اس وقت محسوس ہوتا ہے ٹرمپ کے پاس اس جنگ کو ختم کرنے کے حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں، سینیٹر محمد عبدالقادر

کوئٹہ(این این آئی) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک باقاعدہ اور طویل جنگ کی صورت اختیار کرگئی ہے ٹرمپ کی حالیہ پالیسیاں اور بیانات ایران کے خلاف جاری جنگ کو ختم کرنے کے موڈ میں نہیں ٹرمپ اور نیتن یاہو کی احمقانہ جنگی حکمتِ عملی اور خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کو روکنے کی خواہش نے اس تصادم کو کھلی جنگ کی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس وقت محسوس ہوتا ہے کہ ٹرمپ کے پاس اس جنگ کو ختم کرنے کے حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں. یہ جنگ جیسے جیسیطوالت اختیار کرتی جاے گی اس کی وجہ سے پیچیدگیاں بڑھتی چلی جائیں گی. یہ جنگ فضائی حملوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کا دائرہ خلیج فارس، عراق، شام اور لبنان سے ہوتا ہوا برطانیہ, فرانس اور جرمنی تک پھیل سکتا ہے۔ برطانیہ, فرانس اور جرمنی نے ایرانی میزائل پروگرام کو ختم کرنے کیلئے ایران پر حملے کی دھمکی دی ہے. ایران کے جوابی وار سے یہ جنگ یورپ کے اندر پہنچ جا? گی جس سے تباہی کا دائرہ وسیع ہو جائے گا۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوارسینیٹر محمد عبدالقادر نے مزید کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی عسکری صلاحیت، میزائل پروگرام اور خطے میں انکے اتحادی اس جنگ کو طویل اور پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ جنگ طول پکڑتی ہے تو اس کے نتیجے میں دسیوں ہزار افراد کی جانیں ضائع ہوں گی اور اربوں ڈالر کے معاشی نقصانات یقینی ہونگے۔ تیل کی عالمی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ، سمندری راستوں کا عدم تحفظ اور توانائی بحران عالمی معیشت کو بہت بری طرح سے متاثر کر ے گا. ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کو بھی اس جنگ کی بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔ ایران ممکنہ طور پر براہِ راست یا بالواسطہ ردِعمل کے ذریعے خطے میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے عالمی سطح پر عدم استحکام میں مزید اضافہ ہوگا۔ ایسی جنگ کسی ایک فریق کی مکمل فتح پر ختم نہیں ہوگی بلکہ پورا خطہ عدم استحکام، انسانی المیے اور معاشی بحران کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ طاقت کے بجائے سفارت کاری کو موقع دیا جائے، ورنہ اس آگ کے شعلے کروڑوں انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے.

اپنا تبصرہ بھیجیں