شاہرات، سیاحت اور ریاستی ذمہ داری، این ایچ اے کی افادیت اور ادارہ جاتی غفلت کا المیہ

تحریر:آغا سفیرحسین کاظمی

جدید ریاستوں کی ترقی کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو ایک حقیقت پوری طرح واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ مضبوط انفراسٹرکچر، بالخصوص معیاری شاہرات، کسی بھی ملک یا خطے کی معاشی، سماجی اور سیاحتی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ سڑکیں محض آمدورفت کا ذریعہ نہیں ہوتیں بلکہ یہ معیشت کی روانی، ثقافتی تبادلوں، علاقائی روابط اور سیاحت کے فروغ کی ضامن ہوتی ہیں۔ اسی تناظر میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کا کردار نہایت اہم اور کلیدی حیثیت رکھتا ہے، جس نے پاکستان اور اس کے زیر انتظام علاقوں میں شاہرات کی تعمیر، توسیع اور بہتری کے ذریعے ترقی کے نئے دروازے کھولے۔
این ایچ اے کی افادیت صرف اس حد تک محدود نہیں کہ وہ سڑکیں بناتی ہے، بلکہ اس کا اصل مقصد ایک ایسا مربوط روڈ نیٹ ورک تشکیل دینا ہے جو نہ صرف اندرونی روابط کو مضبوط کرے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی تجارتی اور سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ دے۔ شمالی علاقہ جات اور بالخصوص آزاد جموں و کشمیر جیسے حسین خطے میں این ایچ اے کی تعمیر کردہ شاہرات نے سیاحت کو نئی زندگی بخشی۔ یہ وہ راستے ہیں جن کے ذریعے نہ صرف مقامی آبادی کو سہولت ملی بلکہ ملک بھر سے آنے والے سیاحوں کے لیے بھی ان علاقوں تک رسائی آسان ہوئی۔
آزاد کشمیر اپنی قدرتی خوبصورتی، سرسبز وادیوں، بل کھاتی سڑکوں اور دلکش مناظر کی وجہ سے ایک جنت نظیر خطہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہاں کی شاہرات، جو پہاڑوں کے دامن میں سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی گزرتی ہیں، نہ صرف سفری سہولت فراہم کرتی ہیں بلکہ سیاحوں کے لیے ایک جمالیاتی تجربہ بھی پیش کرتی ہیں۔ تاہم افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان شاہرات کا حسن اور افادیت بتدریج متاثر ہو رہی ہے، اور اس کی بنیادی وجہ ادارہ جاتی عدم تعاون اور انتظامی غفلت ہے۔
یہ ایک تسلیم شدہ اصول ہے کہ شاہرات کے اطراف ایک مخصوص حدود میں کسی بھی قسم کی تعمیرات کی اجازت نہیں ہوتی۔ اس کا مقصد مستقبل میں سڑکوں کی توسیع، ٹریفک کے بہاؤ کو برقرار رکھنے، اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری رسائی کو ممکن بنانا ہوتا ہے۔ این ایچ اے اپنے دائرہ کار میں ان اصولوں کو وضع کرتی ہے اور ان پر عملدرآمد کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے، مگر مقامی سطح پر آزاد حکومت کے مختلف اداروں، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کا تعاون اس حوالے سے ناگزیر ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے آزاد کشمیر میں یہی وہ مقام ہے جہاں نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔ این ایچ اے اپنی پالیسیوں اور قواعد و ضوابط کے تحت کام کرتی ہے، مگر جب مقامی انتظامیہ ان قوانین پر عملدرآمد یقینی نہیں بناتی، تو صورتحال بگڑنا شروع ہو جاتی ہے۔ سڑکوں کے کنارے پہلے عارضی تجاوزات قائم ہوتی ہیں، ریڑھیاں، ٹھیلے اور عارضی دکانیں لگتی ہیں، اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہی عارضی ڈھانچے مستقل تعمیرات میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
یہ عمل محض ایک غیر قانونی سرگرمی نہیں بلکہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ جب قانون کی کھلی خلاف ورزی ہو اور متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے رہیں، تو یہ پیغام عام ہوتا ہے کہ قانون صرف کمزور کے لیے ہے جبکہ طاقتور اس سے بالاتر ہیں۔ یہی وہ سوچ ہے جو معاشرے میں بے ضابطگی اور انتشار کو جنم دیتی ہے۔
آزاد کشمیر کے مختلف شہروں، خصوصاً مرکزی شاہرات کے اطراف، اس وقت یہی منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ خوبصورت سڑکیں جو کبھی سیاحوں کے لیے کشش کا باعث ہوتی تھیں، اب تجاوزات کی وجہ سے تنگ اور بدصورت ہو چکی ہیں۔ جگہ جگہ غیر منصوبہ بند دکانیں، بے ہنگم تعمیرات اور پارکنگ کے مسائل نے نہ صرف ٹریفک کے بہاؤ کو متاثر کیا ہے بلکہ ان شاہرات کے جمالیاتی حسن کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔
سیاحت کے حوالے سے یہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ دنیا بھر میں سیاح ان مقامات کا رخ کرتے ہیں جہاں نہ صرف قدرتی حسن موجود ہو بلکہ وہاں کا انفراسٹرکچر بھی منظم اور خوبصورت ہو۔ اگر شاہرات کے اطراف بد نظمی، تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کا راج ہو تو یہ سیاحوں پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ وہ نہ صرف دوبارہ آنے سے گریز کرتے ہیں بلکہ اپنے تجربات کے ذریعے دوسروں کو بھی ایسے مقامات سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا ہم واقعی سیاحت کو فروغ دینا چاہتے ہیں، یا محض نعروں اور بیانات تک ہی محدود رہنا چاہتے ہیں؟ اگر سنجیدگی سے سیاحت کو ترقی دینا مقصود ہے تو سب سے پہلے شاہرات کے اطراف نظم و ضبط کو یقینی بنانا ہو گا۔ صاف ستھری، کشادہ اور تجاوزات سے پاک سڑکیں ہی سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کر سکتی ہیں۔
ادارہ جاتی سطح پر دیکھا جائے تو این ایچ اے اکیلے اس مسئلے کو حل نہیں کر سکتی۔ اس کے لیے آزاد حکومت کے تمام متعلقہ اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ ضلعی انتظامیہ، پولیس، بلدیاتی ادارے اور دیگر محکمے اگر مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کریں تو اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ مگر اس کے لیے سب سے پہلے نیت اور ترجیح کا درست ہونا ضروری ہے۔
بدقسمتی سے اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ تجاوزات کے خلاف کارروائیاں وقتی اور نمائشی ہوتی ہیں۔ چند دن کے لیے آپریشن کیا جاتا ہے، میڈیا میں اس کی تشہیر ہوتی ہے، اور پھر کچھ عرصے بعد صورتحال پہلے سے بھی بدتر ہو جاتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ مستقل مزاجی کا فقدان اور بااثر عناصر کا دباؤ ہے، جو قانون کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتے ہیں۔
اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے پانچ سے دس سال میں اس کے اثرات نہایت سنگین ہوں گے۔ سڑکوں کی توسیع تقریباً ناممکن ہو جائے گی، ٹریفک کے مسائل شدت اختیار کر جائیں گے، اور حکومت کو اربوں روپے کے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی ردعمل بھی سامنے آئے گا، اور اس وقت یہ سوال شدت سے اٹھے گا کہ اس تمام صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟
کیا اس وقت این ایچ اے کو مورد الزام ٹھہرایا جائے گا، یا آزاد حکومت کے وہ ادارے جو بروقت کارروائی کرنے میں ناکام رہے؟ یا پھر وہ عناصر جو قانون کی خلاف ورزی کرتے رہے اور کسی نے انہیں روکنے کی زحمت گوارا نہ کی؟ حقیقت یہ ہے کہ اس ناکامی کی ذمہ داری اجتماعی ہو گی، اور اس کا خمیازہ پوری ریاست کو بھگتنا پڑے گا۔
یہ وقت ہے کہ ہم اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور فوری اقدامات کریں۔ سب سے پہلے این ایچ اے اور آزاد حکومت کے درمیان مؤثر کوآرڈینیشن کا نظام قائم کیا جائے۔ ایک مشترکہ ٹاسک فورس تشکیل دی جائے جو شاہرات کے اطراف تجاوزات کی نشاندہی کرے اور ان کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی مہم بھی چلائی جائے تاکہ لوگوں کو یہ احساس ہو کہ یہ سڑکیں ان کی اپنی ملکیت ہیں اور ان کی حفاظت ان کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
قانون کی عملداری کو یقینی بنانا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر ریاست اس ذمہ داری کو پورا کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اس کے اثرات صرف انتظامی سطح تک محدود نہیں رہتے بلکہ معاشرے کے ہر شعبے کو متاثر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شاہرات کے اطراف تجاوزات کا مسئلہ محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ریاستی رٹ، گورننس اور مستقبل کی ترقی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔
اگر آج ہم نے اس مسئلے کو نظرانداز کیا تو کل یہ ہمارے لیے ایک ناقابل حل بحران بن جائے گا۔ شاہرات صرف راستے نہیں ہوتیں، یہ ترقی کی شاہراہیں ہوتی ہیں۔ اگر ان پر رکاوٹیں کھڑی کر دی جائیں تو ترقی کا سفر بھی رک جاتا ہے۔
اس لئے ناگزیر ہے کہ ہم وقتی مفادات سے بالاتر ہو کر اجتماعی مفاد کو ترجیح دیں، قانون کی عملداری کو یقینی بنائیں، اور اپنی شاہرات کو تجاوزات سے پاک کر کے ایک ایسا ماحول تشکیل دیں جہاں سفر بھی آسان ہو، سیاحت بھی فروغ پائے، اور ریاستی وقار بھی برقرار رہے۔ کیونکہ جب راستے صاف ہوتے ہیں تو منزلیں خود بخود آسان ہو جاتی ہیں۔
ریاستی نظم و نسق کا ایک بنیادی تقاضا یہ ہوتا ہے کہ جہاں قانون موجود ہو وہاں اس پر عملدرآمد بھی یقینی بنایا جائے۔ مگر جب قانون کتابوں تک محدود رہ جائے اور زمینی حقائق اس کے برعکس ہوں تو وہاں مسائل جنم لیتے ہیں، اور پھر یہی مسائل بتدریج بحران کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر میں مرکزی شاہراہوں کے کناروں پر بڑھتی ہوئی تجاوزات اسی نوعیت کا ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکی ہیں، جس کے اسباب، محرکات اور ممکنہ نتائج کا ٹھنڈے دل سے تجزیہ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ تجاوزات کسی ایک دن میں جنم نہیں لیتیں بلکہ یہ ایک مسلسل عمل کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ابتدا عموماً معمولی نوعیت کی خلاف ورزی سے ہوتی ہے،کسی نے سڑک کنارے ایک ریڑھی لگا لی، کسی نے عارضی ٹھیلہ کھڑا کر لیا، اور کسی نے چند فٹ زمین پر قبضہ کر کے کاروبار شروع کر دیا۔ اگر اس ابتدائی مرحلے پر قانون حرکت میں آ جائے تو مسئلہ وہیں ختم ہو سکتا ہے، مگر جب ادارے خاموش رہیں تو یہی چھوٹے تجاوزات آہستہ آہستہ مستقل تعمیرات میں بدل جاتے ہیں۔یہ سوال کہ یہ سلسلہ کیوں دراز ہو رہا ہے، درحقیقت کئی عوامل کا مجموعہ ہے۔ سب سے پہلی وجہ ادارہ جاتی کمزوری اور باہمی عدم تعاون ہے۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) شاہراہوں کی تعمیر اور ان کے تحفظ کی ذمہ دار ہے، مگر مقامی سطح پر عملدرآمد کے لیے اسے ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں اور پولیس کی معاونت درکار ہوتی ہے۔ جب یہ ادارے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے یا ان کے درمیان مؤثر رابطہ نہیں ہوتا تو قانون محض ایک کاغذی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔
دوسری بڑی وجہ معاشی دباؤ اور روزگار کے محدود مواقع ہیں۔ بہت سے لوگ سڑک کنارے چھوٹے کاروبار اس لیے شروع کرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی اور ذریعہ معاش نہیں ہوتا۔ ریاست اگر متبادل روزگار فراہم کرنے میں ناکام رہے تو لوگ غیر قانونی راستوں کا انتخاب کرتے ہیں، اور یوں تجاوزات کا دائرہ پھیلتا چلا جاتا ہے۔
تیسرا عنصر بااثر افراد کی مداخلت ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جہاں عام آدمی کو چھوٹے سے ٹھیلے پر بھی ہٹایا جا سکتا ہے، وہیں بعض بااثر افراد بڑے پیمانے پر غیر قانونی تعمیرات کر لیتے ہیں اور کوئی انہیں روکنے کی ہمت نہیں کرتا۔ یہی امتیازی رویہ قانون کی ساکھ کو کمزور کرتا ہے اور دوسروں کو بھی خلاف ورزی کی ترغیب دیتا ہے۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا آزاد کشمیر میں ادارے فعال نہیں؟ بظاہر دیکھا جائے تو تمام متعلقہ ادارے موجود ہیں،این ایچ اے، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی ادارے، پولیس مگر مسئلہ ان کے وجود کا نہیں بلکہ ان کی فعالیت، سنجیدگی اور باہمی ہم آہنگی کا ہے۔ جب ادارے اپنی ذمہ داری کو ترجیح نہ دیں، یا وقتی دباؤ اور مفادات کے تحت فیصلے کریں، تو نتیجہ وہی نکلتا ہے جو آج شاہراہوں کے اطراف نظر آ رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ این ایچ اے کے زیر انتظام شاہراہوں پر جگہ جگہ موبائل فروٹ شاپس، ریڑھیاں اور عارضی دکانیں قائم ہو جاتی ہیں۔ ابتدا میں انہیں نظر انداز کیا جاتا ہے، پھر وہ جڑ پکڑ لیتی ہیں، اور بالآخر مستقل تعمیرات میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ انہیں روکنے والا کوئی کیوں نہیں؟
اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو آنے والے وقت میں اس کے اثرات نہایت سنگین ہوں گے۔ سب سے پہلے تو سڑکوں کی توسیع تقریباً ناممکن ہو جائے گی۔ جب سڑک کے اطراف زمین پر غیر قانونی قبضے ہو جائیں تو حکومت کو یا تو بھاری معاوضہ دے کر انہیں ہٹانا پڑتا ہے یا پھر سڑک کو اسی حالت میں چھوڑنا پڑتا ہے، جس سے ٹریفک کے مسائل بڑھتے ہیں۔
دوسرا بڑا مسئلہ ٹریفک حادثات میں اضافہ ہے۔ جب سڑک کے کنارے دکانیں اور ریڑھیاں قائم ہوں، لوگ بے ہنگم پارکنگ کریں، اور پیدل چلنے والوں کے لیے جگہ نہ ہو تو حادثات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایمرجنسی سروسز کی رسائی بھی متاثر ہوتی ہے، جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے۔
تیسرا اور نہایت اہم پہلو سیاحت کا ہے۔ آزاد کشمیر کی خوبصورتی اس کی سب سے بڑی پہچان ہے، مگر جب شاہراہوں کے اطراف بدنظمی، تجاوزات اور غیر منصوبہ بند تعمیرات ہوں تو یہ حسن ماند پڑ جاتا ہے۔ سیاح ایک منظم، صاف ستھرا اور خوبصورت ماحول چاہتے ہیں، اور اگر انہیں یہ میسر نہ آئے تو وہ دوسرے مقامات کا رخ کرتے ہیں۔ یوں ایک بڑی معاشی سرگرمی متاثر ہوتی ہے۔
ان تمام مسائل کا حل محض تنقید میں نہیں بلکہ عملی اقدامات میں ہے۔ اس سلسلے میں ایک مؤثر تجویز یہ ہے کہ این ایچ اے کی معاونت کے لیے تمام متعلقہ اداروں پر مشتمل ایک بااختیار ”ٹاسک فورس” قائم کی جائے۔ یہ ٹاسک فورس محض ایک نمائشی ادارہ نہ ہو بلکہ اسے واضح اختیارات اور ذمہ داریاں دی جائیں۔
اس ٹاسک فورس کا کام صرف تجاوزات ہٹانا نہ ہو بلکہ ایک جامع حکمت عملی مرتب کرنا ہو۔ پہلے مرحلے میں شاہراہوں کے اطراف تمام تجاوزات کی نشاندہی کی جائے، دوسرے مرحلے میں ان کے خاتمے کے لیے ایک ٹائم لائن دی جائے، اور تیسرے مرحلے میں مستقل نگرانی کا نظام قائم کیا جائے تاکہ دوبارہ تجاوزات قائم نہ ہو سکیں۔
اہم بات یہ ہے کہ اس کارروائی میں بلا امتیاز عمل کیا جائے۔ چاہے کوئی عام شہری ہو یا بااثر شخصیت، قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان افراد کے لیے متبادل روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں جو واقعی مجبوری کے تحت سڑک کنارے کاروبار کر رہے ہیں، تاکہ مسئلے کا انسانی پہلو بھی نظر انداز نہ ہو۔
مزید برآں، عوامی شعور اجاگر کرنا بھی ضروری ہے۔ جب تک عوام خود یہ نہ سمجھیں کہ تجاوزات دراصل ان کے اپنے مفاد کے خلاف ہیں، تب تک مستقل حل ممکن نہیں۔ میڈیا، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
ازاد حکومت کے محکمہ جا کے ذمہ داران کو یہ بات سمجھ انی چاہیے کہ شاہراہیں کسی بھی ریاست کا چہرہ ہوتی ہیں۔ اگر یہی چہرہ بدنما ہو جائے تو ترقی کے دعوے بھی کھوکھلے لگتے ہیں۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ کل کے مسائل کی بنیاد رکھ رہا ہے۔ اگر ہم نے بروقت اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلیں ہم سے یہ سوال ضرور کریں گی کہ جب مسئلہ واضح تھا تو اسے حل کیوں نہ کیا گیا۔
اب بھی وقت ہے کہ ہم سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کریں، اور ایک واضح لائحہ عمل کے تحت اس ”کھیل تماشے” کا خاتمہ کریں۔ کیونکہ ریاستیں وہی کامیاب ہوتی ہیں جو اپنے مسائل کو وقت پر پہچان کر ان کا حل نکال لیتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں