سانچ : معرکہ حق سے سفارتی فتح تک آپریشن بنیانِ مرصوص نے پاکستان کا وقار کیسے بلند کیا؟

تحریر: محمد مظہر رشید چودھری (03336963372)

سن 2025 پاکستان کی قومی تاریخ میں ایک اہم اور فیصلہ کن سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ وہ وقت تھا جب وطنِ عزیز کو اندرونی اور بیرونی سطح پر مختلف چیلنجز کا سامنا تھا، مگر پوری قوم نے اتحاد، حوصلے اور قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان ایک مضبوط، خوددار اور ناقابلِ تسخیر ریاست ہے۔ انہی حالات میں ’معرکہ حق‘ اور ’آپریشن بنیانِ مرصوص‘ قومی عزم، دفاعی صلاحیت اور سفارتی بصیرت کی علامت بن کر سامنے آئے۔آپریشن بنیانِ مرصوص محض ایک عسکری کارروائی نہیں تھا بلکہ یہ پاکستان کی دفاعی تیاری، پیشہ ورانہ مہارت اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے عزم کا عملی اظہار تھا۔ افواجِ پاکستان نے جس جرات، حکمت عملی اور پیشہ ورانہ انداز سے دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا، اس نے نہ صرف پاکستانی عوام کے حوصلے بلند کیے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی عسکری صلاحیت کا اعتراف کیا گیا۔ پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی دکھائی دی اور یہی اتحاد ’معرکہ حق‘ کی اصل روح بن گیا۔پاکستان کی عسکری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی وطنِ عزیز کو خطرات لاحق ہوئے، افواجِ پاکستان نے ہمیشہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بے مثال قربانیوں کے ذریعے قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔ ’آپریشن بنیانِ مرصوص‘ بھی اسی عزم اور حوصلے کی ایک روشن مثال کے طور پر سامنے آیا۔ اس آپریشن نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان دفاعی اعتبار سے ایک مضبوط اور منظم ملک ہے جو اپنی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ دشمن کی جانب سے پھیلائے جانے والے منفی پروپیگنڈے اور نفسیاتی جنگ کو بھی پاکستانی قوم نے اتحاد اور شعور کے ساتھ ناکام بنایا۔گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان نے صرف دفاعی میدان میں ہی نہیں بلکہ سفارتی سطح پر بھی غیر معمولی کامیابیاں حاصل کیں۔ عالمی فورمز پر پاکستان کا مؤقف زیادہ مؤثر انداز میں سنا گیا، جبکہ کئی اہم ممالک نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا۔ دنیا نے یہ محسوس کیا کہ پاکستان نہ صرف ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے بلکہ علاقائی امن کے لیے سنجیدہ اور متوازن پالیسی پر عمل پیرا بھی ہے۔پاکستان کی سفارتی کامیابیوں میں ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ ملک نے عالمی برادری کے سامنے اپنا مقدمہ مدلل اور باوقار انداز میں پیش کیا۔ ماضی کے مقابلے میں اس مرتبہ پاکستان کا بیانیہ زیادہ مضبوط، واضح اور مؤثر دکھائی دیا۔ مختلف عالمی طاقتوں اور بین الاقوامی اداروں نے پاکستان کی ذمہ دارانہ پالیسیوں کو سراہا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں پاکستان کے وقار اور اعتماد میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ عالمی میڈیا میں بھی پاکستان کے مؤقف کو زیادہ سنجیدگی سے لیا گیا، جو سفارتی محاذ پر ایک بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی رہی کہ ملک نے مشکل معاشی اور سیاسی حالات کے باوجود اپنے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ سفارتی محاذ پر پاکستان نے بردباری، تدبر اور حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے اپنی بات دنیا تک پہنچائی۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی میڈیا اور بین الاقوامی مبصرین نے بھی پاکستان کی پالیسیوں کو زیادہ سنجیدگی سے لینا شروع کیا۔یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ جدید دور میں جنگیں صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ میڈیا، سفارت کاری اور معیشت بھی کسی بھی ملک کی طاقت کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں۔ پاکستان نے گزشتہ ایک سال کے دوران ان تمام شعبوں میں نسبتاً بہتر حکمت عملی اپناتے ہوئے اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ سوشل میڈیا پر پاکستانی نوجوانوں نے قومی بیانیے کو مؤثر انداز میں دنیا تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے بھی اپنے وطن کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے مثبت قومی تشخص کو اجاگر کیا۔سانچ کے قارئین کرام!’معرکہ حق‘ دراصل صرف میدانِ جنگ کی کامیابی کا نام نہیں بلکہ یہ قومی شعور، اتحاد اور نظریاتی استحکام کی علامت بن چکا ہے۔ اس دوران تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی وطن سے محبت اور افواجِ پاکستان سے یکجہتی کے اظہار کے لیے تقریبات، سیمینارز اور ریلیوں کا انعقاد کیا۔ نوجوان نسل نے جس جذبے کے ساتھ قومی بیانیے کو اپنایا، وہ مستقبل کے پاکستان کے لیے ایک مثبت اور امید افزا اشارہ ہے۔ملک بھر کے سکولوں، کالجوں اور جامعات میں منعقد ہونے والی تقریبات میں طلبہ نے تقاریر، ملی نغموں اور مختلف پروگراموں کے ذریعے افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان سرگرمیوں نے نوجوان نسل میں حب الوطنی اور قومی شعور کو مزید مضبوط کیا۔ اس سے یہ پیغام بھی ملا کہ پاکستانی قوم اپنے محافظ اداروں کے ساتھ کھڑی ہے اور وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کا جذبہ رکھتی ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم وقتی جذبات سے آگے بڑھتے ہوئے قومی یکجہتی، سیاسی استحکام، معاشی مضبوطی اور تعلیمی ترقی کو اپنی ترجیحات بنائیں۔ کیونکہ دنیا میں وہی قومیں عزت پاتی ہیں جو مشکل حالات میں متحد رہتی ہیں اور اپنے قومی اداروں پر اعتماد کرتی ہیں۔ اگر قوم اسی اتحاد، شعور اور حب الوطنی کے جذبے کو برقرار رکھے تو پاکستان مستقبل میں مزید مضبوط، مستحکم اور باوقار ریاست کے طور پر ابھر سکتا ہے۔بلاشبہ، ’آپریشن بنیانِ مرصوص‘ اور ’معرکہ حق‘ نے پاکستان کو صرف دفاعی میدان میں سرخرو نہیں کیا بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کے وقار، اعتماد اور سفارتی اہمیت میں بھی نمایاں اضافہ کیا۔ یہ کامیابی پوری قوم، افواجِ پاکستان اور اْن تمام افراد کے نام ہے جو وطنِ عزیز کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان ایک پْرامن، خودمختار اور مضبوط ریاست کے طور پر عالمی سطح پر اپنی شناخت مزید مستحکم کر رہا ہے، اور یہی دراصل ’معرکہ حق‘ کی سب سے بڑی کامیابی ہے٭

اپنا تبصرہ بھیجیں