ساجد حسن دشتی بلوچ
کیچ کو پنو کے محبت کی شہر کہا جاتا ہے کیچ کو مہر و محبت کی علامت سے پہنچانا جاتا ہے اسی شہر میں امن اور محبت کے طلبگار ڈپٹی کمشنر کیچ جناب بشیر احمد بڑیچ نے تربت سیول سوسائٹی ، کیچ سیول سوسائٹی، این آر ایس پی ، تربت یونیورسٹی اور آل پارٹی کیچ کی تعاون سے کیچ کی تاریخ میں ایک بڑے اورخوبصورت پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ اس گھٹن حالات میں ہر طرف بد امنی قتل و غارت چوری ڈکیتی کے منظر میں ڈپٹی کمشنر نے اس ایونٹ کا اہتمام کیا۔ ہر کؤئی اپنے فن کا مظاہرہ کر رہا تھا ہر کؤئی بڑے جوش و جزبے سے خوشیاں منا رہے تھے کہیں لوگ اپنے ثقافتی کھیلوں میں مصروف تھے تو کہیں اپنے ثقافتی میوزک پر ناچ رہے تھے یہ تین دن ایسے گزرے کہ کسی کو پتہ نہ چلا ایسا محسوس ہوا کہ یہ تین دن نہیں بلکہ تین منٹ تھے بہرحال کوئی مانے یا نہ مانے کیچ کی تاریخ میں یہ اب تک سب سے کامیاب اور خوبصورت ترین پروگرام تھا ۔ ہر پروگرام کے کامیابی کے پیچھے کسی نہ کسی کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے۔ میں مانتا بھی ہوں اس پروگرام کو کامیاب کرنے میں ڈپٹی کمشنر کیچ ، کیچ سیول سوسائٹی ، تربت سیول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کا بڑا ہاتھ تھا۔۔ لیکن کوئی مانے یا نہ مانے اس پروگرام کو کامیاب کرنے اور پر ملکی سطح پر پذیرائی دینے میں قائد نیشن نیشنل پارٹی کے صدر جناب ڈاکٹر عبد المالک بلوچ کا بڑا ہاتھ تھا اگر دیکھا جائے کہ اس پروگرام میں جتنے غیر بلوچ دانشوروں نے شرکت کی وہ سب اس عظیم قائد کے دعوت پر شریک ہوئے اس لئے میں کہتا ہوں کہ اس پروگرام کی کامیابی کا سب سے بڑا سہرا اسی قائد کو جاتا ہے۔۔
Load/Hide Comments

