کوئٹہ(این این آئی)جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، حاجی بشیر احمد کاکڑ، سیکرٹری اطلاعات عبدالغنی شہزاد، عبدالصمد حقیار، مفتی محمد ابوبکر، عبدالباری شہزاد، مولانا جمال الدین حقانی، مفتی رشید احمد حقانی، حاجی عطاء محمد شمشوزئی اور دیگر رہنماؤں نے کہا ہے کہ ملک میں شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد خواب بنتا جا رہا ہے۔ فارم 47 کے مروجہ طرزِ عمل نے عوام کے حقِ رائے دہی کو شدید متاثر کیا ہے یہ عمل جمہوری اقدار کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ زور و زر کی بنیاد پر عوامی رائے کے تقدس کو پامال کرنا کھلی ناانصافی اور جبر کے مترادف ہے۔ جبری طور پر مسلط کی گئی حکومتیں حقیقی معنوں میں عوام کی نمائندہ نہیں ہوتیں ان کے فیصلے عوامی امنگوں کے بجائے بااثر قوتوں کی خوشنودی کے تابع ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں مداخلت، نتائج میں رد و بدل اور شفافیت کے فقدان نے عوام کا موجودہ انتخابی نظام پر اعتماد متزلزل کر دیا ہے جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے نہایت تشویشناک امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک انتخابی عمل کو مکمل شفافیت، غیر جانبداری اور عوامی امنگوں کے مطابق استوار نہیں کیا جاتا اس وقت تک جمہوریت پر عوام کا اعتماد بحال ہونا ممکن نہیں۔

