تحریر: محمود رند صوبائی یوتھ اینڈ اسپورٹس سیکریٹری، نیشنل پارٹی
(نوٹ: یہ تحریر میرا ذاتی تجزیہ اور مشاہدہ ہے۔ نیشنل پارٹی کا مرکزی بیانیہ نہیں، تاہم یہ نیشنل پارٹی کے اصولی مؤقف اور نظریاتی موقف سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ یہ تجزیہ میری ذاتی ریسرچ اور مطالعے کے بعد لکھا گیا ہے تاکہ 27ویں ترمیم کے تمام شقوں کے اصل مقاصد اور اس کے بلوچستان پر ممکنہ اثرات واضح کیے جا سکیں۔ یہ ترمیم بظاہر عدلیہ کی اصلاح، وفاقی اداروں کی مضبوطی اور آئینی ہم آہنگی کے لیے پیش کی گئی ہے، لیکن حقیقت میں یہ وفاق کو زیادہ اختیار دیتی ہے اور صوبوں کے حقوق محدود کرتی ہے۔)
نیشنل پارٹی کا موقف واضح ہے: ہم اس ترمیم کی مکمل مخالفت کرتے ہیں کیونکہ یہ بلوچستان اور دیگر صوبوں کی خودمختاری، عدلیہ کی آزادی، مالی وسائل، مقامی جمہوریت اور عوامی حقوق کے خلاف ہے۔
1۔ وفاقی آئینی عدالت کا قیام
مقصد: وفاق اور صوبوں کے درمیان آئینی تنازعات کے فوری حل اور ایک علیحدہ آئینی فورم کے قیام کے ذریعے “قانونی تیز رفتاری” اور یکساں فیصلوں کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
بلوچستان پر اثرات: اس ایک نئے فورم کی تشکیل سے صوبائی عدالتوں کے دائرۂ اختیار میں واضح کمی آئے گی؛ وہ مقدمات جو طویل عرصے سے صوبے کے مفادات سے جڑے ہیں وفاقی عدالت کے ذریعے فیصلے کی زد میں آئیں گے، جس سے مقامی عدالتی خودمختاری متاثر ہو گی اور مقامی حساس معاملات پر وفاق کا قبضہ مضبوط ہوگا۔
نیشنل پارٹی کی مخالفت کی وجہ: نیشنل پارٹی اس شق کو ۱۸ویں ترمیم کے بنیادی اصول کے منافی قرار دیتی ہے کیونکہ یہ صوبائی حقوق کو کمزور کرتی ہے، اور اس کا خوف ہے کہ وفاقی آئینی عدالت اکثر مرکزی ایجنڈے کے حق میں فیصلے دے کر بلوچستان کے سیاسی اور معاشی مفادات کو نظر انداز کرے گی۔
2۔ ججوں کی تقرری اور مدت ملازمت
مقصد: ججوں کی تقرری کے عمل میں وفاقی نمائندگی بڑھا کر اور عدالتی تقرریوں میں یکسانیت لاتے ہوئے ججوں کی عمر اور مدتِ خدمات کی حدود طے کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
بلوچستان پر اثرات: تقرری کے عمل میں وفاقی اثر و رسوخ بڑھنے سے صوبائی سطح پر نامزد کیے جانے والے جج کم ہوں گے؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ عدالتوں میں مقامی سیاق و سباق، ثقافتی حساسیت اور علاقائی تجربات کی نمائندگی کم رہ جائے گی جس سے بلوچستان میں عدالتی فیصلوں کا مقامی قبولیت کمزور ہو گی۔
نیشنل پارٹی کی مخالفت کی وجہ: نیشنل پارٹی کا ماننا ہے کہ عدلیہ کی تقرریاں شفاف اور مقامی مشاورت کے ساتھ ہونی چاہئیں؛ وفاقی تسلط بڑھانے سے عدالتی آزادی متاثر ہوگی اور ججز پر سیاسی دباؤ بڑھے گا، جو اصولی طور پر غیرقابلِ قبول ہے۔
3- نیا آئینی باب (Articles 175B–175L) شامل کرنا
مقصد: آئینی ڈھانچے میں ایک نیا باب شامل کر کے وفاقی آئینی عدالت کے اختیارات اور عملدرآمد کے میکانزم کو قانونی شکل دینا اور عدالتی اختیارات کو واضح کرنا قرار دیا گیا ہے۔
بلوچستان پر اثرات: اس نئے باب کے ذریعے وفاق کے تفویض کردہ اختیارات کی فہرست بڑھ جائے گی اور صوبائی مقامی معاملات جو پہلے صوبائی عدالتوں میں طے ہوتے تھے، وہ اب وفاقی دائرۂ کار میں شامل ہو سکتے ہیں جس سے بلوچستان کے خودمختار فیصلوں میں رکاوٹ آئے گی؛ وسائل، قدرتی وسائل اور ترقیاتی پالیسیوں پر وفاق کا کنٹرول بڑھنے کا امکان ہے۔
نیشنل پارٹی کی مخالفت کی وجہ: نیشنل پارٹی سمجھتی ہے کہ آئینی باب کے ذریعے اختیارات کی مرکزی تخصیص صوبائی حقوق کی اساس کو مٹا دیتی ہے؛ یہ شق وفاقی طاقت کو آئینی طور پر مضبوط کرتی ہے جبکہ صوبائی آزادی کو محض ایک علامتی حیثیت تک محدود کر دیتی ہے۔
4۔ سپریم کورٹ کے اختیارات کی منتقلی
مقصد: کچھ آئینی اور ریویو اختیارات کو سپریم کورٹ سے نئی وفاقی آئینی عدالت کی طرف منتقل کر کے عدالتی کام کا بوجھ کم اور دائرۂ کار واضح کرنا بتایا گیا ہے۔
بلوچستان پر اثرات: اختیارات کی منتقلی سے آئینی معاملات کا مرکزیت کی طرف منتقل ہونا یقینی ہے؛ بلوچستان سے منسلک حساس کیسز جو تاریخی، قانونی یا وسائل سے جڑے ہوں، وہ ایک ایسے فورم میں پہنچ سکتے ہیں جہاں مقامی تناظر کی اہمیت کم شمار ہو گی، نتیجتاً صوبائی موقف کو نظرانداز کیے جانے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
نیشنل پارٹی کی مخالفت کی وجہ: نیشنل پارٹی کا موقف یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی اختیارات میں کٹوتی اور تقسیم عدالتی توازن کو نقصان پہنچاتی ہے اور وفاقی عدالت کو ایسی قوت دیتی ہے جو اکثر مرکزی مفادات کو تحفظ دے سکتی ہے، اس لیے یہ شق اصولی طور پر ناقابلِ قبول ہے۔
5۔ وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے لازمی
مقصد: وفاقی آئینی عدالت کے فیصلوں کو حتمی اور پابندِ نفاذ قرار دے کر عدالتی فرائض میں یقینی پن لانا بتایا گیا ہے۔
بلوچستان پر اثرات: اگر کوئی فیصلہ صوبائی مفاد کے خلاف آئے تو اس کے خلاف اپیل کے قانونی راستے محدود یا ختم ہو جائیں گے؛ اس کا مطلب بلوچستان کے پاس آئینی مسائل میں درستگی کے لئے اوپر کے فورم یا نظرِ ثانی کا آپشن کم ہو جانا ہے، جو آئینی انصاف کے تقاضوں سے متصادم ہے۔
نیشنل پارٹی کی مخالفت کی وجہ: نیشنل پارٹی اس تصور کو عدالتی انصاف کی بنیادوں کے خلاف سمجھتی ہے کیونکہ حتمی فیصلوں کا انحصار ایک ایسے ادارے پر ہونا جو وفاقی مفادات سے قریب ہو سکتا ہے، صوبائی حقوق کے تحفظ کو ناقابلِ ضمانت بنا دیتا ہے۔
6۔ ججوں کی تقرری میں وفاقی نمائندگی بڑھانا
مقصد: عدالتی یکسانیت اور وفاقی ہم آہنگی کے نام پر تقرری کے عمل میں وفاقی نمائندوں کی مشاورت کو بڑھایا جانا۔
بلوچستان پر اثرات: اس عمل سے صوبائی عدالتی اداروں میں مقامی نمائندگی کم ہو گی اور فیصلوں میں وفاقی ترجیحات غالب آنے کا امکان بڑھے گا؛ مقامی روایات اور قبائلی حساسیتیں عدالتوں میں مناسب انداز سے پیش نہیں ہو سکیں گی۔
نیشنل پارٹی کی مخالفت کی وجہ: نیشنل پارٹی کا واضح موقف یہ ہے کہ عدلیہ کی تقرریوں میں صوبائی مشاورت ضروری ہے؛ وفاقی اجارہ داری کے ذریعے مقامی شناخت اور انصاف کے تعلقات کمزور ہو جائیں گے۔
7۔ جج کی نامزدگی مسترد ہونے پر “رضاکارانہ ریٹائرڈ” قرار دینا
مقصد: عدلیہ میں نظم و ضبط اور “احتساب” کے لیے جب کوئی نامزدگی منظور نہ کی جائے تو اسے رضاکارانہ ریٹائرڈ تصور کرنے کی شق رکھی گئی ہے۔
بلوچستان پر اثرات: اس شق کے نفاذ سے ججز پر غیرضروری دباؤ پیدا ہو گا؛ جو جج سخت یا حساس فیصلے دیں گے ان پر انتظامی دباؤ بڑھنے کا خطرہ ہے اور مقامی عدالتی ماحول خوف زدہ ہو سکتا ہے، جس سے انصاف کی آزادی متاثر ہوگی۔
نیشنل پارٹی کی مخالفت کی وجہ: نیشنل پارٹی کا استدلال ہے کہ یہ شق عدلیہ کو سیاسی کنٹرول کے سامنے چھوٹی محکمہ جاتی شقوں میں بدل دے گی اور آزاد فیصلے کرنے والے ججوں کو خاموش یا تابع کرنے کی کوشش ہے۔
8۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں وفاقی اثرات بڑھانا
مقصد: عدالتی نگرانی اور ہم آہنگی کو مضبوط کرنے کی آڑ میں سپریم جوڈیشل کونسل میں وفاقی نمائندگی بڑھانا تجویز کیا گیا ہے۔
بلوچستان پر اثرات: اس سے عدالتی احتساب کا عمل ایک خاص سیاسی دائرہ کار میں آ سکتا ہے جس کے نتیجے میں صوبائی عدالتیں وفاقی دباؤ میں آ کر وہ فیصلے دیں جو مقامی مفاد کے خلاف ہوں؛ بلوچستان میں عدالتی آزادی اور شفاف فیصلوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
نیشنل پارٹی کی مخالفت کی وجہ: نیشنل پارٹی سمجھتی ہے کہ عدالتی نگرانی سیاسی کنٹرول میں تبدیل نہ ہو، اس لیے سپریم جوڈیشل کونسل میں وفاقی غلبے کو ناقابلِ قبول قرار دیتی ہے۔
9۔ آرٹیکل 243 میں فوجی کمان میں تبدیلی اور “چیف آف ڈیفنس فورسز” کا قیام
مقصد: عسکری قیادت کے ڈھانچے کو آئینی شکل دے کر کمانڈ کا واضح اور مرکزی نظام قائم کرنا بتایا گیا ہے۔
بلوچستان پر اثرات: فوجی قیادت کی آئینی طاقت میں اضافے سے دفاعی پالیسی اور علاقائی تعیناتیوں پر صوبائی مداخلت کا دائرہ بڑھ سکتا ہے؛ بلوچستان جس کی سرحدی حساسیت زیادہ ہے، وہاں عسکری کردار اور سول اختیار کے بیچ توازن متاثر ہو سکتا ہے، جس سے سیاسی توازن اور مقامی انتظامی خودمختاری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
نیشنل پارٹی کی مخالفت کی وجہ: نیشنل پارٹی کی دلیل یہ ہے کہ دفاعی قوتوں کو آئینی تحفظ دینا جمہوری توازن کو مفلوج کر سکتا ہے اور صوبائی خودمختاری پر غیر ضروری اثرات مرتب کر سکتا ہے؛ اس لیے وہ اس شق کی مخالفت کرتی ہے۔
10۔ دفاعی اداروں کو آئینی حیثیت دینا
مقصد: دفاعی اداروں کے اختیارات اور کردار کو آئینی طور پر واضح اور مضبوط بنانا تاکہ کمانڈ و کنٹرول بہتر ہو۔
بلوچستان پر اثرات: دفاعی اداروں کو آئینی حیثیت دینے سے ملکی سطح پر فیصلہ سازی میں فوجی رائے کو آئینی جواز مل جائے گا؛ بلوچستان کے اندر دفاعی ضروریات کے نام پر زمینوں، وسائل اور انتظامی اختیارات پر فوجی دخل اندازی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس سے مقامی معاشی اور سیاسی حقوق کمزور ہوں گے۔
نیشنل پارٹی کی مخالفت کی وجہ: نیشنل پارٹی کا موقف ہے کہ دفاعی اداروں کو آئینی فوقیت دینے سے سول حاکمیت اور عوامی کنٹرول کمزور پڑ جائے گا اور یہ عمل صوبائی خودمختاری کے بنیادی اصول کے متصادم ہے۔
11۔ صدر کے لیے لائف ٹائم استثنیٰ
مقصد: صدر کو سیاسی تحفظ یا مخصوص استثنیٰ دینے کا مقصد قومی استحکام یا سیاسی استحکام کا جواز دیا گیا ہے۔
بلوچستان پر اثرات: صدر کے لیے استثنیٰ احتساب کے عمل کو متاثر کر سکتا ہے؛ جب اعلیٰ عہدیدار احتسابی دائرے سے باہر ہوں تو عوام میں اعتماد اور شفافیت متاثر ہوگی، جس کے بالواسطہ اثرات صوبائی سطح پر عدلیاتی اور مالی شفافیت پر مرتب ہوں گے۔
نیشنل پارٹی کی مخالفت کی وجہ: نیشنل پارٹی اس بات کی مخالفت کرتی ہے کہ سیاسی عہدے داروں کو استثنیٰ دے کر احتساب کے بنیادی اصول کمزور کیے جائیں؛ یہ صوبائی عوام کے حقوق اور شفاف روازنہ حکمرانی کے تصور کے خلاف ہے۔
12۔ گورنرز کے اختیارات اور تحفظات بڑھانا
مقصد: وفاقی نمائندوں یعنی گورنرز کو وسیع اختیارات اور تحفظات دے کر صوبوں میں وفاقی ہم آہنگی قائم رکھنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
بلوچستان پر اثرات: گورنرز کے اختیارات بڑھنے سے منتخب صوبائی حکومتوں کی خودمختاری محدود ہو گی؛ مقامی پالیسی اور انتظامی فیصلوں میں وفاقی نمائندوں کا اثر بڑھ جائے گا، جس سے صوبائی فیصلہ سازی کا عمل کمزور ہو جائے گا۔
نیشنل پارٹی کی مخالفت کی وجہ: نیشنل پارٹی اس شق کو صوبائی نمائندگی کی نفی سمجھتی ہے اور موقف رکھتی ہے کہ گورنرز کے اختیارات میں اضافہ صوبائی خودمختاری کو ختم کرنے کا راستہ کھولتا ہے۔
13۔ NFC فارمولہ میں تبدیلی
مقصد: مالی وسائل کی تقسیم میں تبدیلی کر کے وفاقی ترجیح یا یکسانیت لانے کا جواز دیا گیا ہے۔
بلوچستان پر اثرات: اگر NFC فارمولا صوبوں کے منصفانہ حصے کو کم کرے تو بلوچستان جیسے کم آبادی مگر وسیع علاقے والے صوبے کو غیر متناسب مالی نقصان ہوگا؛ ترقیاتی منصوبے، بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات متاثر ہوں گی اور مقامی ترقی کی رفتار سُست پڑ جائے گی۔
نیشنل پارٹی کی مخالفت کی وجہ: نیشنل پارٹی کا مؤقف ہے کہ NFC فارمولا صوبائی مالی حقوق کا محافظ ہے؛ اس میں تبدیلی صوبائی خود انحصاری اور ترقی کے حقوق کو مجروح کرے گی، لہٰذا وہ اس کی واضح مخالفت کرتی ہے۔
14۔ تعلیم اور صحت میں وفاقی کردار بڑھانا
مقصد: معیار اور ہم آہنگی کے نام پر تعلیم و صحت کے شعبوں میں وفاق کا کردار بڑھانا بتایا گیا ہے۔
بلوچستان پر اثرات: صوبائی سطح پر مخصوص سماجی، ثقافتی اور جغرافیائی ضروریات کو مدنظر رکھ کر پالیسیاں بنانا مشکل ہوگا؛ مرکزی پالیسیوں کے نفاذ سے مقامی ضروریات، زبان اور روایات کے مطابق خدمات متاثر ہوں گی اور معیار کے نام پر مقامی ترجیحات نظرانداز ہو سکتی ہیں۔
نیشنل پارٹی کی مخالفت کی وجہ: نیشنل پارٹی کا استدلال ہے کہ تعلیم و صحت جیسے حساس شعبے مقامی سمجھ بوجھ کے ساتھ چلائے جائیں؛ وفاقی کنٹرول بڑھانے سے صوبائی خود ارادیت اور عوامی شمولیت نقصان میں آئے گی۔
15۔ قدرتی وسائل پر وفاقی اختیار بڑھانا
مقصد: قومی مفاد یا یکسانی کے نام پر قدرتی وسائل پر وفاقی کنٹرول کو مضبوط کرنا۔
بلوچستان پر اثرات: بلوچستان کے قدرتی وسائل جیسے معدنیات، گیس اور بندرگاہی سہولیات کا کنٹرول وفاق کے ہاتھ میں آ جائے گا؛ صوبائی آمدنی، مقامی روزگار اور ترقیاتی پیکجز پر براہ راست منفی اثرات ہوں گے اور وسائل کے فوائد صوبے تک محدود نہیں رہیں گے۔
نیشنل پارٹی کی مخالفت کی وجہ: نیشنل پارٹی اس شق کو صوبائی اقتصادی خودمختاری کیخلاف قرار دیتی ہے؛ وسائل کے کنٹرول میں وفاقی حاکمیت سے بلوچستان کے عوام کے حقوق مجروح ہوں گے، اس لیے وہ قطعی مخالفت کرتی ہے۔
16۔ سپریم کورٹ کے سُو موٹو اختیار محدود کرنا
مقصد: عدالتی مداخلت کو محدود کر کے عدالتوں کی خود ابتداء پرکی کارروائیوں کو قابو میں رکھنا بتایا گیا ہے۔
بلوچستان پر اثرات: سُو موٹو اختیار محدود ہونے سے عوامی مفاد کے مقدمات جن میں انسانی حقوق، غیرفعال سرکاری مراعات یا لوکل ظلم و ستم شامل ہوں، ان کے فوری عدالتی اقدامات کم ہو سکتے ہیں؛ اس سے بلوچستان کے کمزور طبقوں کے حقوق کی حفاظت متاثر ہو سکتی ہے۔
نیشنل پارٹی کی مخالفت کی وجہ: نیشنل پارٹی کا موقف ہے کہ سُو موٹو اختیار عوامی حقوق کا ایک حفاظتی طریقہ ہے؛ اسے محدود کرنے سے آئینی حفاظت کمزور پڑے گی اور عوامی شکایات کا موثر ازالہ مشکل ہو جائے گا۔
17۔ بعض آئینی دفعات میں ترامیم
مقصد: وفاق اور صوبوں کے تعلقات کو “وضاحت” کے نام پر نئے سرے سے مرتب کرنا بتایا گیا ہے۔
بلوچستان پر اثرات: ان ترامیم کے ذریعے متعدد معاملات میں وفاقی تشریح غالب آ سکتی ہے؛ اس سے صوبائی عدالتی اختیار اور فیصلہ سازی کا دائرہ سکڑ جائے گا اور صوبائی انتظامی خود ارادیت محدود ہو گی۔
نیشنل پارٹی کی مخالفت کی وجہ: نیشنل پارٹی سمجھتی ہے کہ “وضاحت” کا مطلب اکثر اختیارات کی مرکزیت ہوتا ہے؛ اس لیے وہ ایسے ترامیم کی سخت مخالفت کرتی ہے جو صوبائی دائرہ اختیار کو کم کریں۔
18۔ صوبائی مشیروں اور کابینہ اراکین کی تقرری میں وفاقی منظوری
مقصد: صوبائی کابینہ اور مشیروں کی تعیناتی میں وفاقی منظوری کے ذریعے ہم آہنگی برقرار رکھنا بتایا گیا ہے۔
بلوچستان پر اثرات: مقامی حکومتوں کی آزاد فیصلہ سازی محدود ہوگی؛ صوبائی نمائندوں اور وزراء کی انتخابی خود ارادیت متاثر ہو گی اور وفاقی منظوری سے مقامی پالیسیوں میں مداخلت بڑھ سکتی ہے۔
نیشنل پارٹی کی مخالفت کی وجہ: نیشنل پارٹی کا موقف یہ ہے کہ صوبائی کابینہ کی خودمختار تقرری ریاستی دباؤ سے بچنے کے لیے ضروری ہے؛ وفاقی منظوری کی شرط صوبائی خودمختاری کو ختم کرتی ہے۔
19۔ نگران حکومت کے اختیارات
مقصد: نگران یا عبوری حکومتوں کو وسیع اختیارات دے کر انتخابات کے دوران شفافیت یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔
بلوچستان پر اثرات: اگر نگران اختیارات وسیع ہوں تو انتخابات کے دوران صوبائی نمائندگی اور سیاسی عمل متاثر ہو سکتے ہیں؛ مخصوص فیصلے جو انتخابی نتائج پر اثر ڈالیں، وہ مرکزی یا عبوری اختیارات کے ذریعے کنٹرول کیے جا سکتے ہیں۔
نیشنل پارٹی کی مخالفت کی وجہ: نیشنل پارٹی کا کہنا ہے کہ نگران اختیارات کو محدود اور متفقہ ہونا چاہئے؛ غیر مناسب قوت دینے سے جمہوری عمل اور مقامی نمائندگی کو نقصان پہنچتا ہے۔
20۔ سینیٹ انتخابات کے قواعد میں ترامیم
مقصد: سینٹ کے انتخابات کے طریقۂ کار میں یکسانیت اور شفافیت لانا بتایا گیا ہے۔
بلوچستان پر اثرات: قواعد میں ایسی ترامیم جو نمائندگی کے طریقۂ کار کو تبدیل کریں، بلوچستان جیسی کم آبادی مگر مساوی نمائندگی رکھنے والی اکائیاں متاثر کر سکتی ہیں؛ اس سے صوبائی سیاسی وزن کم ہو جائے گا۔
نیشنل پارٹی کی مخالفت کی وجہ: نیشنل پارٹی اس بات کی وکالت کرتی ہے کہ سینیٹ میں صوبائی مساوات برقرار رکھی جائے؛ قواعد میں ایسی تبدیلیاں جو صوبائی نمائندگی کو کم کریں ناقابلِ قبول ہیں۔
21۔ وزرائے اعظم و اعلیٰ کے مشیروں کی تعداد میں اضافہ
مقصد: وفاقی کارکردگی کو بہتر بنا کر مشیروں کی تعداد بڑھانے سے ماہرین کی شمولیت یقینی بنائی جائے۔
بلوچستان پر اثرات: وفاقی وسائل اور اخراجات پر اضافی دباؤ پڑے گا، اس سے صوبائی ترقیاتی فنڈز اور توجہ میں کمی آ سکتی ہے؛ اس کے علاوہ وفاقی ایڈمنسٹریٹو بیوروکریسی میں اضافی اثرورسوخ صوبائی مسائل کی توجہ کو کمزور کر سکتا ہے۔
نیشنل پارٹی کی مخالفت کی وجہ: نیشنل پارٹی سمجھتی ہے کہ وفاقی اختیارات اور مشیروں کی تعداد بڑھانے سے وسائل کا مرکزیت کی طرف بہاؤ بڑھے گا؛ اس طرح بلوچستان جیسے محروم صوبوں کے مفادات پس پشت رہ سکتے ہیں۔
22۔ CCI کی میٹنگز ہر 180 دن
مقصد: کونسل آف کورم انفارمیشن یا کونسل آف کومن انٹرنس (CCI) کی میٹنگز باقاعدہ کر کے وفاقی و صوبائی رابطہ کو باقاعدہ بنایا جائے۔
بلوچستان پر اثرات: اگر CCI میٹنگز طے شدہ وقفوں پر ہوں مگر ہنگامی فیصلے یا فوری اقدامات پر مبنی نہ ہوں تو صوبائی مسائل کا فوری ازالہ ممکن نہیں رہے گا؛ بلوچستان کے حساس اور فوری حل طلب معاملات تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں۔
نیشنل پارٹی کی مخالفت کی وجہ: نیشنل پارٹی کا کہنا ہے کہ بروقت اور مسئلے کے مطابق میٹنگز اور اجلاس ہونے چاہئیں؛ صرف باقاعدہ وقفہ بندی سے حقیقی ہم آہنگی اور فوری پالیسی حل ممکن نہیں۔
23۔ دفاعی مقاصد کے لیے زمین حاصل کرنا آسان
مقصد: دفاعی منصوبوں اور آپریشنز کے لیے زمین کا حصول آسان بنانا تاکہ قومی دفاعی تقاضے بروقت پوری کیے جا سکیں۔
بلوچستان پر اثرات: زمین کے حصول کے آسان طریقوں سے قبائلی روایتی حقوق، زرعی زمینیں اور مقامی زندگی کے ذرائع خطرے میں پڑ سکتے ہیں؛ بلوچستان میں زمین حساس موضوع ہے اور اس سے مقامی بیزاری، نقل مکانی اور سماجی تناؤ بڑھ سکتا ہے۔
نیشنل پارٹی کی مخالفت کی وجہ: نیشنل پارٹی کا موقف ہے کہ دفاعی ضروریات اور مقامی حقوق کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے؛ بغیر مناسب مشاورت اور معاوضہ کے زمین حاصل کرنے کی شق مقامی حقوق کو پامال کرے گی۔
24۔ بلدیاتی اداروں کے اختیارات صوبائی اسمبلی سے نکال کر وفاقی نگرانی
مقصد: بلدیاتی اختیارات کو “ہم آہنگی” کے نام پر مرکزی یا وفاقی نظم و نسق کے ماتحت لانا۔
بلوچستان پر اثرات: مقامی نمائندگی اور دیہی خود حکمرانی کو شدید نقصان پہنچے گا؛ ایسے فیصلے جو مقامی سطح پر ضروری اور موزوں ہوں، وفاقی نگرانی کے باعث نافذ نہیں ہو سکیں گے، جس سے گورننس کا سب سے نچلا سطح کمزور ہو گا۔
نیشنل پارٹی کی مخالفت کی وجہ: نیشنل پارٹی اس شق کو مقامی جمہوریت کی تباہی سمجھتی ہے؛ وہ کہتی ہے کہ بلدیاتی اختیار مقامی سطح پر رہنا چاہیے، وفاقی نگرانی سے عوامی شرکت اور جوابدہی ختم ہو جائے گی۔
25۔ آئینی اصطلاحات میں تبدیلی
مقصد: اصطلاحات میں ترمیم کے ذریعے وفاقی ہم آہنگی برقرار رکھنے اور قانونی ابہامیت دور کرنے کی دلیل پیش کی گئی ہے۔
بلوچستان پر اثرات: اصطلاحاتی تبدیلی، اگر دائرۂ اختیار یا بنیادی تعریفیں تبدیل کر دے تو وہ صوبائی حقوق کے منافی ثابت ہو سکتی ہے؛ چھوٹا سا لسانی یا قانونی فرق بڑے اختیاراتی نتائج پیدا کر سکتا ہے، جس سے صوبائی آواز دب سکتی ہے۔
نیشنل پارٹی کی مخالفت کی وجہ: نیشنل پارٹی کا استدلال یہ ہے کہ اصطلاحات میں تبدیلیاں شفاف، متفقہ اور مشاورتی طریقے سے ہونی چاہئیں؛ ورنہ یہ حربے صوبائی حقوق کو ختم کرنے میں استعمال ہو سکتے ہیں۔
26۔ عدالتی ضوابط کے عبوری قوانین 60 دن میں بنانا
مقصد: عدالتی ضوابط میں تیزی لانے اور فوری نفاذ کے لیے عبوری قوانین کو مختصر مدت میں نافذ کرنا بتایا گیا ہے۔
بلوچستان پر اثرات: عبوری اور تیز تر قانون سازی سے تشریحات اور مشاورت کا عمل متاثر ہو گا؛ صوبائی عدلیہ پر فوری قوانین کے مطابق پابندی لاگو ہونے سے مقامی انتظامی اور عدالتی طریقۂ کار متاثر ہو سکتے ہیں۔
نیشنل پارٹی کی مخالفت کی وجہ: نیشنل پارٹی کا موقف ہے کہ عدالتی ضوابط اور عبوری قوانین کو مناسب مشاورت اور جائزہ کے بعد بنایا جانا چاہیے؛ چند روز میں بننے والی شقیں مرضی کے مطابق اور یکطرفہ فیصلے جنم دے سکتی ہیں۔
27۔ مجموعی مقصد: وفاقی ہم آہنگی کے نام پر آئینی ڈھانچے میں تبدیلی
مقصد: پورے پیکج کا اعلان وفاقی ہم آہنگی، یکسانیت اور مؤثر حکمرانی کے نام پر کیا گیا ہے تاکہ ایک مضبوط مرکزی ریاست قائم کی جا سکے۔
بلوچستان پر اثرات: مجموعی طور پر یہ ترامیم اختیارات، مالی وسائل، عدالتی خودمختاری اور لوکل گورننس کو محدود کریں گی؛ بلوچستان جیسے خطے کی سیاسی، سماجی اور اقتصادی خود ارادیت کمزور ہو گی اور تاریخی محرومی مزید گہری ہو جائے گی جس کا نتیجہ سیاسی کشیدگی اور عدم استحکام ہو سکتا ہے۔
نیشنل پارٹی کی مخالفت کی وجہ: نیشنل پارٹی اس مجموعی پیکیج کو صوبوں کے حقوق کے خلاف اور وفاقی قبضے کو آئینی جواز دینے والا سمجھتی ہے؛ وہ اس بنیاد پر پورے بل کی قطعی مخالفت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ کسی بھی آئینی ترامیم کے لیے مکمل مشاورت، صوبائی رضا مندی اور شفاف مذاکرات ضروری ہیں۔

