اوتھل(این این آئی) معروف دینی درسگاہ مدرسہ ام القریٰ اور جامع مسجد فاروق اعظم زہری کالونی حب کے زیرِ اہتمام ختمِ القرآن اور دستارِ فضیلتِ حفاظِ کرام کی ایک باوقار اور روح پرنور تقریب منعقد ہوئی یہ بابرکت محفل قرآنِ مجید سے محبت اور دینی مدارس کی عظیمخدمات کوخراجِ عقیدت پیش کرنیکاایک حسین مظہر تھی علاقے کے علماء کرام، معززین اور عوام الناس کی بڑی تعداد نیشرکت کرکے اس مبارک موقع کی رونق کو دوبالا کیا تقریب کیمہمانِ خصوصی جمعیت علماء اسلام تحصیل حب کے امیر مفتی عبدالولی اور ممتاز عالمِ دین مولانا عبدالوھاب عمرانی تھے۔ اس روحانی اجتماع میں حفاظِ کرام کی دستار بندی کی گئی اور ان کی علمی و روحانی کامیابی پر انہیں مبارکباد پیش کی گئی اپنے خطاب میں مفتی عبدالولی نے قرآنِ مجید کی عظمت، اس کی ابدی ہدایت اور دینی مدارس کے روشن کردار پر نہایت مدلل اور اثر انگیز گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس کوئی نئی ایجاد نہیں بلکہ ان کی بنیاد اسی وقت رکھ دی گئی تھی جب حضور اکرم کو نبوت سے سرفراز کیا گیا درحقیقت اسلامی تعلیم کا آغاز اسی لمحے سے ہوا جب وحی کا نزول شروع ہوا اور نبی کریم نے انسانیت کو اللہ کے کلام کی تعلیم دینا شروع کی مسجد نبوی کے صفہ میں قائم ہونے والا پہلا تعلیمی مرکز بعد کے دینی مدارس کی بنیاد بنا جہاں صحاب کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآن و سنت کی تعلیم حاصل کرتے اور پھر اسے دنیا کے کونے کونے تک پہنچاتے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ حضور اکرم کی بعثت کے جو عظیم مقاصد قرآنِ مجید میں بیان ہوئے ہیں، ان میں اللہ کی آیات کی تلاوت کرنا انسانوں کے دلوں اور کردار کا تزکیہ کرنا، امت کو کتابِ الٰہی یعنی قرآنِ مجید کی تعلیم دینا اور انہیں دین کے احکام و حکمت سے آگاہ کرنا شامل ہیں مفتی عبدالولی نے کہا کہ آج کے دینی مدارس انہی مقدس مقاصد کی تکمیل میں مصروفِ عمل ہیں۔ یہ مدارس قرآن کی تلاوت کی روحانی فضا کو زندہ رکھتے ہیں افرادِ معاشرہ کی اخلاقی اور روحانی تربیت کرتے ہیں اور امت مسلمہ کو دینِ اسلام کی صحیح تعلیمات سے روشناس کراتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انہی مدارس کی بدولت قرآنِ مجید قیامت تک محفوظ رہنے والی کتاب کی حیثیت سے نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے ہزاروں نوجوان اپنے سینوں میں قرآنِ مجید کو محفوظ کر کے امت کے لیے روشنی کے چراغ بن رہے ہیں۔ یہ حفاظِ کرام دراصل قرآن کے محافظ اور دین کے سفیر ہوتے ہیں جو معاشرے میں علم، تقویٰ اور ہدایت کی شمع روشن کرتے ہیں تقریب سے معروف عالم دین حضرت مولانا عبدالسلام محسود نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے حفاظِ کرام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ قرآنِ مجید کی خدمت دنیا اور آخرت دونوں میں عظیم سعادت کا باعث ہے۔ جو نوجوان قرآن کو اپنے سینوں میں محفوظ کرتے ہیں وہ امت کے لیے باعثِ فخر ہوتے ہیں انہوں نے والدین کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے اپنے بچوں کو دینی تعلیم کے لیے وقف کیا اور انہیں قرآنِ مجید کی دولت سے مالا مال کیا۔اس بابرکت تقریب میں جمعیت علماء اسلام تحصیل حب کے نائب امیر مفتی عبدالسلام محسود مولانا عبدالرشید، مولانا قاری محمد ہاشم خراسانی، مفتی شکیل نور محمدشہی، مولانا عبدالکریم ترمزی، مفتی سعید احمد ثاقب، مفتی نذیر احمد، مولانا عنایت اللہ فاروقی، مولانا رشد اللہ، حاجی ثناء اللہ زہری، نوراللہ، امیر رسول بخش، بھائی محمد صادق، یاسین نذیر سمالانی، میر محمد رحیم جتک، میر محمد یوسف جتک اور دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔تقریب کے اختتام پر حفاظِ کرام کی دستار بندی کی گئی اور ان کے سروں پر فضیلت کی دستار سجائی گئی۔ اس موقع پر حاضرین نے دعا کی کہ یہ نوجوان حفاظ مستقبل میں قرآنِ مجید کی تعلیمات کو عام کرنے اور معاشرے کی اصلاح میں نمایاں کردار ادا کریں۔ آخر میں ملک و ملتِ اسلامیہ کی سلامتی، اتحاد و اتفاق، اور عالمِ اسلام کی سربلندی کے لیے خصوصی دعا کی گئی یہ عظیم الشان تقریب اس حقیقت کا عملی اظہار تھی کہ دینی مدارس آج بھی اسلام کی علمی، روحانی اور اخلاقی روایت کے امین ہیں۔ یہی ادارے قرآنِ مجید کی روشنی کو نسل در نسل منتقل کر رہے ہیں اور امتِ مسلمہ کی دینی و فکری رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔

