سانچ (سیلاب، ساون اور ریاست کا امتحان)

محمد مظہر رشید چودھری
سال 2025 کا موسمِ گرما پاکستان کے لیے ایک غیر معمولی چیلنج بن کر آیا۔ اپریل سے ہی گرمی نے اپنے تیور دکھانے شروع کیے، اور مئی و جون میں سورج جیسے دہکتے ہوئے لوہے کا ٹکڑا بن گیا۔ پری مون سون کی چند بوندوں نے کچھ لمحوں کے لیے ٹھنڈک کا احساس ضرور دیا مگر زمین کی پیاس بجھ نہ سکی۔ جون کے آخری ہفتوں میں گرمی کے ساتھ بے یقینی بھی بڑھتی گئی۔ کسان کی نظریں آسمان پر تھیں، مگر بادلوں نے دیر سے آنکھ کھولی۔پھر جولائی کی دوپہر میں بادل چھائے، جن کے ساتھ امید نہیں، اندیشہ بھی برسا۔ گلگت بلتستان، دیر، سوات اور خیبر پختون خوا کے دیگر علاقوں میں جب بادل پھٹے تو ندی نالوں نے غضب ڈھا دیا۔ پہاڑی علاقوں کی زمینیں، بستیاں، کھیت اور گلیاں پانی کے طوفان میں بہہ گئیں۔ وہاں کے لوگ جو برسوں سے فطرت کے قریب رہتے آئے تھے، پہلی بار اس کے قہر کا شکار ہوئے۔ سینکڑوں جانیں لقمہ اجل بنیں، ہزاروں ایکڑ زمین برباد ہو گئی۔پنجاب میں جولائی کے وسط میں وہ منظر سامنے آیا جو نسلوں تک یاد رہے گا۔ اوکاڑہ، قصور، لودھراں، وہاڑی، مظفرگڑھ، نارووال اور ملتان کے دیہاتوں میں بارش کے پانی نے جیسے زمین کی سانس بند کر دی۔ اوکاڑہ شہر میں مون سون کے آغاز نے گزشتہ کئی دہائیوں کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔ چار دن تک شہر کے بازار اور گلیاں پانی میں ڈوبی رہیں، نکاسی آب کا نظام فیل ہوا، اور شہری زندگی مفلوج ہو گئی۔ بلدیاتی اداروں کی کوششیں بارش کے اگلے اسپیل نے بہا دیں۔کراچی اور حیدرآباد کے حالات بھی مختلف نہ تھے۔ وہاں بارش نے شہری نظام کو گھٹنوں پر لا کھڑا کیا۔ یہی وہ وقت تھا جب ساون نے سیراب کم اور تباہ زیادہ کیا۔ بھادوں کے آغاز کے ساتھ دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی۔ بھارت کی جانب سے پانی کے غیر اعلانیہ اخراج نے دریائے ستلج اور دریائے راوی میں گزشتہ چار دہائیوں سے زیادہ سیلابی صورتحال پیدا کر دی۔ نتیجتاً لاہور، قصور، اوکاڑہ، وہاڑی، ملتان اور جنوبی پنجاب کے متعدد علاقے زیرِ آب آ گئے۔پنجاب میں ایسا تباہ کن سیلاب گزشتہ چار دہائیوں میں پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ مگر اس ہنگامے میں ایک بات نے امید جگائی، انتظامی سطح پر سرگرمی اور سیاسی قیادت کی موجودگی۔ وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت پنجاب کابینہ کا 29واں اجلاس اسی تناظر میں تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔اجلاس میں سیلاب کی تباہ کاریوں، متاثرہ علاقوں کی بحالی، اور متاثرین کی مالی امداد کے لیے بڑے فیصلے کیے گئے۔ وزیرِاعلیٰ نے اسے پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو، ریلیف اور انخلا آپریشن قرار دیا۔ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ 17 اکتوبر 2025 سے سیلاب متاثرین کو امدادی چیک تقسیم کیے جائیں گے۔ حتمی امدادی پیکج کی منظوری دی گئی جس کے مطابق جاں بحق افراد کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے، مستقل معذوری کی صورت میں 5 لاکھ، اور معمولی معذوری پر 3 لاکھ روپے ملیں گے۔اسی طرح مکانات کے نقصانات کے ازالے کے لیے منفرد امدادی فارمولہ طے ہوا،پکا گھر مکمل گرنے پر 10 لاکھ روپے، جزوی طور پر گرنے پر 3 لاکھ روپے،کچا گھر مکمل گرنے پر 5 لاکھ روپے،جزوی نقصان پر 1.5 لاکھ روپے۔مویشی پال کسانوں کے نقصان کا بھی احساس کیا گیا، بڑے مویشی پر 5 لاکھ روپے اور چھوٹے جانور کے مرنے پر 50 ہزار روپے دیے جائیں گے۔فصلوں کی تباہی پر یہ اصولی فیصلہ کیا گیا کہ 25 فیصد تک نقصان ہونے والے علاقوں میں 20 ہزار روپے فی ایکڑ امداد دی جائے گی۔پنجاب کے 2855 مواضعات میں آبیانہ اور ایگریکلچر انکم ٹیکس معاف کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ کسان کم از کم ایک سانس سکون کا لے سکیں۔اجلاس میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم نے تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب دیکھا، مگر اللہ کے فضل سے شرح اموات سب سے کم رہی۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ اگر نیت اور نظم موجود ہو تو نقصان کم کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے سیلاب کے دوران ناقابلِ بیان محنت کرنے والی ٹیموں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ریسکیو 1122، پولیس، پی ڈی ایم اے، سول ڈیفنس، ڈپٹی کمشنرز اور مقامی انتظامیہ سب کو زبردست سراہا گیا۔ سول ڈیفنس رضاکاروں کی شاندار خدمات پر 15 ہزار روپے ماہانہ اضافے کا اعلان کیا گیا۔وزیراعلیٰ نے اپنی کابینہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ اور وزرا دفاتر میں بیٹھنے کے لیے نہیں بلکہ عوام کے دکھ میں شریک ہونے کے لیے ہیں۔انہوں نے سیلاب کے دوران ساڑھے 11 لاکھ متاثرین کے علاج کو ایک ’انتظامی ریکارڈ‘ قرار دیا۔ ان کے الفاظ میں،”ہم سب پاکستانی ہیں، چاروں صوبے برابر اور محترم ہیں۔ جس طرح پنجاب دوسروں کے لیے اپنے دل اور وسائل کے دروازے کھلے رکھتا ہے، اسی طرح ہم بھی دوسروں سے یہی امید رکھتے ہیں۔“اجلاس میں پیش کی گئی ایس ایم بی آر رپورٹ کے مطابق، سیلاب نے پنجاب کے 27 اضلاع کے 4678 مواضعات کو متاثر کیا۔ 2010 ایکڑ فصلیں تباہ ہوئیں، 4760581 آبادی متاثر ہوئی، 2640916 افراد اور 2117396 مویشی ریسکیو کیے گئے، اور 417 ریلیف کیمپ قائم کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار محض کاغذ پر نہیں ان کے پیچھے دکھ، صبر، آنسو اور امید کی ہزاروں کہانیاں چھپی ہیں۔کابینہ اجلاس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ آئندہ دریا کی گزرگاہوں میں کسی قسم کی تعمیرات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ فیصلہ محض حفاظتی نہیں بلکہ آئندہ نسلوں کے تحفظ کا وعدہ ہے۔ اجلاس میں پنجاب کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈا ٹرینڈز کی مذمت بھی کی گئی کیونکہ قدرتی آفات کے وقت قوم کو تقسیم نہیں، متحد ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ سب فیصلے اگر حرف بہ حرف نافذ ہوئے تو پنجاب کا کسان ایک بار پھر کھڑا ہو سکتا ہے۔ اگر یہ وعدے کاغذوں تک محدود رہے تو تاریخ انہیں ’فائلوں کا ریلیف‘ کہے گی۔سانچ کے قارئین کرام! یہ سیلاب محض پانی کا نہیں بلکہ احساس کا بھی امتحان ہے۔ پانی نے زمین تو بہائی، مگر شاید ضمیر کو بھی جگایا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم اس جاگتے ضمیر کو کب تک زندہ رکھتے ہیں۔ریاست، سیاست اور عوام تینوں کے کردار اس آزمائش میں ناپے جا چکے ہیں۔ جنہوں نے دن رات سیلابی پانی میں کھڑے ہو کر دوسروں کو بچایا، وہ دراصل اس ملک کی اصل تصویر ہیں۔ وہ کسان، وہ ریسکیو اہلکار، وہ رضاکار یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ساون کے شور میں انسانیت کی آواز کو زندہ رکھا۔ ساون اور بھادوں کے ان دنوں نے ہمیں پھر سے یاد دلایا ہے کہ پانی اگر برکت ہے تو امتحان بھی ہے۔ اگر ہم نے اپنی زمین، اپنے وسائل اور اپنے فیصلوں کو دیانت سے نہ برتا تو یہ موسم بار بار لوٹ کر آئیں گے کبھی بادل کے روپ میں، کبھی سیلاب کے۔مگر شاید اسی مٹی سے امید بھی پھوٹتی ہے۔اگر ارادے مضبوط رہیں، تو یہی مٹی پھر سبزہ اگائے گی، یہی آسمان پھر رحمت بنے گا،اور یہی پنجاب دوبارہ کھڑا ہوگا پہلے سے زیادہ مضبوط، پہلے سے زیادہ باشعور۔

محمد مظہر رشید چودھری (03336963372)

اپنا تبصرہ بھیجیں