شکر گزاری کا جادو

تحریر:سجل ملک (روالپنڈی اسلام آباد)
“جادو”ایک ایسا لفظ ہے جو اپنے اندر حیرت، راز اور کشش کی پوری دنیا سموئے ہوئے ہے۔ جادو وہ طاقت ہے جو ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہے، جو دل کو مسحور اور عقل کو حیران کر دیتی ہے۔ کبھی یہ الفاظ کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے، کبھی نگاہوں میں چھپا ہوتا ہے، اور کبھی کسی کے رویے یا محبت میں محسوس ہوتا ہے۔ جادو صرف ٹونے یا منتر کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک احساس ہے — وہ لمحہ جب دل کو سکون ملے، روح کو روشنی چھوئے، یا خواب حقیقت میں بدلنے لگیں۔ اصل جادو انسان کے خلوص، نیت، اور ایمان میں پوشیدہ ہے جو کائنات کو بھی اپنے رنگ میں رنگ دیتا ہے آج میں بھی ایک ایسے ہی جادو کی حقیقت جس کو میں نے خود آزمایا اور آج آپ کے ساتھ بھی شیئر کر رہی ہوں۔آج میں آپ کو بتاؤ گی کہ شکر گزاری ایک کتنا بڑا جادو ہے اور اس کی حقیقت اگر ہم جان لے آور مان لے تو یقین کرے آپ دنیا کے سارے جادو اور ان کے اثرات کو بھول جائیں گے۔
شکر گزاری دراصل روح کی وہ لطیف کیفیت ہے جو انسان کے اندر نور، اطمینان اور محبت کی روشنی بھردیتی ہے۔ یہ ایک ایسا جادو ہے جو دل کے زخموں کو مرہم بناتا ہے، اندھیروں کو اجالوں میں بدل دیتا ہے، اور زندگی کے خالی لمحوں کو معنی عطا کرتا ہے۔انسان جب شکر ادا کرتا ہے تو گویا وہ اپنے خالق کے حضور جھک کر یہ اقرار کرتا ہے کہ“اے رب، جو کچھ میرے پاس ہے، وہ تیرا ہی دیا ہوا ہے، میں اس پر راضی ہوں۔”اور یہی رضا مندی دراصل روح کا سکون ہے۔ شکر ایک ایسی دعا ہے جو الفاظ کے بغیر بھی عرش تک پہنچ جاتی ہے۔قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:یعنی ”اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔”یہ وعدہ دراصل اُس آفاقی قانون کی وضاحت ہے جس کے تحت شکر انسان کے لیے مزید نعمتوں کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ جس دل میں شکر کے چراغ جلتے ہیں، وہاں ناامیدی کا سایہ کبھی نہیں ٹہرتا۔شکر گزاری محض زبان کی ادا نہیں، یہ دل کی کیفیت اور شعور کی پختگی ہے۔ شکر کرنے والا انسان ہر حال میں خوش رہتا ہے، کیونکہ وہ اپنی نظر کمی پر نہیں، کرم پر رکھتا ہے۔ وہ مصیبت میں بھی یہ یقین رکھتا ہے کہ شاید اسی میں اس کے لیے کوئی خیر پوشیدہ ہے۔ شکر اس کا طرزِ زندگی بن جاتا ہے، اس کی مسکراہٹ اس کی پہچان، اور اس کا سکون اس کا تحفہ۔دنیا کی سب سے بڑی دولت نہ سونا ہے، نہ چاندی — بلکہ شکر گزار دل ہے۔ وہ دل جو ہر صبح جاگتے ہی ”الحمدللہ” کہتا ہے، وہ دل جو ہر سانس پر اپنے رب کی نعمت کو پہچانتا ہے۔ ایسے دل والے لوگ زندگی کے بھید پا لیتے ہیں۔ وہ جان لیتے ہیں کہ سکون دولت سے نہیں، بلکہ رضا اور شکر سے ملتا ہے۔شکر گزاری انسان کو انسانیت کے قریب لاتی ہے۔ جب ہم اپنے اردگرد کے لوگوں کی محبت، ان کی مدد، ان کی موجودگی کا شکر ادا کرتے ہیں تو دلوں کے فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ شکر ایک ایسا رشتہ ہے جو بندوں کو بندوں سے اور بندوں کو خدا سے جوڑ دیتا ہے۔شکر کرنے والا شخص نہ صرف اپنے دل کو روشن کرتا ہے بلکہ دوسروں کی زندگیوں میں بھی روشنی بانٹتا ہے۔ اس کی گفتگو میں نرمی، اس کے عمل میں محبت، اور اس کی نگاہ میں سکون جھلکتا ہے۔ وہ ہر چیز میں بھلائی دیکھتا ہے، ہر حال میں مسکراتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جو شکر کو ”جادو” بنا دیتی ہے — ایسا جادو جو دکھ کو خوشی، محرومی کو رحمت، اور آزمائش کو انعام میں بدل دیتا ہے۔شکر گزاری دراصل زندگی کا فلسفہ ہے۔ یہ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ خوشی اُس چیز کے ملنے میں نہیں جو ہم چاہتے ہیں، بلکہ اُس چیز کی قدر کرنے میں ہے جو ہمارے پاس ہے۔شکر کرنے والا شخص کبھی تنہا نہیں رہتا، کیونکہ اس کے دل میں اللہ کی قربت بس جاتی ہے۔آخر میں یہی کہنا بجا ہوگا کہ شکر گزاری محض ایک عمل نہیں، ایک طرزِ احساس ہے — ایک جادوئی کیفیت جو دل کو پاک، زبان کو نرم اور روح کو مطمئن کر دیتی ہے۔جو انسان شکر گزار ہے، وہ دراصل زندگی کے سب سے بڑے راز سے واقف ہے:

اپنا تبصرہ بھیجیں