موجودہ پراسیکیوٹر جنرل کو بر طرف، سینئر وکلاء میں سے موزوں شخصیت کو تعینات کیا جائے، سید ظہور آغا

کوئٹہ(این این آئی) پیپلز لائرز فورم بلوچستان کے سینئر رہنما سید آغا ظہور شاہ نے ایڈووکیٹ سید آغا ظہور شاہ (سینئر ایڈووکیٹ، پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان و سابق سیکرٹری انفارمیشن پیپلز لائرز فورم بلوچستان و موجودہ صوبائی ایگزیکٹو ممبر)، سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ ارباب فیاض، سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نصرت بلوچ، سینئر ایڈووکیٹ و سابق صدر پیپلز لائرز فورم بلوچستان انوار الحق کاکڑ اللہ والا، سینئر ایڈووکیٹ زعفران علی خان لونی، سینئر ایڈووکیٹ گل جتوئی، ایڈووکیٹ عدنان ابڑو، ایڈووکیٹ کامران، سینئر ایڈووکیٹ انور کاکڑ، سینئر ایڈووکیٹ شراف الدین، سینئر ایڈووکیٹ حمید کاکڑ، ایڈووکیٹ کلیم اللہ محمد شیخ، ایڈووکیٹ وزیر، ایڈووکیٹ تنویر شاہ وانی، ایڈووکیٹ علی خان کاکڑ، ایڈووکیٹ خالد خان اچکزئی، ایڈووکیٹ ہارون آفاق، ایڈووکیٹ نصر اللہ کاکوزئی، ایڈووکیٹ ریحان بابر، ایڈووکیٹ سمیع کاکڑ، ایڈووکیٹ غفار رند، ایڈووکیٹ ریحانہ، ایڈووکیٹ مولا داد بریچ، ایڈووکیٹ شراف الدین کاکڑ، ایڈووکیٹ شمس الدین کاکڑ، نے پارٹی کی اعلیٰ قیادت، وزیر اعلیٰ بلوچستان اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ آئین اور متعلقہ قوانین کے مطابق پراسیکیوٹر جنرل کے عہدے کے لیے لازم ہے کہ امیدوار کی عمر کم از کم 45 سال ہو اور اسے ہائی کورٹ میں کم از کم 10 سال ہائی کورٹ کی عملی وکالت کا تجربہ حاصل ہو۔ ان کے بقول موجودہ پراسیکیوٹر جنرل نہ تو مقررہ تجربہ رکھتے ہیں اور نہ ہی عمر کی اس شرط پر پورا اترتے ہیں، اس لیے وہ اس اہم آئینی عہدے کے لیے اہل نہیں ہیں۔سید آغا ظہور شاہ نے مزید کہا کہ موجودہ پراسیکیوٹر جنرل بیک وقت ایک سیاسی جماعت کا عہدہ بھی رکھتے ہیں اور سرکاری منصب پر بھی فائز ہیں، جو کہ واضح طور پر مفادات کے ٹکراؤ کی مثال ہے اور آئینی و قانونی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ مذکورہ افسر ماضی میں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم میں ملوث رہے ہیں اور اب مستقبل میں بھی تقرریوں میں اسی طرز عمل کا خدشہ ہے، لہٰذا انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جانا چاہیے تاکہ شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے حکومت بلوچستان سے پرزور مطالبہ کیا کہ پراسیکیوٹر جنرل کے عہدے سے پوری طور پر بر طرف کر کے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر، تجربہ کار اور طویل عرصہ سے وابستہ اہل وکلاء میں سے کسی موزوں شخصیت کو تعینات کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ تعیناتی میرٹ، شفافیت اور تنظیمی اصولوں کے منافی ہے، جسے فوری طور پر درست کرنے کی ضرورت ہے۔ اور عید کے فورا بعد اس طرح کے عناصر مفاد پرست اور شہید بٹھو کی پارٹی میں جیالوں اور ووکلا کے ساتھ انتہائی سخت زیادتی کرنے والے ہر مفاد پرست کو سیاسی طور پر بے نقاب کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں