جب صحافت جرم ٹھہرے

عزیز سنگھور

کزشتہ روز جاری ہونے والی ایک مشترکہ پریس ریلیز نے ملک کے اہلِ دانش، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس پریس ریلیز میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی)، ویمنز ایکشن فورم لاہور، شرکَت گاہ، اور ساؤتھ ایشیا پارٹنرشپ پاکستان نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ میڈیا اور غیر سرکاری تنظیموں کے خلاف جاری اشتعال انگیز مہم کو فوراً بند کرے۔

یہ ردِعمل وزارتِ اطلاعات و نشریات کے اس اشتہار کے بعد سامنے آیا، جس میں صحافیوں، محققین، اور این جی اوز کے کارکنوں کو ’’دشمن کے بیانیے‘‘ کے ممکنہ آلہ کار کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اشتہار میں شہریوں سے کہا گیا کہ وہ ایسے ’’مشکوک‘‘ افراد یا تنظیموں کی نشاندہی کریں جو ملک کے مفاد کے خلاف سرگرم ہوں۔ بظاہر یہ ایک اشتہار تھا، مگر درحقیقت یہ مسلم لیگ ن کی سوچ اور پالیسی کا اظہار تھا ایک ایسی پالیسی جو آزادیِ اظہار، صحافت اور سول سوسائٹی کے وجود کو مشکوک بنانے کے لیے برسوں سے بروئے کار ہے۔

اسی اشتہار پر کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی اور ایچ أر سی پی کے چیئرپرسن اسد بٹ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے ’’کالا قانون‘‘ قرار دیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے اقدامات سے باز رہے جو اظہارِ رائے کی آزادی کے منافی ہوں۔
اسی طرح کراچی یونین آف جرنلسٹس (KUJ) نے بھی اس حکومتی مہم کے خلاف بھرپور احتجاج کیا اور واضح کیا کہ ن حکومت کو صحافیوں کو خوفزدہ کرنے کے بجائے ان کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔ یہ دونوں بیانات دراصل اس بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاسی کرتے ہیں جو پاکستان میں آزاد صحافت کے مستقبل کے بارے میں پائی جا رہی ہے۔

پاکستان میں صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو پہلے ہی شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ کبھی فنڈنگ کے بہانے این جی اوز کے دفاتر پر چھاپے مارے جاتے ہیں، کبھی ان کی رجسٹریشن معطل کی جاتی ہے۔ صحافیوں کے خلاف جھوٹے مقدمات، کالموں پر پابندیاں، ٹی وی چینلز کو بند کرنے کے احکامات، اور ’’نامعلوم‘‘ افراد کی دھمکیاں اس ملک کی معمول کی خبریں بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر حکومت خود ہی صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو ’’غیر ریاستی عناصر‘‘ کا سہولت کار قرار دینے لگے تو یہ محض بیانیہ نہیں بلکہ جبر کا ایک منظم ہتھیار بن جاتا ہے۔

حکومت نے ’’قومی سلامتی‘‘ کے نام پر ایک مبہم بیانیہ تشکیل دیا ہے، جو ہر اختلافی آواز کو دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی اخبار عوام کے دکھ بیان کرے تو کہا جاتا ہے کہ وہ دشمن کی زبان بول رہا ہے۔ اگر کوئی این جی او جبری گمشدگیوں کی بات کرے تو اسے ’’غیر ملکی فنڈڈ‘‘ کہہ کر بدنام کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی محقق انسانی حقوق پر تحقیق کرے تو اسے ’’مشتبہ‘‘ قرار دے کر تنہا کر دیا جاتا ہے۔

یہ بیانیہ دراصل فکری غلامی کی ایک زنجیر ہے، جو سماج کے سوچنے اور بولنے کے تمام راستے مسدود کر دیتا ہے۔ حکومت کے اس اشتہار نے عوام کے اندر خوف اور بے اعتمادی کو مزید گہرا کیا ہے۔ جب شہریوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ اپنے اردگرد کے صحافی یا کارکن پر شک کریں، تو دراصل ایک ایسا سماج تشکیل دیا جا رہا ہوتا ہے جہاں اعتماد کی فضا مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے۔

ایسا معاشرہ جہاں ہر فرد دوسرے پر شک کرے، وہاں نہ جمہوریت پنپ سکتی ہے اور نہ انسانی وقار برقرار رہ سکتا ہے۔ یہی نکتہ پریس ریلیز میں نمایاں طور پر اٹھایا گیا ہے کہ حکومت کا یہ قدم شہریوں کے درمیان بدگمانی اور خوف کو فروغ دیتا ہے۔

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو ’’انتشار‘‘ کا ذریعہ قرار دینا بھی اسی سوچ کا تسلسل ہے۔ پہلے ہی پاکستان میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) آزادیِ اظہار پر تلوار بن کر لٹک رہا ہے۔ اب اگر ہر سوشل میڈیا پوسٹ کو دشمن کا پروپیگنڈا کہا جائے تو سوال یہ ہے کہ پھر سچ کہاں بولا جائے؟ عوام تک حقائق کس کے ذریعے پہنچیں؟

یہ امر افسوسناک ہے کہ پاکستان میں صحافیوں کے خلاف جرائم، دھمکیاں، حملے، جبری گمشدگیاں اور قتل، عالمی اداروں کی رپورٹس میں تسلسل سے درج ہوتے آ رہے ہیں۔ رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز سمیت کئی بین الاقوامی تنظیمیں پاکستان کو آزادیِ صحافت کے لحاظ سے خطرناک ممالک کی فہرست میں شامل کر چکی ہیں۔ اس کے باوجود، وزارتِ اطلاعات کے اس اشتہار نے نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر حکومت اپنے ہی عوام، اپنے ہی صحافیوں اور اپنے ہی محققین پر شک کرے تو پھر دشمن کون ہے؟ جمہوریت میں میڈیا کو ’’چوتھا ستون‘‘ کہا جاتا ہے، جبکہ سول سوسائٹی کو وہ آئینہ سمجھا جاتا ہے جس میں حکومت اپنی پالیسیوں کی جھلک دیکھ سکتی ہے۔ اگر یہی ستون توڑ دیے جائیں اور یہ آئینہ ماند کر دیا جائے تو جمہوریت کا ڈھانچہ اپنی بنیاد کھو دیتا ہے۔

یہ اشتہار دراصل ریاستی بے یقینی اور خوف کی علامت ہے۔ جب حکومتیں اپنے عوام سے خوفزدہ ہونے لگیں تو وہ ایسے ہی اقدامات کرتی ہیں عوام کی زبان بند کرنے کے لیے، سچائی کو چھپانے کے لیے، اور اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ ایسے اقدامات ہمیشہ الٹے ثابت ہوئے ہیں۔ ہر وہ ریاست جو اپنے شہریوں کو ’’مشکوک‘‘ قرار دے کر دبانے کی کوشش کرتی ہے، بالآخر خود اپنے تضادات کا شکار ہو جاتی ہے۔

اگر پاکستان واقعی ایک جمہوری ریاست کے طور پر دنیا میں مقام حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے فوری طور پر اس سوچ کو ترک کرنا ہوگا۔
پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ وزارتِ اطلاعات کا یہ اشتہار واپس لیا جائے اور حکومت واضح طور پر اعلان کرے کہ صحافی، محقق اور سماجی کارکن ’’دشمن‘‘ نہیں بلکہ ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہیں آزادانہ ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

دوسرا قدم یہ ہونا چاہیے کہ حکومت فنڈنگ، رجسٹریشن اور رپورٹنگ کے نام پر سول سوسائٹی کو ہراساں کرنے کی پالیسی ترک کرے۔ اگر کوئی تنظیم انسانی حقوق یا جبری گمشدگیوں پر بات کرتی ہے تو اسے دشمن نہیں بلکہ ایک آئینی کردار ادا کرنے والا ادارہ سمجھا جائے۔

ریاست اگر واقعی اپنے وجود کو ’’جمہوری‘‘ کہلانے کی خواہاں ہے تو اسے اپنے رویے بدلنے ہوں گے۔ صحافی اور سماجی کارکن اس کے دشمن نہیں بلکہ اس کے مستقبل کے معمار ہیں۔
انہیں دبانے، بدنام کرنے یا خاموش کرنے کی بجائے ان کی حفاظت کرنا ہی اصل حب الوطنی ہے۔ یہی جمہوریت کا تقاضا ہے، یہی انسانی وقار کی ضمانت ہے، اور یہی پاکستان کے بہتر اور محفوظ مستقبل کی واحد راہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں