پسنی فش ہاربر اتھارٹی میں بدانتظامی عروج پر، مینیجنگ ڈائریکٹر کی فوری برطرفی کا مطالبہ — عبد السمیع انصاری

پسنی(رپورٹر) فش ہاربر اتھارٹی میں مبینہ نااہلی، بدعنوانی اور انتظامی غفلت کے خلاف شدید ردعمل سامنے آ گیا۔ پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کے ڈائریکٹر کمپلین سیل، انٹرنیشنل ہیومن رائٹس پاکستان کے وائس پریذیڈنٹ، نیٹ ورک ہیومن رائٹس کے فیڈرل مانیٹرنگ کوآرڈینیٹر اور شاہین دفاع پاکستان کے مرکزی جنرل سیکریٹری عبد السمیع انصاری نے اپنے جاری کردہ انتہائی سخت بیان میں پسنی فش ہاربر اتھارٹی کے مینیجنگ ڈائریکٹر کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر دیا۔
عبد السمیع انصاری نے الزام عائد کیا کہ مذکورہ افسر گزشتہ چھ ماہ سے مسلسل اپنی سرکاری ڈیوٹی سے غیر حاضر ہے، جو نہ صرف سرکاری سروس رولز اور حکومتِ بلوچستان کے قواعد کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ آئینِ پاکستان کے تقاضوں کے بھی منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اہم قومی ادارے کے سربراہ کی طویل غیر حاضری ادارے کو مفلوج کرنے اور قومی مفادات کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان کی جانب سے ایسے مبینہ طور پر نااہل اور غیر ذمہ دار افسر کو تحفظ دینا عوام کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے اور یہ طرزِ عمل گڈ گورننس کے دعوؤں پر سوالیہ نشان ہے۔
عبد السمیع انصاری نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 4 اور آرٹیکل 25 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر شہری کو قانون کے مطابق سلوک اور مساوی انصاف کی ضمانت حاصل ہے، لہٰذا کسی بھی سرکاری افسر کی غیر حاضری، اختیارات کا غلط استعمال اور ادارے کو نقصان پہنچانا قابلِ گرفت عمل ہے جس پر فوری اور شفاف کارروائی ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پسنی فش ہاربر بلوچستان کی معیشت، ماہی گیروں کے روزگار اور قومی ریونیو کا اہم ذریعہ ہے، مگر بدانتظامی، مبینہ کرپشن اور افسران کی عدم موجودگی کے باعث ادارہ زوال کا شکار ہو چکا ہے، جس کا خمیازہ غریب ماہی گیر اور مقامی آبادی بھگت رہی ہے۔
عبد السمیع انصاری نے مطالبہ کیا کہ مینیجنگ ڈائریکٹر کو فوری طور پر برطرف کر کے ان کی جگہ سینئر افسر الطاف علی گوہر کو ایڈیشنل چارج دیا جائے، تاکہ ادارے کے معاملات کو فوری طور پر سنبھالا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ الطاف علی گوہر ایک تجربہ کار اور سینئر افسر ہیں جو ادارے کو بہتری کی جانب لے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے دو ٹوک اعلان کیا کہ اگر فوری طور پر برطرفی اور شفاف انکوائری کا آغاز نہ کیا گیا تو انٹرنیشنل ہیومن رائٹس پاکستان، نیٹ ورک ہیومن رائٹس اور شاہین دفاع پاکستان پورے بلوچستان اور ملک بھر میں آئینی، قانونی اور پُرامن احتجاج کا اعلان کریں گے، اور معاملہ وفاقی سطح، متعلقہ فورمز، عدالتی اداروں اور انسانی حقوق کے عالمی پلیٹ فارمز تک لے جایا جائے گا۔
آخر میں انہوں نے واضح کیا کہ آئین، قانون، قومی مفاد اور عوامی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کسی دباؤ یا دھمکی کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں