پسنی میں ماہیگیروں کے اصل مسائل اور تنظیموں کی ترجیحات پر سوالیہ نشان

تحریر: عطاء دلسرد

پسنی، جو بلوچستان کا ساحلی علاقہ ہے، صدیوں سے سمندر کے سینے کو چیر کر رزق تلاش کرنے والے ماہیگیروں کا مسکن رہا ہے۔ یہ شہر نہ صرف معاشی حوالے سے اہمیت رکھتا ہے بلکہ اپنی ثقافتی شناخت میں بھی ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ مگر آج جب پسنی کے ماہیگیر جدید چیلنجز، ماحولیاتی تبدیلیوں، اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، تو ان کی نمائندگی کرنے والی تنظیمیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا دکھائی دیتی ہیں، نہ کہ اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے متحد ہیں ،

پسنی میں دو نمایاں ماہیگیر تنظیمیں سرگرم عمل ہیں جن میں ماہیگیر ویلفیئر سوسائٹی اور کہدہ عبد الکریم کوآپریٹو فشرمین سوسائٹی شامل ہیں لیکن یہ دونوں تنظیمیں بظاہر ماہیگیروں کی نمائندہ ہیں، لیکن حقیقت میں ان کی سرگرمیوں کا محور مفاداتی سیاست اور باہمی چپقلش بن چکا ہے۔ ایک طرف سندھی ماہیگیروں کی حمایت میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں، تو دوسری طرف غیر مقامی ماہیگیروں کی مخالفت میں محاذ بنے ہوئے ہیں۔ اس ماحول میں اصل سوال یہ ہے کہ کیا ماہیگیر کی زندگی بہتر ہو رہی ہے یا وہی پرانی مشکلات پیدا کئے جا رہے ہیں ،اگر دیکھا جائے تو انکے مسائل ایک گمبھیر صورت میں موجود ہیں

معمولی سی باتوں پر “سندھی ماہیگیر لاؤ” یا “سندھی ماہیگیر بھگاؤ” جیسے نعرے لگانے سے پسنی کے عام ماہیگیر کو کیا حاصل ہو رہا ہے؟ انھیں خود پتہ نہیں کہ ان کے بچوں کی تعلیم کا کیا بنا؟ کیا ان کے گھروں میں صحت کی بنیادی سہولتیں میسر ہیں؟ کیا کوئی تنظیم اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ کتنے ماہیگیر خاندانوں کے نوجوان روزگار کے لیے پریشان ہیں؟ بدقسمتی سے جواب نفی میں ہے۔

آج بھی ماہیگیروں کی بڑی تعداد اپنی محنت کا مناسب معاوضہ حاصل نہیں کر پا رہی ہے بلکہ مچھلی کی قیمت کا تعین بازار میں مافیاز کرتے ہیں، اور اصل محنت کش اکثر قرض کے بوجھ تلے دبا رہتا ہے۔ ادھر ماہیگیروں کے لیے بنائے گئے کوآپریٹو نظام جن کا مقصد ماہی گیروں کو معاشی تحفظ فراہم کرنا تھا، اب محض کاغذی کارروائی یا گروہی مفادات کی آماجگاہ بن چکے ہیں،ان تنظیموں کو سوچنا ہوگا کہ اگر وہ واقعی ماہیگیروں کی نمائندہ ہیں تو انہیں نعرے نہیں، منصوبے بنانے ہوں گے۔ تعلیم، صحت، اور جدید ماہی گیری کے تربیتی پروگرام ان کی اولین ترجیحات ہونی چاہئیں۔ اگر وسائل نہیں تو حکومت سے مطالبہ کریں، غیر سرکاری اداروں سے تعاون حاصل کریں، لیکن کم از کم راستہ تو درست سمت میں چنیں،پسنی کے ماہیگیر کسی سے کم نہیں، ان کے بچوں میں صلاحیتیں ہیں، ان کے نوجوانوں میں حوصلے ہیں، اور ان کے بزرگوں کے پاس تجربے کا خزانہ ہے، لیکن کمی صرف قیادت کی ہے ،ان سب کو ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو انہیں تقسیم کرنے کے بجائے جوڑنے والی ہو، جو صرف نمائندگی کا دعویٰ نہ کرے بلکہ خدمت کا ثبوت دے۔
آخر میں یہی عرض ہے کہ تنظیموں کی حیثیت طاقتور تب ہوتی ہے جب وہ کمزور کا سہارا بنتی ہیں اور انھیں جوڑتے ہیں ،نہ کہ طاقت کے لیے کمزور کو نظر انداز کر دیتی ہیں،پسنی کے ماہیگیروں کو صرف “اپنوں” یا “غیروں” میں بانٹنے کے بجائے، سب کو ایک برادری کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہی اصل ترقی کی کنجی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں