔ عوام کو صرف ووٹ کے وقت یاد کیا جاتا ہے اور اس کے بعد انہیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔یہاں سوال صرف سیاستدانوں کا نہیں بلکہ بحیثیت قوم ہمارا بھی ہے۔ ہم کس معیار پر اپنے لیڈر منتخب کرتے ہیں؟ کیا ہم کردار کو دیکھتے ہیں یا نعروں کو؟ کیا ہم اصولوں کو اہمیت دیتے ہیں یا وقتی فائدے کو؟ جب تک ہم خود اپنے معیار کو درست نہیں کریں گے، تب تک قیادت بھی ویسی ہی سامنے آتی رہے گی جیسی آج ہے۔ ٹیپو سلطان نے ثابت کردیا کہ قیادت کا اصل امتحان مشکل وقت میں ہوتا ہے۔ وہ وقت جب مفادات اور اصول آمنے سامنے کھڑے ہوں، تب جو شخص اصول کا ساتھ دے وہی حقیقی لیڈر ہوتا ہے۔ آج ہمیں ایسے ہی کرداروں کی ضرورت ہے، جو قوم کو صرف باتوں سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے راستہ دکھائیں۔جمہوری نظام کی اصل روح احتساب، شفافیت اور عوامی خدمت ہے۔ مگر جب یہ نظام صرف اقتدار کے حصول کا ذریعہ بن جائے تو اس کی روح ختم ہو جاتی ہے۔ آج ہمیں جمہوریت کے نام پر جو کچھ نظر آ رہا ہے، وہ ایک کھوکھلا ڈھانچہ ہے جس میں روح باقی نہیں رہی۔
ہمیں چاہیے کہ اپنے ماضی کے عظیم کرداروں سے سبق سیکھیں اور اپنے حال کو درست کریں۔ ہمیں ایسے لیڈروں کی ضرورت ہے جو مشکل فیصلے کرنے کی ہمت رکھتے ہوں، جو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دیں، اور جو عوام کے سامنے جوابدہ ہوں۔کیونکہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ کردار سے بنتی ہیں۔ اور جب تک ہم کردار کو اپنی ترجیح نہیں بنائیں گے، تب تک ہم حقیقی ترقی اور آزادی حاصل نہیں کر سکتے۔ کیا ہم گیدڑ کی طویل مگر بے وقار زندگی پر اکتفا کریں گے یا شیر کی مختصر مگر باوقار زندگی کو اپنا نصب العین بنائیں گے؟ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے، اور وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ٹیپو سلطان نے بتادیا کہ آزادی کی قیمت قربانی ہے، اور عزت کی راہ ہمیشہ کٹھن ہوتی ہے۔ مگر آج کا المیہ یہ ہے کہ ہم اس پیغام کو بھلا بیٹھے ہیں۔ ہم اس کے قول کو دہراتے ہیں“شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے”مگر ہماری عملی زندگی اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔
جمہوری سیاسی نظام کے نام پر ایک نئی قسم کی غلامی نے جنم لیا ہے، جہاں فیصلے بظاہر عوام کے نام پر ہوتے ہیں مگر درحقیقت مفادات کے اسیر ہوتے ہیں۔ قیادت کا فقدان، نظریات سے دوری، اور وقتی فائدے کی سیاست نے ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ہم اپنے ہیروز کو یاد تو کرتے ہیں مگر ان کے راستے پر چلنے سے گریز کرتے ہیں۔ٹیپو سلطان کی شہادت میں یہ پیغام موجودہے کہ اصل کامیابی اقتدار میں نہیں بلکہ کردار میں ہوتی ہے۔ وہ میدان ہار گیا، مگر تاریخ جیت گیا۔ وہ جسمانی طور پر شکست کھا گیا، مگر اس کا نظریہ آج بھی زندہ ہے۔لہذا ہم اپنے ماضی سے سبق سیکھیں، اپنے ہیروز کو صرف یاد نہ کریں بلکہ ان کے افکار کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم وقتی مفادات کے اسیر رہیں گے یا اصولوں کی پاسداری کریں گے۔ٹیپو سلطان تاریخ کا ایک باب نہیں، بلکہ ایک مسلسل صدا ہے۔ایک ایسی صدا جو ہمیں جھنجھوڑتی ہے، ہمیں یاد دلاتی ہے کہ عزت کی زندگی ہمیشہ قربانی مانگتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں