تحریر: سردار محمدریاض(کینیڈا)
جمہوریت کا حسن اس میں پوشیدہ ہے کہ عوام کی آواز کو سنا جائے، ان کے مسائل کو سمجھا جائے، اور ان کی فلاح کو پالیسی کا محور بنایا جائے۔ مگر جب ریاستی ادارے، پالیسی ساز، اور معاشی طاقتیں عوامی مسائل سے منہ موڑ لیں، تو تاریخ گواہ ہے کہ عوام آخرکار متحد ہو کر اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے میدان میں آتے ہیں۔ پاکستان میں حالیہ مہینوں کے دوران ایسی ہی ایک قابلِ ذکر مثال جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی صورت میں ہمارے سامنے آئی، جس کی منظم، پرامن اور دوررس جدوجہد نے بالآخر ایک تاریخی کامیابی حاصل کی۔جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا قیام اچانک نہیں ہوا۔ یہ ایک فطری اور ناگزیر ارتقاء تھا جو عوام کی طویل محرومیوں، ریاستی بے حسی، اور معاشی دباؤ کے خلاف ردعمل کے طور پر سامنے آیا۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، ناقص گورننس، بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی، اور عوامی مسائل کو نظر انداز کرنے کی روش نے عوامی بے چینی کو جنم دیا۔ اس فضا میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، تنظیمیں، طلباء، اساتذہ، مزدور، کسان، خواتین اور سول سوسائٹی کے نمائندے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوئے — اور یوں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی وجود میں آئی۔اس کمیٹی کی جدوجہد کی سب سے اہم خصوصیت اس کی پرامن، جمہوری اور باوقار مزاحمت تھی۔ نہ نعرے بازی میں شدت پسندی، نہ احتجاج میں تشدد، بلکہ دلیل، مکالمہ، اور اصولی موقف کو بنیاد بنا کر تحریک کو آگے بڑھایا گیا۔ مختلف شہروں میں جلسے، سیمینارز، احتجاجی ریلیاں، عوامی جرگے اور میڈیا بریفنگز کے ذریعے عوامی شعور میں اضافہ کیا گیا۔ سوشل میڈیا اور دیگر جدید ذرائع کا مؤثر استعمال بھی اس تحریک کی کامیابی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات صرف ذاتی یا طبقاتی مفادات تک محدود نہیں تھے۔ یہ ایسے اجتماعی مطالبات تھے جن سے ہر عام شہری کی زندگی متاثر ہوتی ہے۔ مثلاًبجلی، پانی، گیس اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی،مہنگائی پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات،تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اضافہ،شفاف اور بااختیار مقامی حکومتوں کا قیام،بے روزگاری کے خاتمے کے لیے پالیسی اقدامات اور عوامی نمائندوں کو پالیسی سازی میں حقیقی شمولیت دینا۔یہ تمام مطالبات تحریری شکل میں حکومت کو پیش کیے گئے، اور طویل مذاکرات کے بعد کئی نکات پر باقاعدہ معاہدہ بھی طے پایا۔کئی ہفتوں، بلکہ مہینوں کی جدوجہد، قربانیوں اور استقامت کے بعد جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے وہ مقام حاصل کیا جسے واقعی ”عوامی طاقت کی جیت” کہا جا سکتا ہے۔ حکومت نے ان کے کئی بنیادی مطالبات تسلیم کیے، بعض پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا گیا، اور ایک نیا عوامی نمائندگی کا فریم ورک بھی زیرِ غور ہے۔ یہ صرف ایک کامیابی نہیں، بلکہ عوامی تحریکوں کے لیے ایک نئی مثال، ایک نیا راستہ ہے۔یہ کامیابی پاکستان کی جمہوری تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے۔ اس نے یہ ثابت کیا کہ اگر تحریک خلوص، یکجہتی، اور مقصد کی صداقت کے ساتھ چلائی جائے تو نہ صرف عوامی حمایت حاصل ہوتی ہے بلکہ ریاستی نظام کو بھی جوابدہ بنایا جا سکتا ہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ثابت کیا کہ اختلاف کو انتشار نہیں بننے دینا چاہیے، اور مزاحمت کو تشدد نہیں، حکمت کے ساتھ آگے بڑھانا چاہیے۔جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کامیابی درحقیقت پورے ملک کے لیے ایک پیغام ہیکہ ”اگر عوام متحد ہوں، تو نظام بدلنے میں وقت نہیں لگتا۔”یہ جدوجہد اب ختم نہیں ہوئی بلکہ ایک نئے سفر کا آغاز ہے۔ یہ عوامی شعور کی بیداری، اجتماعی مفاد کے لیے جدوجہد، اور جمہوری اصولوں کی بالادستی کی تحریک ہے جو آنے والے دنوں میں مزید منظم، بامقصد اور وسیع ہو سکتی ہے۔عوام کی طاقت، اتحاد کی علامت۔۔۔۔ اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اس بات کی زندہ مثال ہے کہ جمہوریت صرف ووٹ سے نہیں، بلکہ شعور، عمل، اور جدوجہد سے پروان چڑھتی ہے۔

