صحبت پور ( عطا محمد کھوسہ ) جعفرآباد میں رمضان المبارک کی برکتوں اور رحمتوں کے دعوؤں کے باوجود کئی ایسے گھرانے موجود ہیں جہاں چولہا ٹھنڈا ہے اور آنکھیں امداد کی راہ تکتے تکتے اشکبار ہو چکی ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی جانب سے چھ ہزار رمضان ریلیف پیکج فراہم کیے جانے کا اعلان اپنی جگہ، مگر زمینی حقائق کئی سوالات کو جنم دے رہے ہیں کہ آخر اصل مستحقین تک یہ امداد کیوں نہیں پہنچ پا رہی؟
ڈیرہ اللہ یار کی بہادر شاہ بخاری کالونی کا ایک بے سہارا خاندان آج کرب و الم کی تصویر بنا ہوا ہے۔ چند روز قبل اچانک لگنے والی آگ نے پرویز احمد کھوسہ کے گھر کو پل بھر میں راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ گھر کا سامان، بچوں کے کپڑے، بستر، سب کچھ شعلوں کی نذر ہو گیا۔ اس سانحے کے بعد سب سے بڑا صدمہ یہ کہ گھر کا واحد کفیل اس وقت کوئٹہ کے بحالی مرکز میں زیر علاج ہے اور پانچ معصوم بچوں کی ذمہ داری ایک نحیف و ضعیف ماں کے کمزور کندھوں پر آ پڑی ہے۔
رمضان کے بابرکت مہینے میں جب ہر طرف سخاوت اور ہمدردی کی باتیں ہو رہی ہیں، یہ خاندان کسی مسیحا کی راہ دیکھ رہا ہے۔ اہل علاقہ کی آنکھوں میں بھی سوال ہے اور دلوں میں درد کہ کیا یہ بچے اور ان کی بوڑھی دادی حکومتی امداد کے حق دار نہیں؟
شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس متاثرہ خاندان کو رمضان ریلیف پیکج اور خصوصی مالی امداد فراہم کی جائے، تاکہ یہ بے آسرا بچے بنیادی ضروریات سے محروم نہ رہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ریلیف پیکج کی منصفانہ اور شفاف تقسیم کو یقینی بنایا جائے، تاکہ حقیقی مستحقین تک حق پہنچ سکے اور کسی مظلوم کی آہ نظام کی بے حسی میں دب کر رہ نہ جائے۔

