عالمی یومِ اساتذہ اور حکومتی عزائم

تحریر: وحید احمد، میاں چنوں
اسلام وہ واحد آفاقی مذہب ہے جس میں علم حاصل کرنے کاباقاعدہ حکم دیا گیاہے اور اس کا انکار کسی بھی سطح پر ناممکن ہے۔معلمِ انسانیت خاتم النبین ﷺپر نازل ہونے والی وحی اولین کا پہلا لفظ ہی اقراء (پڑھو) تھا۔ یہی پہلا حکم ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کودیاجن کا فرمانِ عالی شان ہے کہ ”إنما بُعِثتُ مُعَلِّمًا“ مجھے علم سکھانے والا یعنی اُستاد بنا کر بھیجا گیا۔اس حکم سے نہ صرف تعلیم و تعلم کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ شانِ معلم بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے۔استاد کی قدر ومنزلت اور عزت و تکریم مسلمہ ہے اور قوموں کی تعمیر وترقی میں اساتذہ کا کردارسب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے،وہ معاشرے جن میں اساتذہ کی تکریم کی جاتی ہے وہ آج دنیا کے صفِ اول کے معاشروں میں شمار ہوتے ہیں۔ جو معاشرے اساتذہ کی عزت نہیں کرتے ان کا نام و نشان تک تاریخ کے اوراق سے مٹا دیا جاتا ہے اور قعرِ مذلت ان کا مقدر ٹھہرتی ہے۔
آئینِ پاکستان کے آرٹیکلA 25- کے مطابق ریاست 5 سے 16 سال تک کی عمر کے بچوں کو اس طریقے سے مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے گی جس کا تعین قانون کے ذریعے کیا گیا ہوگا۔ یہ آرٹیکل ریاست کے ہر بچے کو 16 سال تک لازمی اور مفت تعلیم مہیا کرنے کا پابند بناتا ہے۔جبکہ حالیہ حکومت پنجاب نے آئینِ پاکستان کے برعکس تعلیم دشمن اقدامات شروع کر رکھے ہیں جن میں ماہِ رواں میں تقریباََ 52 ہزار سرکاری سکولوں کی نجکاری شامل ہے، اعدادوشمار کے مطابق ان سرکاری سکولوں میں 4 لاکھ 20 ہزار اساتذہ کرام تقریباََ 1 کروڑکے قریب طلباء و طالبات کو پڑھا رہے تھے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں ایک کروڑ 70لاکھ بچے پہلے ہی سکول نہیں جا رہے، بجائے یہ کہ حکومت ان بچوں کو سکولوں میں واپس لاتی، پہلے سے ہی زیرِ تعلیم 1 کروڑکے قریب طلباء و طالبات پر تعلیم کے دروازے بند کرنے کی تیاریاں شروع کر دی گئیں۔جہاں تک نجی شعبوں کے حوالے کیے گئے سرکاری سکولوں کا تعلق ہے تو ان میں سے بیشتر سکولوں کی کروڑوں روپوں کی بلڈنگز کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ ان سکولوں میں ایف اے اور بی اے پاس بچیوں کوانتہائی قلیل تنخواہ کے عوض بطور ٹیچر بھرتی کیا جاتا ہے جبکہ سرکاری سکولوں میں 2017-18 میں بھرتی کیے جانے والے مرد و خواتین اساتذہ کی ایک کثیر تعداد ایم فِل اور پی ایچ ڈی تعلیم کی حامل تھی۔اساتذہ کی نئی بھرتیوں پر مستقل پابندی کے ساتھ ساتھ سکولوں کی نجی شعبہ کو حوالگی ایک لمحہ فکریہ ہے۔حالیہ حکومت نے پیشہ پیغمبری سے منسلک اساتذہ کو عزت و تکریم تو کیا دینی تھی ان کی مالی مراعات میں جو کمی کی ہے وہ ان کے معاشی قتل کے برابر ہے۔ اساتذہ سے سوائے پڑھانے کے ہر طرح کی غیر تدریسی ڈیوٹیاں کروائی جاتی ہیں جس کی ایک مثال حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والا حکومتی خط ہے جس کے مطابق اساتذہ کوتین مہینوں کے لیے پی ایس ای آرسروے کے لیے تعینات کیا جا رہا ہے جبکہ یہی مہینے طلباء کی پڑھائی کے لیے سب سے اہم ہیں۔
دنیا بھر میں عالمی یوم اساتذہ کے موقع پرتقریبات اور سیمینارز کا انعقاد کیا جاتا ہے اور اساتذہ کو نسلِ نو کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے پرایوارڈز اور نقد انعامات بطور خراجِ تحسین پیش کیے جاتے ہیں۔ جبکہ پاکستان بھر میں اور بالخصوص صوبہ پنجاب میں عالمی یوم اساتذہ کی تقریبات کے موقع پرحکومتی اور ضلعی سطح پر دیے جانے والے ایوارڈز میں بھی بسا اوقات اقربا پروری جھلکتی ہے،جبکہ پچھلے کچھ عرصے سے تواساتذہ کو اعزازات دینے کی یہ روایت ہی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ جبکہ سہی معنوں میں طلباء کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے والے، ان کی دینی، دنیاوی اور اخلاقی تربیت کرنے والے لعل و جواہراساتذہ کرام ان اعزازات سے محروم رہ جاتے ہیں جنہیں ویسے بھی صلے کی کبھی پروا نہیں ہوتی اور وہ اپنی دھن میں مگن نسلِ نو کو سنوارنے کا فریضہ بنا رُکے بنا تھکے سرانجام دیتے رہتے ہیں۔ ایسے ہیرے پنجاب بھر میں بیسیوں ہوں گے اورڈھونڈنے سے اور بھی مل جائیں گے، ضلع خانیوال کے تاریخی شہر تلمبہ کے وسط میں گورنمنٹ ہائی سکول تلمبہ کے بوہڑ والا کیمپس میں دہائیوں سے بنا کسی لالچ وطمع کے بے لوث ہو کر علم کے اجالے بانٹنے والے رانا ظفر اقبال خاں ہوں یاضلع راجن پور کی دور افتادہ تحصیل جام پور کے گورنمنٹ پرائمری سکول وساوے والا میں پڑھانے والے بزرگ معلم محمد ساجد لاشاری، یہ ایسے اساتذہ کرام ہیں جو انتھک محنت اور علم سے لازوال محبت کا استعارہ ہیں، جنہیں نہ صلے کی پرواہ نہ ستائش کی تمنا اور جن کی تعلیم و تعلم سے محبت اور طلباء کے اخلاقی کردار کو سنوارنے کی گواہی نہ صرف اہل علاقہ بلکہ بچے بچے کی زباں پر ہے۔ ان سے تعلیم حاصل کرنے والے طلباء پاکستان بھر میں انہی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے مثبت شبیہ کی صورت ملکی تعمیر و ترقی میں کار آمد شہریوں کے طور پر اہم کردارنبھارہے ہیں۔ ان جیسے اساتذہ کرام حقیقی معنوں میں پیشہ پیغمبری کی لاج رکھنے والے ہیں اور پاکستان کا ایک روشن چہرہ ہیں، ان کی موجودگی اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ پاکستان کی نسلِ نو کی باگ دوڑ محفوظ ہاتھوں میں ہے۔
دنیا بھر میں عالمی یومِ اساتذہ ہر سال 5 اکتوبر کو منایا جاتا ہے، اس سال پہلی بار بین الاقوامی جشن پیرس میں یونیسکو کے ہیڈ کوارٹر میں نہیں ہو گا بلکہ اس کی میزبانی افریقی یونین کے ذریعے پین افریقن کانفرنس آن ٹیچر ایجوکیشن (PACTED) کے فریم ورک کے تحت ادیس ابابا، ایتھوپیا میں ہوگی جبکہ یونیسکو کے اعلامیے کے مطابق اس سال عالمی یومِ اساتذہ کی تقریبات 3 اکتوبر کو منائی جائیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں