تربت اور گوادر کی عام عوام

ایس ڈی بلوچ

معاشرے میں یہ دیکھا گیا ہے کہ اکثر عام عوام کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے.
چاہے وہ بجلی کا مسئلہ ہو، پانی کی قلت ہو یا تعلیم کا فقدان۔ زندگی کے تمام بنیادی مسائل کا بوجھ ہمیشہ عام عوام کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔
اسی معاشرے میں مالدار طبقہ ان مسائل سے متاثر نہیں ہوتا کیونکہ ان کے پاس متبادل ذرائع موجود ہوتے ہیں۔
تربت اور گوادر کے تقریباً 70 فیصد لوگ علاج کی غرض سے کراچی جاتے ہیں جبکہ 30 فیصد لوگ کاروبار، تعلیم یا رشتہ داروں سے ملنے کے لیے کراچی کا رخ کرتے ہیں۔

اس وقت عام عوام دو مافیاؤں کے درمیان چکی کی طرح پس رہی ہے۔ پچھلے ایک ہفتے سے تربت، گوادر اور کراچی کا زمینی راستہ خود ساختہ طور پر بند ہے۔ ایک مافیا کہتا ہے کہ وہ بسوں میں ڈیزل لے کے جاتے ہیں، جبکہ دوسرا مافیا کہتا ہے کہ ہم 140 لیٹر ڈیزل اُتارتے ہیں؛ اگر ڈیزل دیتے ہو تو “حلال” ہے، ورنہ “حرام”۔ ان دونوں مافیاؤں کی لڑائی میں ہزاروں مسافر دونوں جانب پھنس کر رہ گئے ہیں۔
رینٹ کار والے بھی اس مافیا کا حصہ بن گئے ہیں، جو تربت سے کراچی یا گوادر سے کراچی تک کے مجبور مریضوں سے 35 سے 40 ہزار روپے تک کرایہ وصول کر رہے ہیں۔
غریب عوام کے پاس علاج کے پیسے نہیں، وہ اتنی بڑی رقم کرایے کے لیے کیسے دے سکتے ہیں؟
اس صورتِ حال سے صاف ظاہر ہے کہ ان مافیاؤں کے نزدیک غریب زندہ رہے یا مر جائے، ان کی کوئی پروا نہیں ان کے لیے صرف دولت کا حصول ہی سب کچھ ہے۔
ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر 70 فیصد مریض کراچی علاج کے لیے جاتے ہیں تو سندھ، جو خود ایک پسماندہ صوبہ ہے، ہسپتالوں کے معاملے میں بلوچستان سے کیوں آگے ہے؟ اگر یہی سہولیات بلوچستان میں ہوتے تو اتنے مریضوں کو اذیت کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ آخر یہ ناکامی اور نالائقی کس کی ہے؟
اب عوام کو سوچنا ہوگا۔ سیاسی پارٹیاں بھی ان مافیاؤں کے سامنے بے بس نظر آتی ہیں۔
کیا عوام اسی طرح دربدری کا شکار رہیں گے، یا اپنے لیے ایسا راستہ اختیار کریں گے جس سے ان مافیاؤں سے نجات ممکن ہو؟
اب وقت کا تقاضا یہی ہے کہ عام عوام کو خود اٹھ کر کھڑا ہونا ہوگا، اِن مافیاؤں کو اپنا حقیقی خادم اور خود کو آقا بنانا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں