تحریر : محمد صدیق کھیتران
صدیوں سے دنیا پر تسلط قائم کرنے کا مقابلہ جغرافیے اور اس کے اندر نشوونما پانے والی تہذیبوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ سمندروں سے لےکر ہارٹ لینڈ یعنی بری خطوں تک جغرافیائی اور اہم مقامات کے کنٹرول اور ان کے فراہم کردہ اسٹریٹجک فوائد کے ہتھیانے کے ارد گرد گھومتا ہے۔ جیو پولیٹکس کے نظریات ان حرکیات کو سمجھنے کے لیے فریم ورک مہیا کرتے ہیں۔1890، میں الفریڈ تھائر مہان نے نظریہ دیا کہ بحری افواج کی بالادستی ہی عالمی اثر و رسوخ کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ جس پربحری فوجی قوت کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیا گیاتھا۔ بعد ازاں 1904 میں ہالفورڈ میکنڈر نے اپنی ہارٹ لینڈ تھیوری متعارف کرائی۔ جس میں کہا گیا کہ یورپ اور ایشیا کے اندرونی خطوں یعنی “محوری علاقو” پر کنٹرول ہی دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کی بنیاد ہے۔ یہ نظریہ بھی اپنے وقت میں کئی طریقوں سے متعلق رہا۔ اس سے پہلےچونکہ امریکہ عالمی تسلط کے مقصد سے اپنی فوجی قوت کے لیے سمندری طاقت پر انحصار کرتا تھا۔ نئے نظرئیے نے صدیوں کی اسٹریٹجک سوچ کو نئی شکل میں ڈھالا ۔جو بڑے ممالک اور سپر پاورز کی بڑی حکمت عملیوں کی یکساں رہنمائی کرتا تھا۔ ماہان کے نظرئیےنے اپنے وقت میں برطانوی اور امریکی بحری غلبہ کو راستہ دکھایا ۔ جبکہ میکنڈر کے خیالات نے روسی توسیع پسندی پر قابو پانے کے لیے برطانوی کوششوں، نازی جرمنی کا تعاقب، زمینی وسعت پر مبنی پاور فوجی قوت والے سوویت یونین کی حکمت عملیوں اور امریکی سرد جنگ کی روک تھام کی پالیسیوں کو راہنمائی دی۔ اس نظرئے نے جس کا مقصد محوری علاقوں پر سوویت یونین کے بڑھتے غلبے کا مقابلہ کرنا تھا۔اکیسویں صدی میں محوری علاقے اورناہی بحری بالادستی موجودہ عالمی مسابقت کی پیچیدگیوں کو قابو میں لانے پوزیشن برقرار رکھ سکی ۔ کیونکہ دنیا اکلوتی سپر پاور کے مقابلے میں کثیر قطبیت کے دور میں داخل ہوچکی ہے۔اس کے بعد “نکولس جان اسپائیک مین” ایک امریکی جیو پولیٹیکل اسٹریٹجسٹ سامنے آیا۔ اس نے رِم لینڈ تھیوری کا تصور پیش کیا۔ یہ بتایا گیا کہ بحری طاقت اور زمینی وسائل تک رسائی کے لئے رم لینڈ کو کنٹرول کرنے والی طاقت بالآخر محوری علاقوں کو کنٹرول کر سکتی ہے اور اس طرح دنیا پر غلبہ قائم رکھا جاسکتا ہے۔ اسپائیک مین نے کہا تھا “جو ملک رم لینڈ کو کنٹرول کرے گا!! وہی یورپ اور ایشیا پر حکمرانی کرے گا ۔ اور جو یورپ اور ایشیا پر حکمرانی کرے گا؟ وہی دنیا پر حکمرانی کرے گا ۔” گویا یورپ اور ایشیا کےارد گرد ساحلی علاقے کو “رم لینڈ ” ہی نمایاں کرتی ہے۔ یعنی جدید جغرافیائی سیاست کو سمجھنے کے لیے یہ نظریہ ایک توانا فریم ورک مہیا کرتا ہے۔ جہاں بری فوجی طاقت، بحری فوجی طاقت کا مشترکہ سنگم بنتا ہو۔ رم لینڈ کے تصور میں زمین اور سمندر کے درمیان پل کے طور پر کام کرنے والے خطوں کی نشاندھی کی گئی ہے۔جدھراہم قدرتی وسائل بڑھتی ہوئی معیشتیں اور دنیا کی آبادی کا ایک اہم حصہ سکونت پزیر ہے۔ یہ علاقے اہم بحری راستوں اور فوجی اڈوں کی میزبانی کرتے ہیں۔ جیسے آبنائے ملاکا، آبنائے حرمز، بحیرہ عرب اور نہر سویز عالمی تجارت و توانائی کے بہاؤ کے لیے اسٹریٹجک مقام کا درجہ رکھتی ہیں۔ جدھر امریکہ کی قیادت میں مغربی بحری طاقتیں چین، روس، ہندوستان، ایران اور شمالی کوریا جیسے بری قوتوں کے سامنے کھڑی ہیں۔ ان مقامات پر عدم استحکام گویا رم لینڈ پرحتمی جنگ کا میدان تیار کرنا ہے۔ بظاہر مستقبل کی بڑی عالمی جنگ اس مقام پر عالمی نظام کے مستقبل کا تعین کرنے والی ہے ۔ اکیسویں صدی کا رم لینڈ صرف ایک جغرافیائی مقام نہیں ہے بلکہ جیو پولیٹیکل بنیاد ہے جو آنے والی دہائیوں تک طاقت کے مرکزکو تشکیل دینے والی ہے۔مشہور جیو پولیٹیکل اسٹریٹجسٹ رابرٹ ڈی کپلان اپنی تصنیف “جیوگرافی کا بدلہ” میں کہتا ہے۔کہ اکیسویں صدی میں امریکہ اور چین دنیا کی عظیم سپر پاور بن چکی ہیں۔ ان دو کے درمیان واقع بڑا ملک ہندوستان ہے۔ جس طرف وہ اپنا وزن ڈالے گا۔ وہی سپر پاور دنیا کی حتمی غالب فوجی طاقت سمجھی جائے گی۔ مہان نے ایک صدی پہلے کہا تھا۔ ہندوستان ہی وہ ملک ہے جو چین اور مشرق وسطیٰ کے درمیان بری خطے کو سمندری حدود سے جوڑتا ہے۔آبنائے حرمز، آبنائے ملاکا اور سوئز کینال جیسی رم لینڈ میں اہم سمندری راستوں اور فوجی اڈوں خاص کر گوادر، اورماڑہ ، گڈیانی، کراچی، پسنی ، افغانستان کا باگرام فضائی اڈا اور ایران کی چاہ بہار بندگاہ کی اہمیت ان کی اسٹریٹجک فوقیت کو ظاہر کرتی ہے۔ خوش قسمتی کہیں یا کچھ اور نام دیں۔ ان میں کراچی اور باگرام کو چھوڑ کر باقی سارے علاقے بلوچ اور مروجہ بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ جس کیلئے داخلی سطح پر ایک درمیانے درجے کی شورش پچھلے پچیس سالوں سے چل رہی ہے۔ اس تناظر میں افغانستان ، پاکستان اور ایران کی جغرافیائی بقا کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ محوری بری علاقوں میں چین، ہندوستان ، پاکستان ،بنگلہ دیش ، انڈونیشیا سمیت مشرق بعید میں سب سے بڑےطاقت کے عناصر معیشت، سر چکراتی ٹیکنالوجی پر دسترس، قدرتی وسائل ( ریئر ارتھ میٹیریل اور اس کی مصنوعات)، انسانی وسائل وہ معاملات ہیں۔ جنہوں نے امریکہ اور مغرب کو بے خواب بنا رکھا ہے۔ ماضی قریب کی عالمی قوتوں میں استعماری برطانیہ ، فرانس ،امریکہ اور سوویت یونین نے اپنی اقتصادی اور ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر کم وسائل رکھنے والی ریاستوں کو باجگزار بنائے رکھا۔وہاں لاتعداد ظاہری اور مخفی جنگیں لڑوائی گئیں۔ ان میں کچھ بنکوں اور مالیاتی اداروں کی میزوں پر اور کچھ اسٹاک ایکسچینجز کے ڈسکوں پر لڑی گئیں۔ کبھی یہ جنگیں میڈیا،کچھ مزہبی مدارس اور کچھ یونیورسٹی کے ایڈیٹوریمز میں لڑی گئیں۔اپنے تسلط کو وسعت اور دوام دینے کیلئے طرح طرح کی پراکسی جنگیں اور وار تھیٹر تشکیل دئیے گئے۔ ان پراکسی جنگوں کا خالص منافع ناجائز جائیدایں بنانے کے علاوہ، خاندانی بالادستی،اشتراکی، مزہبی و لبرل استدلال اور مقتدرہ کے نام سے مطلق العنانی کو مسلط کرایا گیا ۔ انہی جمہوری عالمی حکمرانوں نے بے گناہ شہریوں پر ایٹم بم برسانے کی منظوری دی تھی ۔
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

