بلوچستان ہائیکورٹ کاپروجیکٹ ڈائریکٹر کو سریاب روڈ پر سروس کوریڈور کی تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت،آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کا حکم

کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان ہائی کورٹ میں چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کوئٹہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران مختلف منصوبوں کی پیش رفت سے متعلق رپورٹیں عدالت میں پیش کی گئیں اور متعلقہ حکام کو متعدد ہدایات جاری کی گئیں۔سماعت کے دوران وزیراعلیٰ پیکج برائے کوئٹہ کے منصوبوں کے پروجیکٹ ڈائریکٹر رفیق بلوچ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہو کر ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ جمع کرائی۔ رپورٹ کے مطابق امداد چوک اور اس سے ملحقہ سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے کاموں میں پرانی سڑک کی کٹائی، ایگریگیٹ بیس کورس اور اسفالٹ بیس کورس کی تیاری، بچھانے اور کمپیکشن کا عمل جاری ہے جبکہ سڑک کے دونوں اطراف مکمل چوڑائی میں فرش کی تیاری، کراس ڈرینیج اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے کام بھی مکمل کیے جا رہے ہیں۔ منصوبے میں فٹ پاتھ، لین مارکنگ، مین ہول کورز اور گرِلنگ کی تنصیب بھی شامل ہے۔اسی طرح محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ایکسین و پراجیکٹ ڈائریکٹر حبیب الرحمٰن نے عدالت کو سریاب روڈ پر جاری فلائی اوور منصوبوں کے حوالے سے تصویری شواہد کے ساتھ بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ گاہی خان چوک فلائی اوور پر تقریباً 98 فیصد فزیکل پیش رفت مکمل ہو چکی ہے جبکہ کسٹم فلائی اوور پر تعمیراتی کام تقریباً 4 فیصد تک پہنچا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بعض مقامی زمینداروں کے ساتھ مسائل کی وجہ سے کام میں رکاوٹ پیش آئی ہے، جس پر معاملہ حل کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سے تعاون طلب کیا گیا ہے۔ عدالت نے پروجیکٹ ڈائریکٹر کو سریاب روڈ پر سروس کوریڈور کی تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا۔عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو بھی ہدایت کی کہ وہ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے ساتھ معاملہ اٹھا کر عدالتی احکامات پر بروقت عمل درآمد یقینی بنائیں۔ سماعت کے دوران عالمو چوک فلائی اوور منصوبے سے متعلق بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر اسے ون وے اوورہیڈ برج کے طور پر منصوبہ بندی کیا گیا تھا تاہم مجاز اتھارٹی کی ہدایت پر اس میں ترمیم کرتے ہوئے اسے ڈبل وے پل کے طور پر تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں فزیبلٹی اسٹڈی اور ڈیزائننگ کا عمل جاری ہے اور مکمل ہونے کے بعد منصوبہ منظوری کے لیے پی ڈی ڈبلیو پی اور بعد ازاں سی ڈی ڈبلیو پی کو ارسال کیا جائے گا۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کی منظوری اور تکمیل کے عمل کو تیز کیا جائے۔دوران سماعت یہ بھی بتایا گیا کہ ہاکی چوک تا سریاب ریلوے کراسنگ زرغون روڈ کی تعمیر کے بعد کمشنر کوئٹہ ڈویڑن نے نئی تعمیر شدہ سڑکوں، خصوصاً انسکمب روڈ اور زرغون روڈ پر کسی بھی قسم کی تجارتی سرگرمی یا نئی تعمیرات پر پابندی عائد کر دی ہے۔ عدالت نے کمشنر کوئٹہ، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کے ایڈمنسٹریٹر کو ہدایت کی کہ وہ عدالتی حکم پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سڑک کے اطراف کسی قسم کی نئی تجارتی سرگرمی کی اجازت نہ دی جائے۔ اس سلسلے میں پاکستان ریلوے حکام کو بھی باضابطہ طور پر آگاہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔سماعت کے دوران سوئی سدرن گیس کمپنی کے نمائندوں، منیجر لٹیگیشن مخدوم الرحمٰن اور چیف مینیجر شہزاد جلیل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ گیس سپلائی لائن کی منتقلی سے متعلق مسائل حل کر لیے گئے ہیں اور ضروری کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اسفالٹ کنکریٹ پلانٹ کے قیام سے متعلق معاملہ بھی حل کر لیا گیا ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ پولیس حکام کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے۔عدالت نے اس موقع پر تمام سرکاری افسران، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور درخواست گزار سید نذیر آغا ایڈووکیٹ کی جانب سے منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ مقررہ ٹائم لائن کے مطابق تمام ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔عدالت نے حکم دیا کہ اس آرڈر کی کاپی ایڈووکیٹ جنرل و ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر کو ارسال کی جائے تاکہ متعلقہ حکام کو آگاہ کر کے احکامات پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ مزید سماعت 12 مارچ 2026 تک ملتوی کر دی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں