بلوچستان میں کوئلے کی کان میں زہریلی گیس بھرنے سے 2 کان کن جاں بحق

بلوچستان کے ضلع دکی میں کوئلے کی کان میں زہریلی گیس بھرنے سے دو نوجوان کان کن جاں بحق ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں کوئلہ کانوں میں ایک بار پھر موت کا کنواں ثابت ہوئی۔ ضلع دکی کے چمالنگ علاقے میں واقع ایک مقامی کوئلہ کان میں زہریلی گیس بھر جانے کے باعث دو نوجوان کانکن دم گھٹنے سے جاں بحق ہو گئے۔

یہ المناک واقعہ نہ صرف دو خاندانوں کو سوگوار کر گیا بلکہ صوبے بھر میں کانکنوں کی حفاظت کے حوالے سے ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھا گیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے دونوں کان کنوں کی شناخت گل ولد جمعہ خان اور نانائی ولد عبدالرحیم کے نام سے ہوئی ہے۔ دونوں کا تعلق اقوام علیزئی برادری سے تھا اور وہ افغانستان کے شہری تھے۔ جو روزی روٹی کی تلاش میں پاکستان آئے یہ دونوں مزدور چمالنگ کے اندھیرے کانوں میں محنت کر کے اپنے گھروں کا پیٹ پال رہے تھے۔

ذرائع کے مطابق حادثے کے وقت کان میں کام جاری تھا کہ اچانک زہریلی گیس (میتھین گیس) بھر گئی۔ گیس کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ دونوں کانکن چند لمحوں میں ہی بے ہوش ہو گئے اور موقع پر ہی ان کی روحیں پرواز کر گئیں، دیگر ساتھی کانکنوں نے شور مچایا اور فوری طور پر ریسکیو کرنے کی کوشش کی، مگر افسوس کہ تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔

ریسکیو ٹیموں نے لاشوں کو کان سے باہر نکالا جبکہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر قانونی کارروائی مکمل کی اور لاشوں کو ورثاء کے حوالے کر دیا۔

ورثاء نے لاشوں کو تدفین کے لیے اپنے آبائی علاقے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں