جعفرآباد و صحبت پور میں بجلی تار چوری، کئی علاقے عید پر اندھیرے میں

صحبت پور (عطا محمد کھوسہ ) عید کی خوشیوں میں جہاں روشنی نہ ہو، وہاں خوشیاں بھی مانند پڑ جاتی ہیں۔ عید کے موقع پر ضلع جعفرآباد اور نصیرآباد صحبت پور کے مختلف علاقوں میں بجلی کے تار چوری ہونے کے باعث کئی بستیاں اندھیرے میں ڈوب گئیں، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جعفرآباد کے علاقے مانجھوٹی، نصیرآباد کے نیاز علی عمرانی سمیت متعدد دیہات میں نامعلوم چور بجلی کے تار اور کھمبوں سے قیمتی سامان چرا کر فرار ہوگئے۔ یہاں تک کہ صوبائی وزیر و ایم پی اے انجینئر عبدالمجید بادینی کے آبائی گاؤں گل جہاں بھی تار چوری کے بعد مکمل اندھیرا چھایا ہوا ہے۔
مقامی رہنماؤں اور عمائدین، جن میں نیاز علی عمرانی، گل بروہی، نذیر احمد عمرانی، آغا ڈومکی، نور احمد عمرانی، عبدالغنی عمرانی، مولا بخش عمرانی، شیر محمد جکھرانی اور دیگر شامل ہیں، نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانچ سے چھ بجلی کے پولز کے تار چوری ہونے سے کئی گاؤں بجلی سے محروم ہو چکے ہیں، مگر تاحال بجلی کی بحالی کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔
انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں، خصوصاً کیسکو، سے سوال اٹھایا کہ آیا متاثرہ علاقوں کے صارفین کو بجلی بندش کے دوران بلوں میں ریلیف دیا جائے گا یا نہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ مسلسل خاموشی اور تاخیر سے نہ صرف عید کی خوشیاں ماند پڑ گئی ہیں بلکہ روزمرہ زندگی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر بجلی بحال کی جائے، چوری میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے، اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ منتخب نمائندے اور حکام عوامی مسائل کے حل کے لیے کب تک عملی قدم اٹھاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں