کوئٹہ(این این آئی)صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ریاست نے قیامِ امن کے لیے سخت فیصلے کر لیے ہیں، دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی حکومت ہر دہشت گرد کے پیچھے جائے گی شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔یہ بات انہوں نے پیر کو سول سیکرٹریٹ کوئٹہ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات، معاون برائے وزیر داخلہ بابر یوسفزئی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے کہی۔ وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگونے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایات کے مطابق قیام امن کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں بلوچستان میں ریاست اور ریاستی اداروں کے علاوہ کسی کو اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی اور عوام کو ہتھیار رکھنے سے روکنے کے لیے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دشمن عناصر ملک میں بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں اور پاکستان مخالف قوتیں ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ ان کے بقول چند عناصر نے دہشت گردی کو کاروبار بنا رکھا ہے اور کم عمر بچوں، خواتین اور نوجوانوں کو دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جو قابل مذمت ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا عالمی انسانی حقوق کے ادارے معصوم افراد کے اس طرح استعمال کی اجازت دیتے ہیں۔میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر ملک ہے، تاہم وہاں کی صورتحال کے باعث مساجد، مدارس، سکولز اور حتیٰ کہ سیکیورٹی فورسز اور نمازی بھی محفوظ نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ 11 جنوری کو کوئٹہ میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات اس کی واضح مثال ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ بے روزگاری کے خاتمے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے اور بلوچستان کے عوام کو ملک کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں سرکاری خرچ پر علاج اور تعلیمی اداروں میں اسکالرشپس فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی صوبے کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرتے ہوئے بلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں۔وزیر داخلہ نے کہا کہ بلوچستان اس وقت غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے اور بڑی طاقتیں بھی اس صورتحال میں ملوث ہیں، تاہم ریاستی ادارے امن کے قیام کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومت کارروائی کرتی ہے تو اس پر تنقید کی جاتی ہے، لیکن ریاست کا واضح مؤقف ہے کہ امن و امان کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا کیونکہ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔اس موقع پر معاون وزیر داخلہ بابر یوسفزئی نے بتایا کہ گزشتہ رات دہشت گردوں نے کوئٹہ میں تخریب کاری کی، جس کے نتیجے میں ایک شہری جاں بحق جبکہ 11 زخمی ہوئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مستونگ اور جھل مگسی میں دہشت گردی کے حملوں کو ناکام بنایا گیا، جبکہ جھل مگسی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ایک دہشت گرد ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔

