کارساز کی راکھ میں دفن جمہوریت

عزیز سنگھور

اٹھارہ اکتوبر 2007، کراچی کی رات انسانوں کے شور، امیدوں اور نعرے کی روشنیوں سے جگمگا رہی تھی۔
ایئرپورٹ سے شاہراہِ فیصل تک عوام کا سیلاب اُمڈ آیا تھا۔ہر طرف ایک ہی نعرہ گونج رہا تھا: “بی بی آئی… جمہوریت آئی…”

یہ دن پاکستان کی تاریخ کا ایک یادگار مگر خونچکاں دن بننے والا تھا۔
میں خود اُس لمحے اس تاریخی جلوس کا حصہ تھا۔ میرے ساتھ میرا سینئر ساتھی اشرف خان بھی تھا، جو اُس وقت اے پی نیوز ایجنسی (AP) سے منسلک تھے۔
آج وہ امریکہ میں مقیم ہیں، مگر اُس رات کا منظر ہم دونوں کے ذہنوں میں آج بھی زندہ ہے۔

جب بینظیر بھٹو کا قافلہ ایئرپورٹ سے روانہ ہوا تو فضا میں ایک جشن کا سا سماں تھا۔
کارکن، عورتیں، بچے، بزرگ، سب نعرے لگا رہے تھے۔
مگر جیسے ہی ہم کارساز کے قریب پہنچے، اشرف خان نے اچانک کہا: “عزیز، دیکھو… اسٹریٹ لائٹس بند ہو رہی ہیں!”

یہ بات میرے لیے چونکانے والی تھی۔ واقعی، ایک ایک کر کے تمام لائٹس بجھتی جا رہی تھیں۔
اشرف خان نے پیشہ ورانہ انداز میں خطرے کو محسوس کیا اور مجھ سے کہا: “بھیڑ سے دور ہو جاؤ، کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا۔”ہم نے سڑک کے کنارے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔
چند منٹ بعد دو زوردار دھماکوں نے فضا کو چیر کر رکھ دیا۔ زمین لرز اٹھی، ہوا میں چیخوں اور بارود کی بُو پھیل گئی دھماکوں کے بعد منظر ناقابلِ بیان تھا۔ لاشیں لاشیں تھیں، ہر طرف آگ، خون اور خوف۔ میں اور اشرف خان سڑک کے کنارے ایک دیوار کے پیچھے دبکے رہے۔ ہمیں اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ کوئی معمولی دھماکہ نہیں،
یہ پاکستان کی سیاست پر ایک کاری وار تھا۔

اگلے روز بلاول ہاؤس میں بینظیر بھٹو نے پریس کانفرنس کی۔ ان کی آنکھوں میں دکھ، غصہ اور عزم تینوں کی جھلک تھی۔
انہوں نے کہا: “مجھے معلوم ہے کہ مجھے مار دیا جائے گا۔”
یہ جملہ صرف خدشہ نہیں تھا، بلکہ پیش گوئی تھی۔ چند ہفتوں بعد وہی ہوا جس کا بی بی کو ڈر تھا وہ راولپنڈی کے لیاقت باغ میں نشانہ بنائی گئیں۔

میں نے بی بی کو قریب سے دیکھا تھا۔ وہ سیاسی رہنما کم اور عوام کی بیٹی زیادہ تھیں۔ کارساز سانحے کے بعد وہ شہداء کے گھروں تک گئیں، خواتین سے گلے ملیں، بچوں کے سر پر ہاتھ رکھا۔ بی بی عوام کے درمیان سانس لیتی تھیں، ان کا درد بھی عوام کا درد تھا۔

مگر آج جب میں پیپلز پارٹی کو دیکھتا ہوں تو حیرت اور دکھ ہوتا ہے۔ بی بی کے بعد وہ جماعت، جو عوام کے دکھ سے جڑی ہوئی تھی، اب اقتدار کے ایوانوں میں اشرافیہ کی زبان بولتی ہے۔
بلاول بھٹو اور پارٹی کے ورکرز کے درمیان ایک خلیج حائل ہو چکی ہے۔

وہ پیپلز پارٹی، جو کبھی گھروں، گلیوں اور گاؤں کے دلوں میں زندہ تھی، آج وزارتوں اور معاہدوں کے نیچے دب چکی ہے۔
کراچی، حیدرآباد، بدین اور ، سکھر میں پارٹی کے پرانے نظریاتی کارکن خود کو بےگانہ محسوس کرتے ہیں۔

بی بی کے دور میں پارٹی کا نعرہ تھا: “روٹی، کپڑا اور مکان”
مگر آج پیپلز پارٹی کا محور
“ٹھیکہ، وزارت اور مفاد” بن چکا ہے۔

پیپلز پارٹی کو سندھ پر مسلسل اقتدار ملا، مگر اس اقتدار نے عوام کو وہ کچھ نہیں دیا جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔
حکمران طبقہ کراچی سے دبئی اور دبئی سے لندن کے چکر کاٹتا ہے، مگر گڑھی خدا بخش کی مٹی آج بھی محرومی کے آنسو بہا رہی ہے۔

بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت ایک اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سمجھوتے کے تحت بنائی گئی۔
بی بی کے نظریے کی پارٹی آج ریاستی بیانیے کے تابع نظر آتی ہے۔ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور سیاسی جبر کے معاملے پر
پیپلز پارٹی کی خاموشی شرمناک ہے۔
یہ وہی پارٹی ہے جس کی رہنما بے نظیر بھٹو نے کہا تھا: “ہم غریب کے ساتھ کھڑے ہیں۔”
مگر آج غریب کو پارٹی کے دروازے سے اندر داخل ہونے میں بھی خوف آتا ہے۔

کارساز کے بعد پیپلز پارٹی کی سیاست رفتہ رفتہ، اسٹیبلشمنٹ کے دائرے میں سمٹتی چلی گئی۔
اقتدار کی بقا کے لیے ہر مفاہمت، ہر سودے بازی قبول کر لی گئی۔
این آر او سے لے کر موجودہ اتحادی حکومت تک، پیپلز پارٹی نے جمہوری بیانیے کی بجائے طاقت کے بیانیے کو اختیار کیا۔

آج بلاول بھٹو کی پارٹی
سینیٹ، اسمبلی اور کابینہ میں تو موجود ہے، مگر عوام کے دلوں میں نہیں ہے۔ وہ کارکن، جو کارساز میں اپنے لہو سے پارٹی کا جھنڈا لہرا گئے،
آج تنہائی میں پوچھتے ہیں: “ہم نے کس کے لیے قربانی دی تھی؟”

کارساز کا دھماکہ میری آنکھوں کے سامنے ہوا۔ میں نے جلتے جسم، چیختے بچے، اور ماؤں کی آہیں دیکھی تھیں۔

آج اٹھارہ اکتوبر 2025 ہے۔اٹھارہ برس گزر چکے، مگر کارساز کا دھواں ابھی صاف نہیں ہوا۔ یہ دھواں صرف ماضی کا نہیں،
یہ آج کی سیاست کے چہروں پر بھی چھایا ہے۔ پیپلز پارٹی اگر واقعی بی بی کی وارث ہے، تو اسے ایک بار پھر عوام کے درمیان واپس جانا ہوگا۔
ورنہ وہ بھی اُن سیاسی جماعتوں میں شمار ہوگی جن کے پاس اقتدار تو ہے، مگر روح نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں