بلوچستان ہائی کورٹ نے الیکٹرک گاڑیوں کے منصوبے، کوئٹہ شہر میں نئے ٹریفک سگنلز کی تنصیب سے متعلق رپورٹ طلب کرلی

کوئٹہ (این این آئی)بلوچستان ہائی کورٹ نے الیکٹرک گاڑیوں کے منصوبے، کوئٹہ شہر میں نئے ٹریفک سگنلز کی تنصیب سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔بدھ کو بلوچستان ہائی کورٹ میں کوئٹہ شہر میں ٹریفک مسائل اور پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتری سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔سماعت کے دوران آرڈر I رول 10 بمعہ سیکشن 151 سی پی سی کے تحت دائر CMA نمبر 85/2026 پر غور کیا گیا، جس میں دو وکلاء نے بطور مداخلت کار درخواست میں فریق بننے کی استدعا کی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ کوئٹہ شہر میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل کے باعث روزانہ مسافروں، طلبہ، بزرگ شہریوں، خواتین، معذور افراد اور دیگر شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ، ٹریفک سگنلز، ٹریفک قوانین کے موثر نفاذ اور محفوظ ٹریفک ماحول کی فراہمی شہریوں کا بنیادی حق ہے۔درخواست گزار کے وکیل محمد ارسلان ایڈووکیٹ اور معاون وکیل نے مداخلت کی درخواست پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے مداخلت کرنے والے وکلاء کو بطور درخواست گزار شامل کرنے کی اجازت دے دی اور ہدایت کی کہ وہ درخواست کا ترمیم شدہ عنوان (Amended Title) عدالت میں جمع کرائیں۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (QDA) کے وکیل نے CMA نمبر 4649/2025 اور 664/2026 کے جواب جمع کرانے کے لیے مزید وقت طلب کیا جسے عدالت نے منظور کر لیا۔اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل سیف اللہ درانی نے ٹریفک پولیس کوئٹہ کی جانب سے پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔ رپورٹ کے مطابق ٹریفک پولیس نے خستہ حال اور ناقص لوکل بسوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 68 بسیں تحویل میں لے لی ہیں اور ایسی بسوں کو سڑکوں پر چلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اس کے علاوہ غیر قانونی رکشوں، ٹینٹڈ شیشوں اور فینسی نمبر پلیٹس کے خلاف بھی کارروائیاں کی گئی ہیں جبکہ ڈبل روڈ کوئٹہ پر غلط پارکنگ کے خلاف کریک ڈاون کیا گیا ہے۔ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA) کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ کوئٹہ–کچلاک روٹ پر 2022 ماڈل کوسٹرز متعارف کرائی گئی ہیں اور روٹ پرمٹ قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد جاری کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 21 نئی بسیں کوئٹہ پہنچ چکی ہیں جن میں سے 17 کوئٹہ شہر اور 4 تربت کے لیے مختص ہیں۔ ان میں 12 گرین بسیں عام مسافروں جبکہ 5 پنک بسیں خواتین مسافروں کے لیے شامل ہیں۔ اس وقت کوئٹہ شہر میں آپریشنل بسوں کی تعداد 25 ہو گئی ہے اور عوامی سہولت کے لیے بسوں کے روٹس میں بھی توسیع کی گئی ہے۔مشترکہ کارروائیوں کے دوران 44 غیر قانونی رکشے ضبط جبکہ 19 جعلی پرمٹ بھی پکڑے گئے۔ مزید بتایا گیا کہ اب تک 7036 رکشوں کے مینوئل پرمٹ کمپیوٹرائز کیے جا چکے ہیں۔ محکمہ خزانہ نے سیکیورٹی پیپرز کی چھپائی کے لیے 1.2 ملین روپے جاری کیے ہیں جبکہ 5000 سیکیورٹی پیپرز کی چھپائی کا آرڈر پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کراچی کو دیا گیا ہے۔آر ٹی اے نے ٹریفک پولیس کو پرانی اور خستہ حال بسوں کے خلاف مزید سخت کارروائی کی بھی درخواست کی ہے۔ اسی طرح کوئٹہ شہر میں اجازت یافتہ رکشوں اور واٹر ٹینکرز کی نقل و حرکت کو منظم کرنے کے لیے RFID ٹیگنگ کے منصوبے کے تحت 8.8 ملین روپے کی سمری محکمہ خزانہ کو ارسال کی گئی ہے۔ ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے واٹر ٹینکرز کی آمد و رفت کو صبح 11 بجے سے دوپہر 3 بجے تک محدود کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔سماعت کے دوران بلوچستان پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر فیصل خان بھی عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کو الیکٹرک گاڑیوں کے منصوبے سے متعلق آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں موصول ہونے والی بولیوں پر غور جاری ہے اور امکان ہے کہ آئندہ ماہ کے اختتام تک اس حوالے سے پیش رفت ہو جائے گی۔ عدالت نے انہیں آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔اسی طرح بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو کے پراجیکٹ ڈائریکٹر محمد صادق نے عدالت کو بتایا کہ کوئٹہ شہر میں نئے ٹریفک سگنلز کی تنصیب کے منصوبے کا خاکہ مکمل ہو چکا ہے اور مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد اس پر کام شروع کر دیا گیا ہے جو آئندہ ماہ کے آخر تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔ عدالت نے انہیں بھی آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔عدالت نے درخواست گزار محمد آصف کو ہدایت کی کہ وہ حتمی دلائل کے لیے اپنے وکیل کی آئندہ سماعت پر حاضری یقینی بنائیں۔ عدالت نے حکم کی نقل ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر کو بھی ارسال کرنے کی ہدایت کی تاکہ متعلقہ حکام کو آگاہ کیا جا سکے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 مارچ 2026 تک ملتوی کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں