کوئٹہ(این این آئی) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے لیے مالی سال 2025-26 کے دوران محصولات کے ہدف کا حصول ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے ایف بی آر کو اب تک تقریباً 500 ارب روپے ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے، جو مالی سال کے اختتام یعنی جون 2026 تک مزید بڑھنے کا خدشہ ہے.یہی صورتحال برقرار رہی تو حکومت کے لیے بجٹ خسارے کو قابو میں رکھنا اور ترقیاتی اخراجات جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ایف بی آر ٹیکس وصولی کا طے شدہ ہدف حاصل نہیں کر سکا ایک طرف ملک میں معاشی سست روی اور صنعتی سرگرمیوں میں کمی ہے تو دوسری جانب ٹیکس نظام میں موجود کمزوریاں، ٹیکس چوری اور محدود ٹیکس بیس بھی اہم عوامل ہیں پاکستان میں اب بھی بڑی تعداد میں ایسے شعبے موجود ہیں جو ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں، جس کی وجہ سے قومی خزانے کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادرنے کہا ہے کہ مہنگائی کی شرح بھی تشویشناک حد تک بڑھ رہی ہے حالیہ ہفتوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافے نے مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے یہی رجحان جاری رہا تو آئندہ مہینوں میں مہنگائی کی شرح 10 فیصد سے تجاوز کر جائے گی جس سے عام شہری کی زندگی مزید مشکل ہو جائے گی ٹرانسپورٹ، بجلی اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست عوام پر اثر انداز ہو رہا ہے حکومت کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ٹیکس نظام میں اصلاحات، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، غیر دستاویزی معیشت کو دستاویزی بنانا اور غیر ضروری اخراجات میں کمی ناگزیر ہو چکی ہے وزیراعظم شہباز شریف کے لیے یہ صورتحال ایک بڑا امتحان بن چکی ہے۔ اگر بروقت اور دانشمندانہ فیصلے نہ کیے گئے تو نہ صرف مالیاتی خسارہ بڑھے گا بلکہ مہنگائی اور معاشی دباؤ بھی شدت اختیار کر جائے گا حکومت فوری اصلاحات کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے تاکہ عوام کو مزید معاشی مشکلات سے بچایا جا سکے۔

