تحریر: محمد مظہر رشید چودھری
برگد صدیوں سے جنوبی ایشیا کے ماحول، ثقافت اور روحانیت کا استعارہ رہا ہے۔ یہ درخت محض ایک نباتاتی وجود نہیں بلکہ فطرت کا ایک مکمل نظام ہے جو زمین کو سانس دیتا ہے، فضا کو ٹھنڈک بخشتا ہے اور نسلوں کو سایہ عطا کرتا ہے۔ اپنی وسعت، جڑوں کی مضبوطی اور ہمہ وقت ہریالی کے باعث برگد کو درختوں کا شہنشاہ بھی کہا جاتا ہے۔برگد(بوہڑ) کی شاخوں سے لٹکتی ہوئی ہوائی جڑیں جب زمین سے جڑتی ہیں تو نئی زندگی جنم لیتی ہے۔ ہر جڑ زمین میں پیوست ہو کر ایک نیا تنا بن جاتی ہے، اور وقت گزرنے کے ساتھ ایک ہی درخت پورے جھنڈ یا جنگل کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین ماحولیات اسے ’ایکوسسٹم‘ یعنی خود کفیل حیاتیاتی نظام قرار دیتے ہیں۔ اس کے سائے میں درجہ حرارت عام فضا سے کئی درجے کم ہوتا ہے، پرندے، گلہریاں، تتلیاں اور چھوٹے جانور اسے اپنا گھر سمجھتے ہیں۔ برگد صرف آکسیجن کا ذریعہ نہیں بلکہ سکون، تحفظ اور زندگی کی علامت ہے۔سانچ کے قارئین کرام! محکمہ ریونیواوکاڑہ کے احاطے میں موجود برگد کا ایک قدیم درخت میرے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ تقریباً تیس سال قبل اور بعد ازاں اٹھارہ سال پہلے میں اپنی والدہ محترمہ کے ہمراہ جائیداد کے انتقال کے سلسلے میں چند بار یہاں آیا۔ اْس زمانے میں پٹواری، کانگو اور کبھی کبھار تحصیلدار بھی اسی برگد کے نیچے اپنی سرکاری ذمہ داریاں انجام دیتے تھے۔ درخت کا گھنا سایہ اور گرمیوں میں ٹھنڈک کا احساس اس مقام کو ایک قدرتی دفتر کی شکل دیتا تھا۔ وہ مناظر آج بھی حافظے میں تازہ ہیں، جیسے وقت وہیں تھم گیا ہو۔صدیوں سے برصغیر کے دیہاتوں میں برگد کا درخت سماجی زندگی کا مرکز رہا ہے۔ اس کے نیچے گاؤں کے لوگ جمع ہوتے، فیصلے ہوتے، اور اختلافات کا حل تلاش کیا جاتا۔ بوڑھے بزرگ حقہ گڑگڑاتے، نوجوان حالاتِ حاضرہ پر گفتگو کرتے اور بچے داستانیں سنتے۔ انہی چوپالوں نے دیہاتی معاشرت میں علم، مشاورت اور داستان گوئی کی روایت کو جنم دیا۔قدیم ہندوستان میں تاجر طبقہ جنہیں ’بنئے‘ کہا جاتا تھا اپنے کاروبار برگد کے نیچے کیا کرتے تھے۔ جب انگریز برصغیر آئے تو انہوں نے اسی روایت سے متاثر ہو کر اس درخت کو ’بنین ٹری‘ یعنی ’بنئے کا درخت‘ کا نام دیا، جو آج دنیا بھر میں اسی نام سے معروف ہے۔برگد نہ صرف ثقافتی بلکہ مذہبی اہمیت بھی رکھتا ہے۔ ہندو مت میں اسے مقدس مانا جاتا ہے، جبکہ بدھ مت کی روایات کے مطابق گوتم بدھ نے معرفت اسی درخت کے نیچے حاصل کی۔ اسلامی روایت میں برگد سکون، سایہ اور رحمت کی علامت کے طور پر جانا جاتا ہے۔سائنس دانوں کے مطابق ایک صحت مند برگد دو سے پانچ سو سال تک زندہ رہ سکتا ہے، جبکہ بعض قدیم درخت آٹھ سو سال سے زیادہ عرصہ بھی قائم رہے ہیں۔ اس کی عمر کا اندازہ اس کے تنوں اور جڑوں کے پھیلاؤ سے لگایا جاتا ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا برگد بھارت کے مغربی بنگال کے ضلع ہْگلی‘ میں واقع ہے، جو ’آچاریہ جگدیش چندر بوس بوٹینیکل گارڈن‘ میں موجود ہے۔ یہ درخت تین اعشاریہ سات ایکڑ سے زائد رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور اس کی ساڑھے تین ہزار سے زیادہ ہوائی جڑیں زمین میں پیوست ہو چکی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 1925ء میں اس کا مرکزی تنا بیماری کے باعث کاٹ دیا گیا تھا مگر درخت آج بھی زندہ ہے، کیونکہ برگد اپنی شاخوں سے نئی زندگی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔پاکستان میں بھی کئی قدیم برگد کے درخت موجود ہیں۔ ان میں سے بعض درختوں کا ذکر مقامی روایات اور اخبارات میں تو ملتا ہے، مگر ان کی باقاعدہ دستاویزی فہرست ابھی تک موجود نہیں۔بچپن کی یادوں میں ایک منظر آج بھی بہت واضح ہے ضلع بھکر کی ریلوے کالونی میں موجود ایک شاندار بوہڑ (برگد) کا درخت۔ اْس زمانے میں میرے والد محترم چودھری عبدالرشید، ریلوے میں ملازمت کے دوران وہاں تعینات تھے۔ اس درخت کے گھنے سائے تلے ہم بچے کھیلا کرتے، پرندے چہچہاتے اور فطرت اپنی پوری رعنائی کے ساتھ جلوہ گر ہوتی۔ وہ منظر جیسے سکون، محبت اور زندگی کے توازن کی علامت ہو۔ آج بھی اس برگد کی چھاؤں کا خیال دل میں ٹھنڈک پیدا کر دیتا ہے۔برگد نہ صرف فطرت کے حسن کی علامت ہے بلکہ صدیوں سے انسانی علاج و معالجے میں بھی اس کی افادیت مسلمہ ہے۔ طبِ یونانی اور آیوروید میں برگد کے پتوں، چھال، دودھ اور جڑوں سے کئی دوائیں تیار کی جاتی ہیں۔ اس کا دودھ زخموں کے لیے مرہم کا کام دیتا ہے، چھال کا سفوف شوگر کے مریضوں کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے، جبکہ پتوں سے بنے جوشاندے کو سوزش اور دانتوں کے درد کے علاج میں استعمال کیا جاتا ہے۔ پرانی روایات کے مطابق برگد کی جڑوں سے بنے عرق کو جسمانی کمزوری اور جوڑوں کے درد میں بھی فائدہ مند قرار دیا گیا ہے۔یوں برگد صرف سایہ نہیں دیتا، بلکہ شفا، سکون اور زندگی کی توانائی بھی بانٹتا ہے،ایک ایسا درخت جو انسان کے ساتھ سانس لیتا ہے اور ہر دور میں اس کے لیے راحت کا سبب بنتا رہا ہے۔چند دہائیاں پہلے تک پاکستان کے بیشتر دیہاتوں میں برگد یا بوہڑ کے نیچے چوپالیں لگتی تھیں۔ ان محفلوں میں گاؤں کے معززین فیصلے کرتے، لوگ اپنے مسائل بیان کرتے اور سماجی رابطے مضبوط ہوتے۔ برطانوی دورِ حکومت میں بھی اسی روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے دیہی کچہریاں ان ہی درختوں کے نیچے لگائی جاتی تھیں۔اگرچہ اب وہ چوپالیں ماضی کا قصہ بن چکی ہیں، مگر برگد آج بھی اپنی جگہ قائم ہے۔ یہ درخت وقت کے تغیرات کے باوجود استقامت، سکون اور بقا کی علامت ہے۔ برگد ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جڑوں سے جڑے رہو، شاخوں کی طرح پھیلتے رہو اور دوسروں کے لیے سایہ بن جاؤ۔ درخت بولتے نہیں، مگر ان کی خاموشی میں انسانیت کے سب سے بڑے سبق چھپے ہوتے ہیں ٭
محمد مظہر رشید چودھری (03336963372)

