کوئٹہ(این این آئی)اسلامی جمعیت طلبہ کے صوبائی مجلسِ شوریٰ کا تین روزہ اہم اجلاس جماعت اسلامی کے صوبائی ہیڈکوارٹر میں منعقد ہوا، جس میں تنظیم کے مرکزی وصوبائی ذمہ داران نے بھرپور شرکت کی۔اجلاس کی صدارت ناظمِ صوبہ احسان اللہ ناصرنے کی جبکہ سیکرٹری صوبہ ایاز خان کاکڑ بھی ان کے ہمراہ موجود رہے۔اجلاس میں ناظم کوئٹہ اخونزادہ عطاء الرحمن،اسسٹنٹ سیکرٹری صوبہ جنید ابراہیم،سیکرٹری کوئٹہ نصیب اللہ،صدر بزم ساتھی برہان صادق،نگران جامعات شاہد علی،نگران شمالی ریجن رفیع اللہ کاکڑ،ناظم نصیر آباد ریاض بگٹی،ناظم ژوب معین کاکڑ،ناظم لورالائی خدائے نور، ناظم پشین نعمت اللہ کھرل،ناظم خانوزئی کلیم اللہ،انچارج میڈیا روح اللہ خلجی اور انچارج تنظیم دین محمد بلوچ سمیت دیگر ذمہ داران شریک ہوئے۔اجلاس کے دوران تنظیمی فعالیت،طلبہ میں شعور بیدار کرنے، اور تعلیمی اداروں میں مثبت و تعمیری کردار ادا کرنے کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیکرمشاورت وفیصلے گیے گیے۔شرکاء نے طلبہ سیاست پر عائد پابندیوں کو جمہوری و تعلیمی اقدارکے منافی قرار دیتے ہوئے اس پر گہری تشویش کااظہار کیااوراس پابندی کے خاتمے کے لیے آئندہ لائحہ عمل پرغور کیا۔مزید برآں،صوبے بھر میں تعلیمی اداروں کی حالیہ بندش،ہاسٹلز کی بندش،طلبہ کو درپیش رہائشی مسائل، اور فیسوں میں مسلسل اضافے جیسے اہم معاملات پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ تعلیمی اداروں کی بندش سے طلبہ کا تعلیمی مستقبل شدید متاثر ہو رہا ہے، جس کے فوری تدارک کی ضرورت ہے۔اسلامی جمعیت طلباء بلوچستان کے صوبائی مجلسِ شوریٰ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تعلیمی اداروں کو فوری طور پر کھولا جائے،ہاسٹلز بحال کیے جائیں اور فیسوں میں بے جا اضافے کو واپس لیا جائے۔ اجلاس میں طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھانے اور پرامن جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر تنظیمی استحکام، طلبہ کے مسائل کے حل، اور تعلیمی ماحول کی بہتری کے لیے متعدد اہم فیصلے بھی کیے گئے، جن پر جلد عملدرآمد شروع کیا جائے گا۔

