کوئٹہ(این این آئی) گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے ہماری انتھک کاوشوں اور کڑی نگرانی کی بدولت یونیورسٹی آف بلوچستان نے مختلف بحرانوں پر قابو پا کر ترقی کی طرف گامزن کیا ہے۔ یہ پیش رفت حکومتی اقدامات اور یونیورسٹی کے اساتذہ کی تعلیم دوستی کا نتیجہ ہے۔ کارکردگی میں بہتری یونیورسٹی کے مجموعی تعلیمی معیار کو بڑھانے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے تاہم ترقی کی نئی منازل طے کرنے کیلئے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت بلوچستان کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں اور ان کے کیمپسز کی اضافی اراضی “اولیو پروموشن پراجیکٹ” کے تحت لانے کے منصوبے کو خوش آئند قرار دیا جس کے 30 فیصد اخراجات یونیورسٹی اور 70 فیصد وفاقی حکومت برداشت کریگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی آف بلوچستان کے بارہویں سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر معزز جسٹس اقبال احمد کاسی بلوچستان ہائی کورٹ، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہورِ بازئی، صوبائی سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن صالح بلوچ، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان کلیم اللہ بابر، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندے ڈاکٹر خالد حفیظ، فنانس ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل سیکرٹری، پرووائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر غلام رزاق شاہوانی اور رجسٹرار طارق جوگیزئی سمیت یونیورسٹی آف بلوچستان کے سینت تمام ممبران موجود تھے. گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے ہدایت کی کہ یونیورسٹی کوالٹی ایجوکیشن کی فراہمی کو یقینی بنانے اور غیر ضروری اخراجات کم کرنے کیلئے مزید اقدامات اٹھائیں۔ پروموشن میں میریٹ کی پاسداری کو یقینی بنائیں تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو۔ یونیورسٹی آف بلوچستان کے گیارہویں سینٹ اجلاس میں موجود شرکا کے سفارشات اور تجاویز کی روشنی میں کئی اہم فیصلے کیے

