پنجگور(این این آئی)پنجگور انجمن تاجران کمیٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے خطے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے اور اس کے اثرات مکران خاص طور پر پنجگور اور تربت وغیرہ میں واضح طور پر نظر آ رہے ہیں.ترجمان نے خبردار کیا کہ ایل پی جی کی قیمتیں 2400 روپے سے بڑھ کر 3200 روپے تک پہنچ چکی ہیں اور یہ مصنوعی بحران عام شہریوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہو گیا ہے.انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے اور تحقیق کرنے کا مطالبہ کیا کہ آیا جنگ کی وجہ سے ایران سے سپلائی متاثر ہو رہی ہے یا ذخیرہ اندوزی کی جا رہی ہے سنی جانے والی اطلاعات کے مطابق ایل پی جی کی سپلائی صرف ایک مرکزی پوائنٹ سے کی جا رہی ہے اور ترجمان نے تجویز دی کہ اگر ممکن ہو تو ایک یا دو اضافی پوائنٹس کو بھی سپلائی کے لیے فعال کیا جائے تاکہ بحران مزید پیچیدہ نہ ہو.ترجمان نے کہا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ہر عام وخاص آدمی متاثر ہوگا خاص طور پر وہ مزدور جس کی یومیہ آمدنی تقریباً 1500 روپے ہے وہ کیسے اپنی بنیادی ضروریات جیسے راشن بچوں کی فیس ٹیکسی کا کرایہ بجلی بل ادویات علاج معالجہ کاپی قلم اور گھر کا خرچ اور دیگر اخراجات پورے کرے گا؟انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے.ایل پی جی کی سپلائی مقررہ مقدار میں یقینی بنائی جائے.قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے اور مصنوعی بحران کا خاتمہ کیا جائے تاکہ عام شہری مزید مشکلات کا سامنا نہ کرے.

