بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت-میانمار سرحد پر بارڈر فینسنگ میں مصروف آسام رائفلز کی ٹیم پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں متعدد بھارتی فوجی ہلاک و زخمی ہوگئے۔ حملہ چانگلانگ ضلع کے علاقے میں پانگساو پاس کے قریب بارڈر پلر 172 کے مقام پر پیش آیا۔
اطلاعات کے مطابق میانمار بارڈر پر حفاظتی باڑ لگانے والی ٹیم گھات لگا کر کیے گئے حملے کی زد میں آئی۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ کم از کم چار بھارتی فوجی ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے، زخمی اہلکاروں کو فوری طبی امداد کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ناگا علیحدگی پسند گروپ NSCN-KYA نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ یہ گروپ ماضی میں بھی بھارتی سیکیورٹی فورسز کو متعدد بار نشانہ بنا چکا ہے۔ واقعے کے بعد بھارتی فوج نے علاقے میں سرچ اور سیکیورٹی آپریشن شروع کر دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق چانگلانگ ضلع ماضی میں بھی شورش اور سیکیورٹی فورسز و باغیوں کے درمیان جھڑپوں کا مرکز رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت-میانمار بارڈر فینسنگ منصوبے پر مقامی آبادی کی جانب سے مخالفت بھی سامنے آ رہی ہے، جبکہ علیحدگی پسند گروہ “ناگالم” کے قیام اور مکمل آزادی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
دفاعی مبصرین کے مطابق انڈو-میانمار سرحد پر گھات لگا کر حملوں اور آئی ای ڈی دھماکوں کے ذریعے ماضی میں بھی بھارتی فورسز کو نقصان پہنچایا جاتا رہا ہے، جبکہ حالیہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ NSCN-KYA اب بھی فعال اور خطرناک گروہ ہے۔

