تہران خطے میں اسٹریٹجک پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب دکھائی دیتا ہے، سینیٹر محمد عبدالقادر

کوئٹہ(این این آئی)چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور ایران کے خلاف بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں کو عالمی سطح پر خاطر خواہ پذیرائی نہیں مل سکی کئی اہم ممالک نے نہ صرف امریکہ کے اس مطالبے سے فاصلہ اختیار کیا بلکہ ایران کے خلاف کسی بھی براہِ راست فوجی کاروائی کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے بھی صاف انکار کردیا ہے اسپین، سوئٹزرلینڈ اور اٹلی کی جانب سے فضائی حدود فراہم نہ کرنا اس بات کی واضح علامت ہے کہ یورپی ممالک اس بحران میں براہِ راست فریق بننے سے احتراز کر رہے ہیں آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادرنے کہا ہے کہ امریکہ کی کوشش تھی کہ عالمی طاقتیں ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کریں اور خطے میں اس کی حکمتِ عملی کا حصہ بنیں، مگر عالمی برادری کی محتاط پالیسی نے اس منصوبے کو محدود کر دیا۔ یہ صورتحال ایران کی سفارتی کامیابی ہے. تہران خطے میں اپنی اسٹریٹجک پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب دکھائی دیتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر دباؤ بڑھانے کی مختلف کوششوں کے باوجود اب تک کوئی واضح اسٹریٹجک کامیابی سامنے نہیں آئی۔ نہ تو ایران کی دفاعی صلاحیت کو فیصلہ کن نقصان پہنچایا جا سکا اور نہ ہی اسے خطے میں اپنی پالیسیوں سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جا سکا ہے۔ اسکے برعکس ایران نے سیاسی، سفارتی اور عسکری سطح پر اپنی مزاحمتی حکمت عملی کو برقرار رکھا ہے۔ موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن اب پہلے جیسا یک طرفہ نہیں رہا۔ عالمی برادری بڑی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود براہِ راست تصادم سے گریز کر رہی ہے، جبکہ ایران خطے میں اپنی سفارتی اور دفاعی موجودگی برقرار رکھنے میں کامیاب ہے۔ امریکی حکمتِ عملی ناکام اور ایران کی علاقائی سفارتی کامیاب ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں