۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔بزم یاراں۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔

قادربخش بلوچ
دنیا ہمیشہ خوب سے خوب تر ۔کی تلاش میں سرگرداں ھے ۔ترقی یافتہ ممالک کے شہری اسودہ حال ہیں۔ان کے ہر کام روبوٹ کرتے ہیں اب عنقریب دو دہائیوں بعد کئی چیزیں جو اس وقت استعمال میں ہیں ناقابل استعمال ہو جاہینگی۔مثلا۔پٹرول پہ چلنے والی گاڑیاں دو عشروں بعد قصہ پارینہ ہو جاہینگے۔بجلی اور کھمبے کے قصے صرف داستانوں میں ملیں گے۔اسکولوں میں روبوٹ پڈھاہینگے اسپتالوں کا پورا نظام خود کار ہو گا اور پورا نظام روبوٹ چلاہیں گے۔انسانوں کو کسی بھی آپریشن کے لئے جراحی کی نوبت پیش نہیں اے گا۔جس فضل کی جتنی مقدار میں ضرورت ہو گی۔وہ خود کار طریقے سے دستیاب ہوگا۔۔۔لیکن یہ اساہشیں ترقی یافتہ ممالک میں سو فیصد اور ترقی پذیر دنیا میں ایک معقول حد تک۔۔لیکن تیسری دنیا میں مئیسر نہیں ہوں گی کیونکہ تیسری دنیا کے حکمران یہ نہیں چاہتے کہ انکا عوام اسودہ زندگی گزارے۔انسانوں کی اسودگی کے لیے ہمیشہ ان لوگوں نے کام کیا ھے جو تعلیم یافتہ لوگ تھے۔۔ویسے جن دانشوروں نے جمہوریت کا نظام دیا تھا۔ان کا یہ شرط تھا کہ عوامی نمائندگان تعلیم یافتہ ہوں اور سر براہ ریاست اعلی تعلیم یافتہ۔یعنی۔PhD. یا فلسفی۔ اب کوئی تیسری دنیا کے نمائندگان کو دیکھے یہ کتنے تعلیم یافتہ ہیں۔کوئی مانے کہ نہ مانے۔جاہل لوگوں نے کبھی کوئی مثبت تبدیلی نہیں لایا ھے۔۔اب ہم اپنا مثال رکھتے ہیں۔اٹھاسی سے قبل کیچ میں خواتین کا تعلیمی تناسب کتنا تھا۔۔نہ ہو نے کے برابر۔جب ڈاکٹر مالک بلوچ نے مڈل پاس خواتین کو ٹیچر لگانا شروع کیا۔تو ہمارے ہی لوگوں نے اس عمل نہیں سراہا اعلانکہ میٹرک پاس دستیاب نہ تھے۔اور حقیقت میں یہ ایک اچھا عمل تھا جو بعد میں سب نے سراہا ۔کیوں کہ لوگوں میں دھیرے دھیرے شعور انا شروع ہوا۔پھر خواتین میں گویا ایک علمی مقابلہ شروع ہوا۔ڈاکٹر مالک ہی تھے جس نے اپنے مختصر دور وزارت میں۔بلوچستان میں کئی یونیورسٹی بنا دئیے تربت میں بھی ڈاکٹر مالک نے یونیورسٹی بنا دیا نہ صرف یونیورسٹی بلکہ میڈیکل کالج۔ایلمنٹری کالج۔لا کالج۔۔اور کئی عالیشان عمارتیں بھی مالکی دور کی شاندار یادگاریں ہیں۔ڈاکٹر مالک نے کئی اسکولوں کا ہائی اسکول کا درجہ دیا۔ہنوز خطے میں خواتین ڈاکٹرز۔صحافی جو یورپ میں علمی درسگاہوں میں علم سے سیراب ہو رہی ہیں۔کئی مرد خواتین یورپ میں بہترین پوزیشن میں کام کر رہے ہیں۔مالکی کارناموں کے زمرے میں اتے ہیں۔ڈاکٹر مالک بلوچ نے اپنے دور وزارت میں اہل بلوچستان کے نوجوان طلباء کو اسکالر شپ دیئے اب تک کی دستیاب تاریخ میں ڈاکٹر مالک وہ واحد شخص ہیں جنہوں نے بلوچستان میں تاریخی کام کئے ہیں ۔اب حالیہ۔فیسٹیول جس نے کیا بہت اچھا اور عمدہ رہا اس کے منتظمین تعریف کے مستحق ہیں ۔لیکن ناقدین نےاس فسٹویل جس کی ہر عام خاص یہاں تک کے ساری کیچ نے تعریف کے پل باندھے۔ناقدین کو ایک انکھ بھی نہیں بھایا۔لیکن کیچ گواہ ھے یہ تین دنوں کا یادگار فسٹویل ایک یاد میلہ جو کیچی تاریخ کا ایک اہم باب رہے گا اس فسٹویل میں میں بلوچ ثقافت کو اجاگر کیا گیا بلوچوں کے قدیم ترین اشیاء متعارف کراے گئے یہاں تک کہ صند ساچی وغیرہ۔کافی پرانی چیزیں روشناس کرای گئی تھیں جو لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے تھے۔اسکے علاوہ ڈھول۔شے پرجا۔صوت۔اشتی۔جو بلوچ کا ایک مرغوب اور پسندیدہ کھیل رہا ھے۔یہ سب عملا کرکے دکھاے گئے۔علاوہ ازیں بلوچوں کے روح پرور اشعار۔جو بلوچ ثقافت کا روح رواں ھے۔
کمبریں گونچان او کشء کلی
توبہ چہ گونچاناں دو بندیناں
کلی یانی بنداں ورکیناں۔
یہ اشعار تو بلوچ ثقافت کی روح ہیں۔اور پوری شعر۔خوبصورت پیراے سنایا گیا اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا۔۔اور کئی کتابیں فروخت ہوہیں۔۔تین دنوں لوگوں کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ھے کہ صبح سے شام تک رش تھا کہ بڑھتا جاتا تھا۔ایک بات یہ ضرور ھے کہ یہ رش کی بڑی وجہ کیچ کے تعلیمی ادارے تھے اور تعلیمی اداروں کا خالق ڈاکٹر مالک بلوچ ہیں۔اور لوگوں کی خاص دلچسپی اور شراکت کی سب سے بڑی وجہ ڈاکٹر مالک کی فسٹویل میں موجودگی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں