اداریہ
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بگڑتی ہوئی صحت نہ صرف تشویش ناک ہے بلکہ انسانی حقوق کے بنیادی تقاضوں کی بھی یاد دہانی کراتی ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر قیدی کو مناسب طبی سہولیات فراہم کرے، خصوصاً ایسے حالات میں جب صحت کے سنگین مسائل درپیش ہوں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت کو مسلسل قید میں رکھنا اور بنیادی طبی امداد سے محروم کرنا ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی طویل عرصے سے بلوچستان کے عوام کے مسائل کو پرامن انداز میں اجاگر کرتی آئی ہے۔ اگر ایک پرامن جدوجہد کرنے والی تنظیم اور اس کی قیادت کو برداشت نہیں کیا جا رہا تو یہ طرزِ عمل خود حکومتی بے چینی کی عکاسی کرتا ہے۔
اسی تناظر میں نادیہ بلوچ کو کوئٹہ میں پریس کانفرنس کی اجازت نہ دینا اور صحافیوں کو ہراساں کرنے کی اطلاعات بھی تشویش کا باعث ہیں۔ جمہوری معاشروں میں اظہارِ رائے کی آزادی بنیادی حق تسلیم کی جاتی ہے، اور پریس کلب جیسے ادارے عوامی آواز کو سامنے لانے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ ایسی پابندیاں شکوک و شبہات کو مزید تقویت دیتی ہیں۔
جمہوری اقدار کا تقاضا ہے کہ اختلافِ رائے کو طاقت کے بجائے مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے۔ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون اور آئین کے مطابق عمل کرتے ہوئے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔ بصورتِ دیگر، ایسے اقدامات نہ صرف داخلی سطح پر بے چینی کو جنم دیتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی سوالات اٹھاتے ہیں۔

