تحریر : محمد صدیق کھیتران
(گزشتہ سے پیوستہ )
حالانکہ جرمن نسل پرست لیڈر ہٹلر اڑھائی کروڑ فوجی اور چار
کروڑ عام شہریوں کو نگل کر 30 اپریل 1945 والے دن خودکشی کرچکا تھا۔ اس کے باوجود امریکہ اور اتحادیوں نے جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر بالترتیب 6 اور 9 اگست 1945 کو جمہوری ایوانوں کی منظوری سے تین مہینے بعد جوہری بم برساکر لاکھوں معصوم شہریوں کو آگ میں بھسم کر گئے تھے۔ ڈکٹیٹر کسی بھی روپ میں ہوں ان میں ایک قدر مشترک ہوتی ہے ۔ وہ انسانیت کے دشمن ہوتے ہیں۔ نظریاتی اسٹالن نے اشتراکی ڈکٹیٹرشپ کے نام پر 799,455 افراد کو 1921-1953 کے دوران موت کی نیند سلایا۔ اس کے عقوب خانوں” گلاگ” میں تقریباً 15 سے 17 لاکھ افراد کی اموات ہوئیں جن میں 390,000 مقتولین کا اندراج وارثوں کی موجودگی میں سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنا ۔ 1940 کی دہائی کے دوران ملک بدر کیے گئے 4 لاکھ افراد کی اموات جلاوطنی کی سزاؤں میں ہوئی۔ ان تمام زمروں میں کل 33 لاکھ افراد کی انسانیت سوز کیپیٹل سزاؤں کا ریکارڈ سرکاری طور پر درج ملا ۔
مؤرخ سٹیفن وہیٹ کرافٹ کے مطابق کیمونسٹ سوویت یونین میں 10لاکھ اموات ڈکٹیٹرشپ کے “مقصد” کے تحت کی گئی تھیں جبکہ باقی اموات غفلت اور غیر ذمہ داری کے باعث ہوئیں۔ اس کے علاوہ معاشی نظام میں بد انتظامی کے نتیجے میں عرصہ 1932-1933 کے دوران سوویت قحط سے کم از کم 5.5 سے 6.5 ملین لوگوں کی اموات بھی ڈکٹیٹرشپ کا نتیجہ تھی۔
ادھر یکم اکتوبر 1949 تک چینی انقلاب کی تحریک میں 3,466,000 چینی افراد مارے گئے تھے۔ بعد میں ماؤ زے تنگ کی حکمرانی کے دور کے دوران ہر ماہ 10 لاکھ لوگ ماردیئے جاتے تھے۔ 1962 کے ماؤ کی تیز رفتار جدید کاری کی کوششوں کے اختتام تک چین کی آبادی کا چھ فیصد تشدد کا شکار ہو چکا تھا ۔ ان میں سے زیادہ تر اموات زرعی معیشت سے صنعتی معیشت میں منتقلی کی کوششوں میں فاقہ کشی یا ضرورت سے زیادہ کام کی وجہ سے ہوئی تھیں۔ ماؤزے تنگ نے اپنے لاکھوں شہریوں کا اپنے نظریات اور کسان ڈکٹیٹرشپ کو قائم رکھنے کیلئے قتل عام کیا۔امریکی صدر دیگن، ایران کے خمینی اور پاکستان کے جنرل ضیاء الحق و جنرل مشرف کی چھیڑی ہوئی مزہبی و نسلی آگ سے چھ کروڑ آدمی متاثر ہوئے۔اب امریکہ، پاکستان ،سعودی عرب اور ایران اس مزہبی شدت پسندی سے جان چھڑوانا چاہتے ہیں۔ مگر ایسا ہوتے ہوتے مزید چھ کروڑ انسان مزید ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔ تھک ہار کر دونوں طاقتور کیمونسٹ ممالک اپنے نظریات سے تائب ہوئے۔ روس سیدھا آزاد سرمایہ دارانہ نظام میں داخل ہوا۔ جبکہ چینی کیمونسٹ پارٹی نے ون پارٹی رول کے تحت مارکیٹ اکانومی کا سفر اختیار کیا۔ ہندوستان اور برازیل نے جمہوریت کے ذریعے مارکیٹ اکانومی کا ماڈل اپنایا۔ سب نے دنیا بھر سے سرمایہ اور ٹیکنالوجی کو اپنے ممالک کا راستہ دکھایا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی سرمائے کا کچھ حصہ جنگوں سے نکال کر معاشرتی بہبود کی طرف منتقل کیا گیا۔ جس کا اثر یہ ہوا۔ کہ ان معاشروں میں سیکولر اداروں کی تشکیل ہوئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یورپ کا چراغ مدھم پڑنا شروع ہوا۔ پہلے مرحلے میں سوویت یونین بکھرا۔ پھر برطانیہ اور فرانس کا اثر رسوخ محدود ہوا۔ ہارڈ وئیر کی انڈسٹری نے چین و برازیل میں اور سافٹ وئیر کی صنعت نے ہندوستان میں جگہ بنائی۔ وسائل سے مالا مال عربستان اور اسلامی بلاک مزہبی متھ کی طرف لوٹا۔ بغیر محنت سے حاصل ہونے والی دولت ہمیشہ اس دنیا یا اگلی دنیا کی عیاشی کے کام آتی ہے۔ یورپ اور دیگر مغربی بلاک کا ٹھہراؤ کسی مزہبی متھ کی وجہ سے تو نہیں ہوا البتہ زیادہ منافع کی خواہش اور سستی افرادی قوت کا تعاقب ان کے گرتے معیار کی وجہ بنی۔ مسلمان اور کسی حد تک افریقہ کی تباہی اس کے فضا میں معلق مزہبی تصورات بنے۔ جس کیلئے انہوں نے شدت پسندی پر بے تحاشہ سرمایہ کاری کی۔ مزہب کے نام پر ملک بنائے گئے۔قائد کی بنیاد پر انقلابات لائے گئے ۔ اسلامی شورشوں کا جنون ایران، پاکستان ، سعودی عرب، شام، عراق، لیبیا، افغانستان کا سیاسی بیانیہ بنا ۔ اس کے لئے حماس، حزب اللہ ، القاعدہ، طالبان اور کئی ایک عسکری جتھے بنائے گئے۔ نیویارک سے لیکر ماسکو، بالی، بمبئی ،سنکیانگ غرض سیکولر دنیا کا کوئی چپہ نہیں بخشا گیا۔ سرد جنگ کے آخری سالوں اور خاص کر دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا نے مسلح لڑائیوں کو چھوڑ دیا تھا۔ مگر مشرق وسطی اور جنوبی مشرقی ایشیا نے زمانے سے الٹ راستہ اختیارکیا۔جس کے نتیجے میں لیںیا، شام ،عراق،ایران اور افغانستان اپنی فضائی فوجی قوتوں سے مکمل طور پر محروم ہوگئے۔
ادھر لیگ آف عرب کونسل کے تمام 22 ممالک کی فضائی، بری اور بحری افواج کی قوت کا بٹن امریکہ کے پاس گروی رکھدیا گیا ۔ جبکہ ایران ، پاکستان اور افغانستان اپنے تحفظ کیلئے چین کے اسلحہ خانے کے باہر جھولی پھیلائے پڑے رہنے پر مجبور ہوئے ۔ ایسے میں پاکستان کے اندرونی خلفشار کی نوعیت، اقتصادی بحران اور حکومتی بدانتظامی دنیا بھر کیلئے باعث پریشانی بن گئی ہے۔ اس ملک نے اپنا سب کچھ گزشتہ 46 سالوں میں فارورڈ پالیسی کے تحت افغانستان کو سرنگو کرنے میں لگادیا ۔ اسی طالبانئزیشن کی سرشت نے چین کے صوبے سنکیانگ ، ہندوستان کے کشمیر اور روس کے کروزنی کو تاراج کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔ ہندوستان کے تو سویلین جہازوں کو اغوا کرکے قندھار پر اتارا گیا۔ کابل میں ہندوستان کے سفارت خانوں کو ایک بار نہیں کئی بار تباہ کیا گیا۔ غرض یہ کہ امریکہ، مغرب ، روس،چین ،ہندوستان سمیت پاکستان کے کئی ہزار شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ مگر حیرت ہے اب امریکہ، چین ، ہندوستان اور روس سب قطار میں کھڑے ہیں کہ بحیرہ عرب کی 12 سو کلومیٹر لمبی ساحلی پٹی کو بطور رم لینڈ کس طرح اپنے تصرف میں لایا جائے۔اور اس پر بغیر کسی حساسیت کے
سودے بازی کی جائے۔ پاکستان اور ایران کی ریاستیں خود اور ان کی پراکسیز نڈھال ہو چکی ہیں۔ دونوں ملکوں کی حالت 1922 والے سلطنت عثمانیہ جیسی ہوچکی ہے۔ اوپر سے مصنوعی زہانت کے صنعتی دور میں رئیر ارتھ منرلز اور انرجی کے ریسورسز پر للچاتی نظر نے انڈسٹریل دنیا کو حواس باختہ کر دیا ہے۔ سنٹرل ایشیا اور ایران کے انرجی ذخائر کے علاوہ پاکستان اور افغانستان کے رئیر ارتھ معدنی خزانوں نے خطے کو ٹائم بم بنا دیا ہے۔ باگرام ائیر پورٹ کی افادیت اب یاد آرہی ہے۔ پسنی، چابہار ،گوادر کے ساحل وسائل بھی دنیا کی نظر میں اب کھٹک رہے ہیں۔ بلوچستان کے سونے کے ذخائر پہلے ہی چین اور سرمایہ دار دنیا کے ہتھے چڑھ چکے ہیں۔ جن کے تعاقب میں مئی 2025 سے لیکر آج 13 اکتوبر 2025 تک ایک طرف ہندوستان پاکستان دوسری طرف پاکستان افغانستان اور تیسری طرف اسرائیل اور ایران کے علاوہ درپردہ چین – امریکہ اس ساحلی پٹی کے اطراف میں جوہری بمباری کے علاوہ تمام جدید اسلحہ استعمال کر چکے ہیں۔ پریشانی کی بات یہ ہے کہ اندرونی طور پر اس وقت سب سے زیادہ غیر یقینی صورت حال پاکستان کے بلوچستان،خیبر پختونخوا ، لگے بلتستان ،پاکستانی کشمیر اور پنجاب میں ہے۔ گزشتہ کل ہی مرکزی پنجاب کے ” مریدکے” میں ایک مسلکی جماعت کے سینکڑوں لوگوں کو ریاست نے موت کے گھاٹ اتارا ہے۔ایسے میں کیا پاکستان – افغانستان ، ہندوستان – پاکستان، ایران – اسرائیل اور امریکہ – چین کی خطے میں جاری جنگ بغیر کسی تصفیے کے تھم جائے گی؟ بظاہر اس کے امکانات کم ہیں۔ کیونکہ طالبانائزیشن کے استاد اور ان کی زیرنگرانی 38 ہزار ادارے اس کار خیر میں صرف پاکستان میں کام کر رہے ہیں۔ البتہ اسرائیل نے مشرق وسطی میں ایک وقت میں پانچ گرم جنگیں ( یمن،لبنان، حماس، شام اور ایران ) لڑ کر ایران کو تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔ پچھلے دنوں ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاکستان میں مسلح جنگجووں کے والدین کو بچاؤ کے تین راستے دکھائے ہیں ۔یہ کہ باغیوں کے ورثا اپنے باغی بچوں کو ہمارے حوالے کریں۔ دوسری صورت میں ان کو کیفر کردار تک پہنچانے میں ہمارے ساتھ شریک ہو جائیں اور تیسری صورت یہ ہے کہ وہ بھی ریاستی غیض و غضب کیلئے تیار رہیں۔کیونکہ بقول اس کے یہ سروائیول کی جنگ ہے۔
بظاہر ایسی ہی صورت حال کا سامنا عالمی منظر نامے میں پاکستان افغانستان اور ایران کی ریاستوں کو ہے۔ کہا جاتا ہے۔ شمالی اتحاد کے امراللہ صالح اور اشرف غنی کی جماعتوں کے تین دورے پاکستان کی راجدھانی میں ہوچکے ہیں۔ مگر خطے میں موجود انتہا پسندی کے ڈھانچوں کی اکھاڑ کو کم سے کم نصف صدی درکار ہوگی۔بعض اوقات جو گانٹھیں ہاتھوں سے لگائی جاتی ہیں ان کو کھولنے میں دانت استعمال کرنے پڑتے ہیں۔ عوام کا اعتماد ریاست کے بیانئیے سے اٹھ چکا ہے۔ اتنی بڑی بد اعتمادی کو بحال کرنے کیلئے بنیادی شرط یہ ہے کہ اس ناکام اسٹریٹجک منصوبے کے کرداروں کو احتسابی عمل سے گزارنا ہوگا۔ وگرنہ کامیابی کے امکانات محدود ہونگے ۔جس کی قیمت انتشار کی صورت میں تینوں ممالک کو ادا کرنی پڑے گی۔
Load/Hide Comments

