کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان ہائی کورٹ میں چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مختلف سڑک منصوبوں سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت کی، جس کے دوران عدالت کو منصوبوں کی پیش رفت اور درپیش تکنیکی و مالی مسائل سے آگاہ کیا گیا۔سماعت کے دوران ژوب۔میر علی خیل روڈ منصوبے کے پراجیکٹ ڈائریکٹر نذر جان نے عدالت کو بتایا کہ کنسٹرکشن کمپنی (جواب دہندہ نمبر 6) کی جانب سے پیش کردہ تجویز کے مطابق ابتدائی طور پر منصوبے میں تقریباً 300 ملین روپے کی بچت متوقع تھی، تاہم بعد ازاں کام کے دائرہ کار میں تبدیلی کرتے ہوئے مزید دو پل کی تعمیر شامل کر دی گئی جس کے باعث منصوبے پر تقریباً 2.5 ارب روپے اضافی لاگت آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے میں اس نوعیت کی تبدیلی پراجیکٹ ڈائریکٹر یا بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (بی ڈی اے) کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے میں تکنیکی نوعیت کے مسائل موجود ہیں اور ممکنہ طور پر حکومت بلوچستان کو اضافی فنڈز درکار ہوں گے، اس لیے عدالت فی الحال اس مرحلے پر کوئی حتمی حکم جاری کرنا مناسب نہیں سمجھتی۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ متعلقہ حکام اگر مناسب سمجھیں تو اس معاملے کو متعلقہ فورمز پر اٹھا سکتے ہیں، لیکن منصوبے میں مزید تاخیر کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی قسم کا عذر برداشت کیا جائے گا۔دوران سماعت سپیرا راغہ روڈ منصوبے کے ایس ڈی او حبیب اللہ نے عدالت کو بتایا کہ منصوبے پر 95 فیصد ارتھ ورک، 80 فیصد سٹرکچر ورک اور 65 فیصد بلیک ٹاپ کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ اس موقع پر لورالائی سے تعلق رکھنے والے وکیل حمید اللہ ناصر ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور مذکورہ بیان سے اختلاف کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے خود اس سڑک پر سفر کیا تھا لیکن سائٹ پر کسی قابل ذکر پیش رفت کا مشاہدہ نہیں ہوا اور صرف زمین کا ابتدائی کام نظر آیا۔اس صورتحال پر عدالت کے استفسار کے بعد ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے رضاکارانہ طور پر منصوبے کی حقیقت جاننے کے لیے مشترکہ دورے کی پیشکش کی۔ عدالت نے ہدایت کی کہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، درخواست گزار کے وکیل دوست محمد مندوخیل، بی ڈی اے کے وکیل نصیر احمد کاکڑ، حمید اللہ ناصر ایڈووکیٹ، ژوب۔میر علی خیل روڈ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر اور بی ڈی اے کے اسسٹنٹ انجینئر حبیب اللہ کاکڑ مشترکہ طور پر سائٹ کا دورہ کریں۔عدالت نے حکم دیا کہ مذکورہ وفد 26 مارچ تک منصوبے کے مقام کا دورہ کرکے اور اپنی تفصیلی رپورٹ 28 مارچ تک عدالت میں جمع کرائے۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 مارچ 2026 تک ملتوی کر دی اور حکم نامے کی نقل متعلقہ حکام کو معلومات اور عملدرآمد کے لیے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر کے ذریعے ارسال کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔

