کوئٹہ، کیسکوکی جانب سے شمسی توانائی پر منتقلی منصوبہ کے پانچویں مرحلہ پر کام شروع

کوئٹہ(این این آئی)کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی(کیسکو)نے زرعی ٹیوب ویل کنکشنزکی شمسی توانائی پر منتقلی منصوبہ کے پانچویں مرحلے (فیزفائیو) پر کام شروع کردیاہے۔فیز فائیو میں شامل 1243زرعی صارفین کو حکومت کی جانب سے تقریباً2ارب 48کروڑ60لاکھ روپے (2.486بلین) کی ادائیگی بھی کردی گئی ہے۔جس کے بعد کیسکوٹیموں کی جانب سے پانچویں مرحلے (یعنی فیزفائیو)میں شامل زرعی کنکشنز منقطع کرکے اُن سے منسلک زرعی ٹرانسفارمرز، بجلی کے کھمبے اور دیگر آلات بھی ہٹائے جارہے ہیں تاکہ یہ مذکورہ زرعی کنکشنزدوبارہ کیسکونیٹ ورک سے منسلک نہ ہوسکیں۔ حکومت کی جانب سے صوبہ کے تمام زرعی ٹیوب ویل کنکشنوں کی سولرائزیشن منصوبہ شروع کیاگیاتھا جس کے تحت صوبہ کے تمام زمینداروں کو مرحلہ وار فیزون، فیز ٹو، فیز تھری، فیزفوراورفیز فائیو کے تحت شمسی توانائی پرمنتقلی کیلئے رقم کی ادائیگی کردی گئی ہے۔ پہلے مرحلہ(یعنی فیز ون) میں شامل زرعی صارفین کو حکومت کی جانب سے5.398بلین روپے کی ادائیگی کے بعد2699 زرعی کنکشنزمنقطع کردئیے گئے۔ منصوبہ کے دوسرے مرحلے (یعنی فیزٹو)کے تحت 3729زرعی صارفین کوحکومت کی جانب سے7.458بلین روپے سولرائزیشن کی مدمیں جاری ہونے کے بعدمذکورہ زرعی کنکشنز کیسکو نیٹ ورک سے منقطع کردئیے گئے۔ اسی طرح اس منصوبہ کے تیسرے مرحلے(یعنی فیزتھری)کے تحت 14بلین روپے کی ادائیگی کے بعد کیسکوٹیموں نے 7000 زرعی کنکشنزمنقطع کردئیے۔سولرائز یشن منصوبہ کے فیز فور کیلئے حکومت کی جانب سے 24.5بلین روپے جاری کرنے کے بعد کیسکونے فیز فورمیں شامل 12ہزار250زرعی کنکشنز منقطع کردئیے اور اب فیز فائیو کیلئے حکومت کی جانب سے تقریباً2ارب 48کروڑ60لاکھ روپے (2.486بلین) کی ادائیگی کے بعدکیسکونے 1243زرعی کنکشنز منقطع کرنے کاسلسلہ شروع کردیاہے اور اس طرح حکومت کی جانب سے شمسی توانائی پرمنتقلی منصوبہ کے سلسلے میں صوبہ بلوچستان کے26ہزار 921 زرعی صارفین کو مجموعی طورپر53.842بلین روپے کی رقم ادا کردئیے گئے ہیں۔شمسی توانائی پر منتقلی اوررقوم کی ادائیگی کے بعد صوبہ کے بعض علاقوں میں کچھ زرعی صارفین نے زرعی ٹرانسفارمرز، ایچ ٹی کھمبے اور اُن سے منسلک برقی آلات کیسکوکوواپس کردئیے جبکہ دیگر زرعی صارفین نے عدم تعاون کرتے ہوئے ابھی تک مذکورہ زرعی ٹرانسفارمرز، ایچ ٹی کھمبے اور ان سے منسلک برقی آلات کیسکوٹیموں کے حوالے نہیں کئے ہیں سولرائزیشن منصوبہ کے مطابق حکومت کی جانب سے فی کس زمینداروں کو20لاکھ روپے کی ادائیگی کے بعد زرعی صارفین اپنے ٹرانسفارمرز،کھمبے اور دیگر برقی آلات کیسکوکو واپس کرنے کے پابندہیں جسکے لئے صوبائی حکومت کی جانب سے بلوچستان زرعی سولرائزیشن اور بجلی چوری کی روک تھام کامسودہ قانون مصدرہ2025 بھی منظوری ہوچکی ہے اوراس قانون کے تحت جن زمینداروں کو رقم مل چکی ہے اور اُنہوں نے ابھی تک ٹرانسفارمرز، کھمبے اور برقی آلات واپس نہیں کئے ہیں تو اُن کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اب تک شمسی توانائی پر منتقل ہونے والے زمینداروں کی جانب سے 14ہزار447زرعی ٹرانسفارمرزاور اُن سے منسلک دیگر برقی آلات کیسکوکوواپس کردئیے گئے ہیں جبکہ مختلف آپریشن سرکلز میں زرعی صارفین نے 12ہزار474ٹرانسفارمرزاور ان سے منسلک دیگر برقی آلات رقوم ملنے کے باوجود تاحال کیسکوکو واپس نہیں کئے ہیں۔کیسکونے شمسی توانائی پر منتقل ہونے والے تمام زرعی صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے زرعی کنکشن سے منسلک ٹرانسفارمرزاور دیگر برقی آلات کی واپسی کے عمل میں کیسکوسے تعاون کریں تاکہ یہ منصوبہ جلد پایہ تکمیل تک پہنچائی جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں