فریاد! کہ ہم مارے گئے!

محمد اظہارالحق
وحشت کے اس زمانے میں بھی ایک اچھی خبر مل گئی۔ مگر افسوس! ساتھ ہی ایک غمزدہ کرنے والی خبر بھی ہے۔ شاید یہ نظر بٹو ہے تاکہ نظر نہ لگے!
اچھی خبر یہ ہے کہ ڈپٹی وزیراعظم جناب اسحاق ڈار کے فرزند ارجمند جناب علی مصطفی ڈار کو وزیراعلیٰ پنجاب کا مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ جناب علی مصطفی ڈار صوبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال‘ ڈیجیٹل گورننس کے فروغ اور خصوصی ترقیاتی منصوبوں میں وزیراعلیٰ کو مشاورت فراہم کریں گے۔ ماشاء اللہ! حق بحقدار رسید!! شریف خاندان کا ایک خاص وصف مجھے اور ساری قوم کو بہت پسند ہے۔ وہ یہ کہ یہ خاندان میرٹ سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کرتا۔ ابھی حال ہی میں بڑے میاں صاحب کے ایک پرانے‘ وفادار ساتھی کا انتقال ہوا تو ان کے فرزند ارجمند کو بھی پنجاب حکومت کا مشیر لگایا گیا۔ افسوس کی بات ہے کہ اس وقت صرف پنجاب حکومت بڑے میاں صاحب کی میرٹ افزا فرمائشیں پوری کر نے میں لگی ہے۔ یہ ناانصافی ہے! میاں صاحب پورے ملک کے حکمرانِ اعلیٰ رہے ہیں۔ ایک بار نہیں‘ دو بار نہیں‘ تین بار! ان کا حق آج بھی پورے ملک پر ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سندھ‘ کے پی‘ بلوچستان‘ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتیں بھی میاں صاحب کی ڈسپوزل پر رکھی جائیں! جن نابغوں اور عبقریوں کو میاں صاحب مراعات سے بھرپور مناصب پر فائز کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے صرف پنجاب کافی نہیں! یہ شرف پورے ملک کو حاصل ہونا چاہیے۔
میرٹ کے لیے صرف یہی حقیقت کافی تھی کہ جناب علی مصطفی ڈار ہمارے نائب وزیراعظم کے فرزند ہیں۔ مگر دو اور پہلو اس میرٹ کو مزید پختہ اور معتبر کر رہے ہیں۔ ایک یہ کہ میڈیا کی فراہم کردہ اطلاع کی رُو سے موصوف ہمارے سابق وزیراعظم کے داماد بھی ہیں۔ دوسرا یہ کہ آپ جناب پنجاب کی وزیراعلیٰ کے برادرِ نسبتی بھی ہیں!یاد رہے کہ شریف خاندان جب بھی کسی حقدار کو کسی بڑے منصب سے نوازتا ہے تو اس امر کی تحقیق کر لیتا ہے کہ اس کا تعلق شریف خاندان سے دور دور تک نہ ہو! اسی زریں اصول کے تحت جب مسلم لیگ (ن) کے دامن میں موجودہ حکومت کی نعمت آسمان سے براہِ راست ٹپکی تو پارٹی کے قائد نے جناب شہباز شریف کو وزیراعظم کی پوسٹ کے لیے نامزد کیا۔ اسی اصول کے تحت پنجاب حکومت محترمہ مریم نواز کے سپرد کی گئی۔ اس سے پہلے جب جناب حمزہ شہباز کو صوبے کا چیف منسٹر بنایا گیا تھا تو اس کی تہہ میں بھی یہی سنہری اصول کارفرما تھا۔ وہ جو حکم دیا گیا ہے کہ امانتیں امانت والوں کو پہنچا دو؛یعنی امانتیں ان افراد کے سپرد کرو جو اہل ہوں‘ تو اس پر بدرجہ اتم عمل کیا جا رہا ہے! ایک اہل شخصیت اگر بیک وقت سینیٹر بھی ہے‘ نائب وزیراعظم بھی ہے اور وزیر خارجہ بھی تو اس کے فرزند ارجمند کا حق ہے کہ وہ بھی اس سیٹ اَپ میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہو! صوبے کی اور ملک کی بھی خوش بختی ہے کہ ہر جوہرِ قابل کو چُن چُن کر‘ وطنِ عزیز کی خدمت کے لیے مامور کیا جا رہا ہے۔
میری بد قسمتی ہے کہ میرے پڑھنے والے میری ہر بات کو مذاق سمجھ کر ہوا میں اڑا دیتے ہیں اور مجھے سیریس نہیں لیتے۔ اس لیے مجبوراً میں قومی اخبارات میں سے ایک اخبار سے ایک اقتباس پیش کر دیتا ہوں۔ ملاحظہ فرمائیے۔ ”(اسلام آباد) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے بڑے صاحبزادے اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد‘ علی مصطفی ڈار باقاعدہ طور پر سیاست میں داخل ہو گئے ہیں۔ انہیں پنجاب میں صوبائی وزیر کا درجہ دے دیا گیا ہے‘ جس کے تحت وہ صوبائی اسمبلی میں بیٹھنے اور ایوان کی کارروائی میں حصہ لینے کا اختیار رکھیں گے‘‘۔ اب بتائیے! کیا میری اطلاع غلط تھی؟ اب میں بولوں کہ نہ بولوں؟ اور ہاں یہ بھی یاد رکھیے کہ وہ زمانے لد گئے جب سیاست میں داخل ہونے کے لیے نچلی سطح سے آغاز کرنا پڑتا تھا۔ یعنی یونین کونسل کی سطح پر‘ پھر ضلعی سطح پر اور یہ تمام تجربے حاصل کرنے کے بعد آخر میں صوبے یا وفاق کی سطح پر سیاسی خدمات انجام دی جاتی تھیں۔ جناب علی مصطفی ڈار سیاست کی ابتدا ہی صوبائی وزارت سے کر رہے ہیں۔ یہ وہ مقامِ بلند ہے جہاں سیاست وزارت میں ضم ہو کر رہ جاتی ہے۔
اس اچھی خبر کے ساتھ جو بدخبر دی تھی وہ بھی سن لیجیے۔ وزیر دفاع نے اتنا بڑا سچ بول دیا ہے جسے سن کر بہت لوگ پریشان ہوں گے۔ پچھتانے والا رجلِ رشید تو ان میں کوئی نہیں‘ ہاں چھپنے کے لیے جگہ ضرور تلاش کر رہے ہوں گے! سنیے! محترم وزیر دفاع نے قومی اسمبلی میں کیا کہا ہے: ”روس کے خلاف جنگ جہاد نہیں تھا۔ ہم نے کرائے کی جنگیں لڑیں! امریکیوں نے ہمیں استعمال کر کے پھینک دیا۔ لیکن ہمیں عقل نہیں آئی۔ امریکی حکومتوں نے کروڑوں مسلمانوں کو شہید کیا۔ آج تک ہم اپنا نصاب درست نہیں کر سکے اور اپنی پوری تاریخ تبدیل کر دی۔ دو دہائیوں تک پاکستان کرائے پر دستیاب رہا۔ ریاست کی سرپرستی میں تنظیمیں بنائی گئیں اور مذہبی منافرت کو جان بوجھ کر ہوا دی گئی‘‘۔
یہ خواجہ صاحب نے کیا غضب کیا! اس سے تو بہت سی دستاروں کے پیچ کھلیں گے اور بہت سے ”فاتحین‘‘ کے چہروں سے نقابیں اٹھیں گی! وہ جو اپنے لخت ہائے جگر کو امریکہ بھیجتے رہے اور پھر بگ بزنس میں ڈالتے رہے مگر غریبوں کے بچوں کو ”جہاد‘‘ میں جھونکتے رہے‘ وہ اور ان کی ذریتیں تو خواجہ صاحب کی دشمن بن جائیں گی۔ ایک مذہبی جماعت کے مرحوم سربراہ اخباری کالموں میں فخر سے بتاتے تھے کہ وہ غیر ملکی جنگجوؤں کو‘ جو ویزے پاسپورٹ کے بغیر لائے جاتے تھے‘ کیسے چھپا چھپا کر خفیہ ٹھکانوں میں رکھتے تھے۔ دنیا کے اس انوکھے امریکی ”جہاد‘‘ نے سرکاری ملازموں اور ان کی اولاد کو خاندانی رئیسوں میں تبدیل کر دیا۔ ڈالروں کی بارش ہوئی۔ اوجڑی کیمپ کے اسلحہ خانوں تک کو قربان گاہ میں لا کر آگ دکھائی گئی۔ ایک شخص نے اپنے ناجائز اقتدار کو طول دینے کے لیے ملک کو لاکھوں غیر ملکیوں کی چراگاہ بنا دیا۔ وطن کی مقدس سرحدوں کو ملیا میٹ کر دیا۔ ویزے اور پاسپورٹ کے نظام کو تہس نہس کر کے ہزاروں خونخوار جنگجوئوں کو پاکستان کے اندر لا بسایا۔ ملک منشیات سے بھر گیا۔ گرنیڈ‘ بم‘ کلاشنکوفیں‘ مشین گنیں یہاں تک کہ راکٹ بھی بازاروں میں عام بکنے لگے! ان سب ملک دشمن سرگرمیوں کی حمایت کرنے والے زر خرید عناصر کو پاکستانی عوام کے خرچ پر حج اور لا تعداد عمرے کرائے گئے۔ مشائخ کانفرنسیں سرکاری خرچ پر روز مرہ کا معمول بن گئیں! ملک کی صورت اس قدر بگاڑ دی گئی کہ آج تک اس کے چہرے کے نقوش اور خال وخد نہیں پہچانے جا رہے! اور آج اتنے برسوں بعد اسی ملک کا وزیر دفاع دہائی دے رہا ہے کہ یہ تو جہاد تھا ہی نہیں! اور یہ کہ مذہبی منافرت کو جان بوجھ کر ہوا دی گئی۔ یہ بہت بڑا سچ ہے! مگر ہائے افسوس! یہ سچ بہت زیادہ دیر سے سامنے آیا۔ اس ”جہاد‘‘ کے چہرے پر پڑا پردہ نوچا گیا مگر لامتناہی نقصان کا کیا بنے گا؟؟ نقصان جو مسلسل ہو رہا ہے۔ یہ جو چھ دن پہلے چھتیس بے گناہ معصوم پاکستانی جان سے گئے ہیں یہ اسی جنگ کا شاخسانہ ہے جو وزیر دفاع کے بقول جہاد نہیں تھا! فریاد! کہ ہم مارے گئے!

اپنا تبصرہ بھیجیں