پاکستان کے میزائل پروگرام پر امریکی بیان مبالغہ آمیزہے،شہدائے وطن میڈیا سیل

اسلام آباد(اے ایس این) امریکی کانگریس کے سامنے پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل پروگرام کو امریکہ کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیئے جانے پر ملک بھر کی طرح آزاد کشمیر میں بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔سابق فوجیوں اور لواحقین شہداء کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کو اپنی سلامتی کے تحفظ کیلئے کسی بھی دفاعی اقدام کا حق حاصل ہے،امریکی سینٹ میں دئیے گئے بیان کاوقت یہودی لابی کی کارستانی ہوسکتی ہے، ورنہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ نازک صورتحال میں امریکا، مذید کسی بدگمانی کا متحمل نہیں ہے۔جبکہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے اس بیان کو غیر ضروری اور یکطرفہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک کا میزائل پروگرام مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا حامل ہے، جس کا مقصد خطے میں اسٹریٹجک توازن برقرار رکھنا اور قومی خودمختاری کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ پاکستان کی دفاعی پالیسی کسی بھی جارحانہ عزائم پر مبنی نہیں بلکہ علاقائی امن کو برقرار رکھنے کے اصولوں کے تحت تشکیل دی گئی ہے۔آزاد کشمیر میں سابق فوجی افسران کرنل محمد حیات،میجرطاہرعلی کاظمی،کیپٹن محمد رقیب،ایم ایم شبیراحمد اور
فاؤنڈرچیئرمین شہدائے وطن میڈیا سیل آغا سفیرحسین کاظمی نے بھی امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے مبالغہ آمیز قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے اور اس کے تمام دفاع اقدامات عالمی قوانین اور حفاظتی اصولوں کے مطابق ہیں۔ ان کے مطابق ایسے بیانات خطے میں غیر ضروری کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔شہداء کے لواحقین نے بھی اس معاملے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے دفاعی اداروں پر تنقید نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ ان قربانیوں کی بھی نفی ہے جو ملک کے دفاع کے لیے دی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے اقدامات کو سیاسی یا سفارتی تناظر میں متنازع بنانے سے گریز کیا جانا چاہیے۔دفاعی ماہرین کے مطابق موجودہ عالمی اور علاقائی صورتحال میں پاکستان کا میزائل پروگرام نہایت اہمیت کا حامل ہے، جو نہ صرف ملک کے دفاع کو مضبوط بناتا ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو بھی برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔آزاد کشمیر کے مختلف حلقوں، خصوصاً سابق فوجیوں نے پاکستان کی قیادت کی پالیسیوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ملک نے ہمیشہ ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا ہے اور عالمی سطح پر اعتماد سازی کے لیے بھی مثبت اقدامات کیے ہیں۔شہداء کے لواحقین نے اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کا دفاعی پروگرام مکمل طور پر حفاظتی نوعیت کا حامل ہے اور اس کا مقصد کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت نہیں بلکہ اپنی سرزمین اور عوام کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں