پنجگور (این این آئی) بارڈر بچاؤ تحریک پَنجگْور کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے بارڈر مینجمنٹ کی طرف سے 3500 کے قریب اسٹیکرز کی بندش لوگوں کی زورگار پر قدغن اور ناانصافی کے علاوہ کچھ بھی نہیں انہوں نے کہا کہ حیرانی کی بات ہے کہ دنیا اور ہمارے ملک کے کون سے آئین میں لکھا ہے کہ ملازم روزگار نہیں کرسکتا روزگار کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے اور یہ حق کوئی بھی ادارہ چھین نہیں سکتا۔ترجمان نے کہا اگر بیروکریسی اور بڑے ملازمت رکھنے والے جو ہر مہینے لاکھوں روپے تنخواہ لیتے ہیں وہ اپنے گھروں کو بمشکل تو چلا سکتے ہیں لیکن نچلے طبقے کی ملازم جو 40000 سے 50000 ہزار تنخوا لیتے ہیں اس مہنگائی کے دور میں اپنے گھروں کو کیسے چلا سکتے ہیں ریاست کا حق بنتا ہے کے اپنے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار دیں تاکہ وہ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی کھلا سکیں۔ترجمان نے کہا پہلے سے بیروزگاری کی وجہ سے عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے اور اسی وجہ سے امن امان کی صورت حال روزانہ کی بنیاد پر بد سے بدتر ہوتا چلا جارہاہے بارڈر منیجمنٹ کے اس فیصلے نے عام عوام کے دلوں میں بے چینی اور مایوسی کی نئی لہر پیدا کردی ہے ہم یہی امید کررہے تھے کہ اس مبارک مہینے کی بدولت بارڈر منیجمنٹ نوبت لسٹ کو 100% کرکے نیو اسٹیکرز غریب اور مستحق لوگوں کو دیکر زورگار کے نئے مواقعے پیدا کریں گے لیکن بدقسمتی سے بارڈر منیجمنٹ روزگار دینیکے بجائے روزگار چھینے کو ترجیح دے رہاہے ترجمان نے کہا ہم امید کرتے ہیں بارڈر منیجمنٹ اپنے اس فیصلے کو پوری طور واپس لیکر ایک دانشمندانہ فیصلہ کریگی ترجمان نے کہا کہ پنجگور میں اگر کسی کے پاس ملازمت ہے تو صحت اور ایجوکیشن کی سہولت میسر نہیں ہے جب گھر میں ایک شخص بیمار پڑ جاتا ہے تو کراچی لے جانا مجبوری بن جاتا ہے جسکے علاج کے لیے لاکھوں روپے کا بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے اگر کوئی دو لاکھ تنخواہ لینا والا بھی ہو تو وہ بھی پس کر رہ جاتا ہے اسی طرح تعلیمی صورتحال ہے وہ سب کے سامنے ہے کیا پنجگور کے ملازمین کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ ملک کے بڑھے شہروں میں اپنے بچوں کو تعلیم دیں ترجمان نے کہا کہ عوام میں امتیاز کرنا کوئی دانشمندی نہیں کچھ لوگوں کی خواہش ہے کہ معاملات بے یقینی کی طرف جائیں مگر بڑوں کو اس بات کاخود احساس کرنا ہے کہ وہ فیصلہ سازی میں تمام مجموعی صورتحال کا جائزہ لیں اور عوام کے لیے پاپولر فیصلے کریں ترجمان نے کہا کہ مہنگاہء کی صورتحال بھی سب کے سامنے ہے کیا تنخواہوں سے گھر چلانا کوئی آسان کام ہے ترجمان نے کہا کہ بارڈر منیجمنٹ کمیٹی بارڈر کے ثمرات کو محدود کرنے کی بجائے ملازم طبقہ کو بھی باعزت طریقے سے جینے کا حق دے تاکہ وہ کسی الجھن اور پریشانی کے بغیر بچوں کی پرورش تعلیم صحت کا خیال رکھ سکے ترجمان نے کہا کہ ملازمین کے علاوہ بیشمار غریب شہریوں کے اسٹیکر بھی مختلف الزامات کی وجہ سے بند کردئیے گئے ہیں جنکی معاشی حالات بدسے بدتر ہوچکے ہیں انکو بھی روزگار کا حق دیا جائے بصورت دیگر عوام کے ساتھ ملکر اپنا آئینی حق استعمال کرتے ہوے احتجاجوں کا سلسلہ شروع کردیں گے پھر تمام تر زمہ زمہ داری بارڈر مینجمنٹ پر عائد ہوگی۔

