کوئٹہ(این این آئی) اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے ترجمان نے ایک بیان میں گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے بعض اساتذہ دشمن افسر شاہی کے اشاروں پر جامعہ بلوچستان سمیت صوبے کی تمام جامعات میں گریڈ 20 اور 21 کے سینئر اساتذہ کرام اور افسران کو دیے جانے والے اردلی الاؤنس کو ختم کرنے کے لیے ایک غیر قانونی نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا۔ترجمان کے مطابق اس اقدام کے خلاف معاملہ معزز عدالتِ عالیہ میں پیش کیا گیا جس پر عدالت نے اپنے واضح حکم کے ذریعے مذکورہ نوٹیفیکیشن کو معطل کرتے ہوئے جامعات کے اساتذہ اور افسران کو اردلی الاؤنس کی ادائیگی جاری رکھنے کی ہدایت دی۔بیان میں مزید کہا گیا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ معزز عدالتِ عالیہ کے واضح احکامات کے باوجود جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر نے اس حکم پر عمل درآمد نہیں کیا۔ اس عمل کے ذریعے نہ صرف عدالت کے احکامات کو نظر انداز کیا گیا بلکہ عملاً توہینِ عدالت کے مترادف اقدام بھی کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق وائس چانسلر نے کسی تحریری نوٹیفیکیشن کے بغیر محض زبانی احکامات کے ذریعے اساتذہ اور افسران کے لیے منظور شدہ اردلی الاؤنس کی ادائیگی روک دی، جو کہ نہ صرف غیر مناسب بلکہ قواعد و ضوابط کے بھی منافی ہے۔اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے ترجمان نے اپنے بیان میں معزز چیف جسٹس بلوچستان سے اس صورتحال کا فوری نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عدالتِ عالیہ کے احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ ساتھ ہی وائس چانسلر جامعہ بلوچستان سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ معزز عدالتِ عالیہ کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے فوری طور پر اساتذہ اور افسران کے لیے اردلی الاؤنس کی ادائیگی بحال کریں، جیسا کہ ملک کی دیگر جامعات میں اس پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔

