ذوالفقار علی زلفی
یہ کیچ مکران میں منعقدہ ایک جنازے کا منظر ہے ـ اس جنازے میں کوئی میت نہیں تھی ـ قبر میں جسد کی جگہ مرنے والے کے چپل، کپڑے اور چادروں کو قومی احترام کے ساتھ دفنایا گیا ـ
ایسا کیوں کیا گیا؟
اس کا جواب دینے سے پہلے مجھے اجازت دیجئے کہ آپ کو صدیوں پرانے سلطنتِ روم میں لے چلوں ـ روم اپنے زمانے کی طاقت ور ترین ریاست ہوا کرتی تھی ـ اسے اس دور کا امریکا سمجھ لیجئے ـ غلام داری رومن معیشت کا اہم حصہ ہوا کرتی تھی ـ ایک دن غلام اپنی آزادی کے لئے دنیا کی سب سے بڑی سام راجی طاقت سے بھڑ گئے ـ
غلاموں کی قیادت اسپارٹکس کر رہے تھے ـ اسپارٹکس کی قیادت میں لڑی جانے والی اس جنگ کو غلاموں کی پہلی بغاوت قرار دیا جاتا ہے ـ غلام فوج اچانک رومیوں پر قہر بن کر ٹوٹتی اور ان کی رنگ برنگ آسودہ زندگی کو تباہ کرکے غائب ہوجاتی ـ یقیناً رومن اشرافیہ سمیت عام رومی بھی اسپارٹکس اور ان کے ساتھیوں کو دہشت گرد، بد تہذیب ، انسان دشمن، رومن شہریوں کو قتل کرنے والے وحشی جانور وغیرہ وغیرہ کہا کرتے تھے ـ بعض ایسے غلام بھی تھے جو غلام زندگی کو تقدیر کا لکھا اور روم کو ناقابلِ شکست مان کر آزادی پسندوں سے اظہارِ نفرت کرکے اپنے آقاؤں کا دل جیتنے کی کوشش کرتے تھے ـ یہ غلام رومن فوج کی مدد کرکے آزادی پسندوں کے خلاف سازشیں بھی کیا کرتے تھے ـ ان غلاموں کو اس زمانے کے “ڈیتھ اسکواڈ” سمجھ لیجئے ـ
بالآخر؛ مسلسل شکست کے بعد روم نے ایک بہت بڑی فوج اکھٹی کرکے غلاموں سے فیصلہ کن جنگ شروع کردی ـ اسپارٹکس اس جنگ میں بے جگری سے لڑتے لڑتے شہید ہوگئے ـ آزادی ………… خون مانگتی ہے! ـ
“مہذب” روم نے اسپارٹکس کی لاش پر قبضہ کرکے اسے غائب کردیا ـ اسے ڈر تھا کہ آزادی پسند کی لاش اگر کسی قبر یا یادگار کی صورت اختیار کرے تو اس سے جلا پاکر غلاموں کی بغاوت ایک دفعہ پھر شروع ہوسکتی ہے اور شاید اس دفعہ زیادہ شدت کے ساتھ ـ اس کے ساتھ ساتھ رومن حکام نے منادی کرادی اسپارٹکس کا نام اپنی زبان پر لانے والے غلام کو عبرت ناک موت دی جائے گی ـ الغرض روم نے تاریخ سے اسپارٹکس کو مٹانے کے لئے پوری طاقت صرف کردی ـ
روایت ہے اسپارٹکس کے بچے کھچے ساتھیوں نے ایک ویران مقام پر ان سے وابستہ چیزوں کو عقیدت و احترام کے ساتھ دفن کرکے عہد کیا غلامی کے خلاف یہ جنگ جاری رہے گی ـ
صدیاں بیت گئیں ـ غلامی کے اشکال بدل گئے ـ مگر نہ حاکموں کا رویہ بدلا اور نہ ہی غلاموں نے اپنی وضع چھوڑی ـ آج بھی حاکم آزادی پسند مزاحمت کار کو دہشت گرد قرار دے کر اس کی لاش پر قبضہ کرکے اسے غائب کرنے اور اس کی مزاحمت کو مٹانے پر کمر بستہ ہے ـ آج بھی آزادی پسند سرمچار کے فکری و عملی ساتھی شہید سے وابستہ چیزوں کو احترام سے دفن کرکے جنگ جاری رکھنے کا عہد کر رہے ہیں ـ
کیچ مکران میں جو ہوا وہ حریت پسند تاریخ کا ہی تسلسل ہے ـ

