تحریر سید ثناءاللہ شاہ
خضدار کے عوام نے ہر الیکشن میں اپنے نمائندوں پر بھروسہ کیا، ان کے وعدوں پر یقین کیا، اور بہتر مستقبل کی امید میں ووٹ دیا
انتخابی مہم کے دوران عوام کو ترقی، روزگار، بہتر تعلیم و صحت، سڑکوں اور پانی بجلی کی فراہمی کے خواب دکھائے گئے۔ مگر جب اقتدار ملا تو وہ سب وعدے محض نعروں تک محدود رہ گئے منتخب نمائندوں نے خضدار میں ترقیاتی کام ضرور کیے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ کام صرف اپنے خاص لوگوں اور قریبی ساتھیوں تک محدود رہے۔ عام عوام، جو اصل ووٹ بینک ہیں، آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ سڑکیں خستہ حال، اسپتال غیر فعال، تعلیمی ادارے کمزور، اور عوامی مسائل بدستور اپنی جگہ قائم ہیں خضدار کے عوام نے الیکشن کے دن بڑی امیدوں اور خوابوں کے ساتھ اپنے نمائندوں کو ووٹ دیا تھا۔ ہر امیدوار نے انتخابی مہم کے دوران عوام سے ترقی، خوشحالی، روزگار، بہتر تعلیم و صحت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے وعدے کیے تھے۔ جلسوں میں بڑے بڑے دعوے کیے گئے کہ خضدار کو جدید اور ترقی یافتہ شہر بنایا جائے گا، سڑکیں تعمیر ہوں گی، پانی اور بجلی کے مسائل حل کیے جائیں گے، نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے اور عوام کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہوں گے لیکن افسوس کہ انتخابات گزرنے کے بعد وہ سارے وعدے محض نعرے بن کر رہ گئے۔ عوام جن خوابوں کی تعبیر دیکھنے کے انتظار میں تھی، وہ خواب ادھورے رہ گئے۔ نہ ترقیاتی منصوبے مکمل ہوئے، نہ عوامی سہولتوں میں بہتری آئی۔ خضدار کی گلیاں آج بھی ٹوٹی سڑکوں، گندے نالوں اور بجلی و پانی کی کمی کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ عوام کے بنیادی مسائل جوں کےتوں ہیں جبکہ نمائندے خاموش ہیں

