کوئٹہ(این این آئی)ڈپٹی انسپکٹر پولیس جنرل لیفٹیننٹ (ر) عمران شوکت نے کہا ہے کہ 21 رمضان المبارک کو یوم علی کے موقع پر سیکورٹی فول پروف انتظامات کئے گئے جلوس کی سیکورٹی پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہوگی اور جلوس کی نگرانی سی سی ٹی وی اور کوئٹہ سیف سٹی کے کیمروں سے کی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ سی سی پی او آفس میں منعقدہ اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ایس ایس پی آپریشن کوئٹہ آصف خان، ایس ایس پی ایڈمن دوستین دشتی، مختلف ایس پیز، ڈی ایس پیز اور سنی اور شیعہ علماء کرام کے علاوہ تاجر تنظیموں کے صدور، رہنماء جن میں مفتی محمد احمد خان، قاری غلام یاسین، ڈاکٹر عطاء الرحمن، قاری عبداللہ منیر، قاری عبدالرحمن، قاری عبدالمطور، قاری محمد، علامہ ہاشم موسوی، عاشق حسین، کاظم علی، امیر بختیار،کربلائی خادم، مرکزی انجمن تاجران رجسٹرڈ بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ، حضرت علی اچکزئی، یاسین مینگل، انجمن تاجران کے صدر رحیم آغا، میر اسلم رند، امر الدین آغا، ٹکری حمید بنگلزئی، بشیر بنگلزئی سمیت دیگر بھی شریک تھے۔ ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ نے کہا کہ 21 رمضان المبارک کو یوم علی کے جلوس کے موقع پر سیکورٹی کے لئے موثر اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور جلوس کے روٹ کو سیل کرنے کے علاوہ سلیپنگ کی جائے گی اور جلوس کی سیکورٹی پر پولیس، ایف سی سمیت سیکورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کی جائیگی انہوں نے کہا کہ کوئٹہ ہمارا گھر ہے ہم سب نے ملکر اتحاد بین المسلمین کا عملی مظاہرہ کرنا ہے اس حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز اور مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے رابطے میں ہیں سیکورٹی کے حوالے سے تمام انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور جلوس کا طے شدہ روٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے سیکورٹی پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائیگا اور جلوس کے دوران میں اور ایس ایس پی آپریشن کوئٹہ موجود ہوں گے اور نگرانی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر سیکورٹی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے سنی و شیعہ علماء کرام، تاجر برادری اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں ہم نے ا من کی بحالی اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانا ہے اور انٹیلی جنس بیسڈ سرچ آپریشن بھی جاری ہے تاکہ کسی قسم کی ممکنہ دہشت گردی کے خدشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک دشمن عناصر کے عزائم کو بروقت ناکام بنایا جاسکے جس طرح 31 جنوری کو اللہ تعالیٰ کی نصرت اور فضل سے کامیابی حاصل کی اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے انہوں نے تمام مکاتب فکر کے لوگوں سے اپیل کی کہ اتحاد و یکجہتی کے فروغ کو یقینی بناتے ہوئے امن کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔

