معروف اداکار حمزہ علی عباسی نے اپنی بہن ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف جاری تحقیقات کے معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے خود کو اس کیس سے مکمل طور پر الگ قرار دے دیا ہے۔
اپنے حالیہ بیان میں حمزہ علی عباسی نے کہا کہ میڈیا میں ان کا نام بلاوجہ اس کیس کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے، حالانکہ وہ نہ تو کسی قسم کی تحقیقات کا حصہ ہیں اور نہ ہی اس معاملے میں کسی حیثیت سے فریق ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کی بہن ایک کامیاب پروفیشنل ہیں اور بطور بھائی وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں، لیکن ان کے قانونی اور پیشہ ورانہ معاملات سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔
اداکار نے میڈیا سے مطالبہ کیا کہ آئندہ ان کا نام اس کیس کے ساتھ نہ جوڑا جائے، بصورت دیگر وہ قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ عدالتی کارروائی کے باعث اس معاملے پر مزید تبصرہ نہیں کریں گے، تاہم انہیں امید ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے اور حقیقت سامنے آئے گی۔
دوسری جانب عدالت نے ڈاکٹر فضیلہ عباسی کی درخواست، جس میں انہوں نے تحقیقات رکوانے اور کیس ختم کرنے کی استدعا کی تھی، مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے متعلقہ ادارے کو قانون کے مطابق تحقیقات جاری رکھنے کی ہدایت بھی دی ہے۔
تاہم عدالت کی جانب سے ایک جزوی ریلیف بھی دیا گیا ہے، جس کے تحت اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت لگائے گئے الزامات کو کالعدم قرار دیا گیا، جبکہ اب تحقیقات صرف فارن ایکسچینج قوانین تک محدود رہیں گی۔
ادھر پیش رفت میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب عدالت نے ڈاکٹر فضیلہ عباسی کی ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کی درخواست بھی مسترد کر دی، جس کے بعد متعلقہ ادارے نے ان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔

