پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ میں لیڈیز سے متعلق خبر بے بنیاد قرار

کوئٹہ ( پریس ریلیز) پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ مورخہ 26 فروری سال 2026ء کے حوالے سے کوئٹہ کے چند اخبارات میں لیڈیز کی حق تلفی کے بارے میں خبر شائع ہوئی۔ پولیس ٹریننگ کالج نے ماضی قریب میں تقریبا 450/400 کے قریب لیڈی کانسٹیبلان و آفیسران کو ٹریننگ دی ہے۔ جو آج بلوچستان بھر کے مختلف اضلاع میں کامیابی سے ڈیوٹی کر رہی ہیں۔ موجودہ سیشن میں چند ایک آفیسرز لیڈیز پولیس اور لیڈیز ریکروٹ کانسٹیبلان کے علاوہ تقریبا 2100 کے قریب میل آفیسران ، ریکروٹ ٹرینگ کر رہے ہیں۔ لیڈی آفیسران و کانسٹیبلان کے لئے علیحدہ بہترین میس جبکہ ان کی اچھی اور بہترین سہولت کے لئے علیحدہ سے کینٹین اور پردے کے لئے بانسوں سے چار دیواری کا انتظام ابھی حال ہی میں کیا گیا ہے۔ جناب انسپکٹر جنرل صاحب پولیس بلوچستان نے لیڈیز میس ہال و کینٹین اور میس برائے آفیسرز کا افتتاح اپنے دست مبارک سے کیا۔ بلوچستان کے رسم و رواج کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے تمام کورسز کے جوانوں / خواتین کی علیحدہ علیحدہ تربیت کا انتظام کیا گیا ہے۔ بے بنیاد خبروں سے پولیس ٹریننگ کالج کے مورال کو خراب نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔

چند یوم قبل روزہ افطار کے ٹائم پر ایک ذمہ دار آفیسر نے چند ایک زیر تربیت لیڈیز جو کہ SOPs کی خلاف ورزی کرتے ہوئے میس سے کھانا ہاسٹل لے جارہی تھیں۔ جن کو روکا گیا کہ جو SOP بنائی گئی ہے، اس پر عمل کریں اور کھانا میس میں بیٹھ کر کھائیں۔ کیونکہ روزہ کھولنے کا وقت قریب تھا۔ زیر تربیت لیڈی آفیسر کو آفیسر کی بات نامناسب لگی، جس پر اس خاتون ٹرینی آفیسر نے وائس میسج کیا اور تحریری درخواست گزاری۔ اس درخواست پر آفیسران بالا کی طرف سے فوری انکوائری کی گئی۔ جس میں ڈپٹی کمانڈنٹ / چیف لاء انسٹرکٹر اور دیگر DSP’s پر مشتمل کمیٹی نے تمام فریقین کو سنا۔ مسئلہ ڈسپلین اور SOPS کے متعلقہ معمولی نوعیت کا تھا اور حل بھی ہو چکا ہے۔ لیڈی زیر تربیت نے بتلایا کہ اس نے درخواست جذبات میں آکر دی تھی۔ آئندہ وہ SOP’s کا خیال رکھے گی۔ مزید یہ بھی بتاتے چلیں کہ PTC میں تعینات وزیر تربیت لیڈی آفیسران ہماری بیٹیوں کی طرح ہیں اور بیٹیوں کی طرح ہی ان کا ترجیحی خیال رکھا جاتا ہے اور ہر طرح کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

کچھ آفیسر ان کو چند دن پہلے بری کار کر دگی، بے جا مداخلت، ادارہ ہذا کے معاملات کو اچھالنے اور غیر ذمہ دارانہ رویہ و بد اخلاقی کی وجہ سے کالج ہذا سے تبدیل کیا گیا۔ جنہوں نے اپنی ذاتی کدورت اور رنج کی وجہ سے اس معاملے کو غلط رنگ دے کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر کے مختلف گروپوں میں وائرل کیا۔ (جس کے ثبوت موجود ہیں)۔ ان آفیسران کے اس غیر ڈسپلن فعل کی پاداش میں محکمانہ انکوائری /سزا کی سفارش کی گئی ہے۔ ادارے کے قواعد و ضوابط کے منافی فعل، ڈسپلین پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ پولیس ٹریننگ کالج کے ذمہ دار آفیسر ان نے معاملے کو فوری طور پر حل کرایا۔ کالج ہذا اپنے SOPs پر آج بھی عمل پیرا ہے بابل بلوچ ترجمان پی ٹی سی کوئٹہ

اپنا تبصرہ بھیجیں