سیاست کی پرچھائیاں

قادربخش بلوچ
دنیا میں سیاست کا مفہوم لوگوں کی خدمت کی معنوں میں آتا ھے یہ لفظ ایک مختصر مگر جامع معنی رکھتی ھے موجودہ دور میں بادشاہت کو ہر چند کہ پذیرائی نہیں۔لیکن بادشاہت دنیا کے ایک وسیع خطے جہاں ایک دور میں سلطنت عثمانیہ ہوا کرتا تھا۔سلطنت عثمانیہ کے عرب علاقے ہنوز شاہی خیل پر سوار ہیں۔جو سیاست کی پرچھائیوں سے محفوظ ہیں۔ایک دانشور کا قول ھے کہ انسان کے لیے بہترین جگہ۔یعنی۔وطن۔وہ ھے جہاں وہ رات کو آرام اور سکون کے ساتھ سو سکے۔۔اس قول کے مطابق مشرق وسطی کے باشندے پر سکون راتیں گزارتی ہیں۔انہیں کوئی مشکلات درپیش نہیں۔بھلے وہاں ہر چار سال بعد الیکشن جیسے کھیل مداری نہیں ہوتے۔دوسری طرف یورپی دنیا کی راتیں پر کیف اور شامیں سہانی ہیں۔اور ہماری دنیا جیسے تیسری دنیا کہا جاتا ھے۔یہاں بے چینی ھے یہاں ہر پانچ برس بعد الیکشن ہوتے ہیں۔لیکن مثبت تبدیلی خواب ھے۔مرکز میں عشروں سے دو جماعتوں کا راج ہے۔صوبوں پر متواتر مرکز کی پرچھائیاں ہیں۔بلوچستان میں صوبائی حکومت ہمیشہ مرکز کی خواہش پر بنتی ہے۔۔لیکن صوبائی اسمبلی کے اراکین اسمبلی کے اندر ببانگ دہل اقرار کرتے ہیں۔کہ یہاں نوکریاں بکتی ہیں۔عہدے بکتے ہیں ٹھیکے فروخت ہوتے ہیں۔ترقیاتی بجٹ خورد برد ہوتا ھے۔عوامی بھلائی کا کوئی کام نہیں ہوتا۔اس کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔تو ظاہر ھے عوام کا اعتماد ختم ہو جاتا ھے۔اور عوام ۔عوام دوست سیاسی جماعتوں کی طرف دیکھتے ہیں۔۔بلوچستان کا عوامی مسائل حل کرنے والی پارٹی۔۔ڈاکٹر مالک بلوچ کی نیشنل پارٹی ھے۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ھے کہ بلوچستان کے عوام کی نظریں ڈاکٹر مالک اور انکی پارٹی پر لگی ہوئی ہیں۔بلوچستان کے عوام سمجھتے ہیں کہ انکے دکھوں کا مداوا صرف ڈاکٹر مالک بلوچ اور انکی پارٹی کر سکتا ھے۔نیشنل پارٹی کے سنیٹر جان محمد بلیدی بلوچستان کے عوام کے امنگوں کے عین مطابق بلوچستان کے مسائل مرکزی سرکار کو گوش گزار کر رہے ہیں۔اگر مرکزی حکومت جان بلیدی کے مشوروں پر عمل کرے جو بلوچستان کی ضرورت ہیں۔تو یہ بات یقینی ھے کہ بلوچستان کے مسائل حل ہوں گے۔جان بلیدی چونکہ بلوچستان کے گھمبیر مسائل سے بخوبی واقف ہیں اور انکے حل بھی جانتے ہیں کیونکہ بلیدی صاحب چونکہ اپنے صوبے کی نفسیات سے بھی واقف ہیں۔جو ایک رہنما کی صفت ہوتا ھے۔اس لئے یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ بلوچ رہنما کے تجاویز پر عمل کرنے کے بعد کوئی امکان ہی نہیں بچے گا کہ صوبے کے مسائل حل نا ہوں لہذا مرکزی حکومت کو چاہیے کی بلوچستان کے عوام کے مسائل کو حل کرنے کی جانب پیش قدمی کا اولین قدم جان بلیدی کے تجاویز پر عمل کرنا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں